Search
Close this search box.
جمعرات ,09 جولائی ,2026ء

فلسفہ معرکہ غزہ احد

(گزشتہ سے پیوستہ)
اور ان تعقیبات اور تبصروں میں خصوصاً معرکہ کار زار کے واقعات کے اندر سودی کاروبار سے بھی بحث کی گئی ہے اور سود خوری سے روکا گیا ہے جو بظاہر بے جوڑ نظر آتی ہے اور اس کے بعد یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہر اہم معاملے میں مشورہ ضرور کیا جائے اور اس پر عمل کیا جائے، اس کے باوجود کہ جنگ احد کے بارے میں جو شوریٰ ہوئی اور فیصلے ہوئے، اس کے نتائج بظاہر اچھے نہ نکلے تھے اور جنگ میں شکست ہوگئی تھی۔ یہ بات قابل تعجب ہے۔ (تفصیل بحث بعد میں آتی ہے)
پھر اس کے بعد قرآن کریم، اس موقعہ پر انسانی نفسیات پر بھی بحث کرتا ہے، انسانی زندگی کے مختلف پہلوئوں کو لیتا ہے۔ اس زندگی کے مختلف پہلوئوں اور مختلف حرکات کے مباحث کو ایک دوسرے کے اندر ملا دیا جاتا ہے۔ یہ مختلف النوع مباحث ایک دوسرے کے ساتھ منکامل نظر آتے ہیں اور بعض اوقات یہ عجیب نظر آتے ہیں۔
لیکن جو لوگ اس ربانی طریقہ کار سے واقف ہیں انہیں وسیع اور مختلف النوع مباحث کی ملاوٹ اور ایک دوسرے کے ساتھ گڈمڈ کرنے پر کوئی تعجب نہیں ہوتا، اس لئے کہ تحریک اسلامی جس معرکہ میں کو دی ہے، وہ صرف میدان کار زار ہی کا معرکہ نہیں ہے جس میں صرف اسلحہ، گھوڑے اور افراد کار اور سازوسامان درکار ہوتے ہیں یا زیادہ سے زیادہ جنگی تدابیر اور جنگی چالیں کام میں لائی جاتی ہیں بلکہ یہ ایک وسیع اور ہمہ گیر معرکہ ہوتا ہے اور میدانی جنگ اس کا ایک حصہ یا شعبہ ہوتا ہے۔ اصل معرکہ وہ عظیم کشمکش ہے اور تھی جو انسانی ضمیر کی دنیا میں برپا ہوتی ہے، یہ کشمکش اس وقت جماعت کی اجتماعی تنظیم کے اندر برپا تھی، اس معرکے کا تعلق انسانی ضمیر کی پاکیزگی سے تھا، انسانی ضمیر کو خالص اور خالی کرنا مقصود تھا اور اسے ان تمام آلودگیوں سے پاک کرنا مطلوب تھا، جن سے اس کی صفائی اور پاکیزگی متاثر ہوتی تھی اور انسانی ضمیر کو خالص اور خالی کرنا مقصود تھا اور اسے ان تمام آلودگیوں سے پاک کرنا مطلوب تھا، جن سے اس کی صفائی اور پاکیزگی متاثر ہوتی تھی اور انسانی ضمیر قرب الٰہی سے دور بیٹھ جاتا تھا۔ نیز اس معرکے کا تعلق ان تنظیمی امور سے بھی تھا جن پر جماعت مسلمہ کی زندگی کا دارومدار تھا، اسلامی نظام زندگی کے مطابق یعنی وہ شورائی نظام جس پر پوری اجتماعی زندگی کی عمارت اٹھائی گئی تھی، یعنی صرف نظام حکومت میں ہی نہیں بلکہ پوورے اسلامی نظام حیات میں جو باہم تعاون کے اصول پر قائم ہے اور جس میں سود خوری جیسا ظالمانہ نظام ممنوع ہے اس لئے کہ سود خوری اور باہم تعاون دو متضاد اصول ہیں۔
اسلام، جماعت مسلمہ کی تربیت صرف ایک میدانی جنگ کے بعد کے نقطہ نظر سے نہ کر رہا تھا بلکہ وہ اس کی تربیت اس عطیم کشمکش کے حوالے سے کر رہا تھا جو وسیع تر میدان میں برپا تھی، انسانی نفس کے میدان میں انسان کی عملی زندگی کے میدان میں اسلام نے ربا کی طرف توجہ کی تو اسے حرام قرار دیا، وہ انفاق کی طرف متوجہ ہوا تو خواہ خوشحالی ہو یا بدحالی اس پر لوگوں کو ابھارا۔ اس نے اللہ و رسولﷺ کی اطاعت کو اللہ کی رحمت کے لئے ضروری قرار دیا۔ اس نے غصہ پینے اور عفودرگزر کا حکم دیا، اس نے احسان اور استغفار کا حکم دیا۔ گناہ پر اصرار کرنے سے منع کیا اور توبہ کا حکم دیا۔ اور ان سب امور کو اللہ کی رضا مندی کے اسباب قرار دیا۔ انہیں بتایا کہ رسول اللہﷺ کو تمہارے لئے رحم دل کرکے بھیجا گیا۔ اس نے حکم دیا کہ مشکل سے مشکل اوقات میں شوریٰ کے اصول کو قائم رکھا جائے، اس نے حکم دیا کہ معاملات میں راستی کو اختیار کیا جائے اور بددیانتی نہ کی جائے۔ دولت کو خرچ کیا جائے اور بخل و کنجوسی سے اجتناب کیا جائے۔ غرض یہ اور دوسری ہدایات غزوہ احد پر تبصرے کے دوران فرمائی گئیں۔
اسلام نے ان سب احکام کی طرف توجہ دی اس لئے کہ یہ وہ عناصر ہیں جن کے ذریعے جماعت مسلمہ کو وسیع تر معرکے اور کشمکش کے لئے تیار کیا جارہا تھا۔ جس میں میدان جنگ میں قتال بھی شامل تھا مگر یہ معرکہ صرف قتال تک محدود نہ تھا بلکہ یہ وسیع تر ذمہ داریوں کا معرکہ تھا تاکہ اس کے نتیجے میں ایک عظیم انقلابی فتح حاصل کی جائے۔ یہ عظیم اور مکمل فتح اپنی لپیٹ میں نفس انسانی، اس کی تمام خواہشات، اس کی ہر قسم کی حرص و لالچ، اس کی تمام کینہ پروری کو لے لے۔ نیز پرامن حالات میں بھی یہ جماعت مسلمہ کے لئے اقدار و اطوار کے میدان میں فتح عظیم پر مشتمل ہو۔
اسلام نے ان تمام امور پر پوری توجہ کرکے یہ فیصلہ کیا کہ پوری انسانیت کی تکوین اور اس کی تشکیل اور اس کی سرگرمیوں کا جائزہ اسلامی نظریہ حیات کے نقطہ نظر کے مطابق لیا جائے اور پوری انسانیت کو ایک ہی محور کے گرد گھما دیا جائے وہ محور کیا تھا؟ یہ کہ بندگی صرف اللہ کی ہوگی، پرستش صرف اللہ کی ہوگی، انسان پورے احساس ذمہ دداری کے ساتھ خدا کا خوف دل میں رکھتے ہوئے، اپنے رب کی طرف متوجہ ہوں، اور اللہ کا منہاج زندگی اس پوری کائنات پر چھا جائے اور پوری انسانیت اپنے حالات میں سے ہر حال میں اسی منہاج کے مطابق زندگی بسر کرے۔ اور انسانی زندگی کے مختلف حالات اسلامی نطام زندگی کے رابطے میں مربوط ہوں اور انسانی تگ و دود کے تمام نتائج بھی اسلامی منہاج کے نتائج کے مطابق ہوں اور نفس انسانی کی تمام حرکات اور تمام تنظیمات اور انسانی نظم و نسق کی تمام جزئیات ان آخری نتائج کے برآمد کرنے میں ممد اور مئوثر ثابت ہوں۔(جاری ہے)
اس لئے جنگ احد پر تبصرے کے درمیان کئی دوسرے مباحث پر بھی گفتگو کی گئی جو اس معرکے کے ساتھ بے جوڑ ہرگز نہیں ہیں، اس لئے کہ نفس انسانی جب تک اپنے شعور و ادراک اور اپنی عادات اور اخلاق میں فاتح نہ ہوگا وہ معرکہ قتال میں کبھی فاتح نہیں ہوسکتا اور وہ لوگ جو مقابلے کے دن پیٹھ پھیر گئے تھے ان کی اس لغزش کا سبب یہ تھا کہ ان کی بعض کمزوریوں کی وجہ سے شیطان نے ان کے قدم ڈگمگا دئیے تھے۔ اور جو لوگ نظریاتی جنگوں میں اپنے انبیاء کی قیادت میں سرخرو ہوئے تھے، وہ اس لئے سرخرو ہوئے تھے کہ وہ ان معرکوں میں کودنے سے پہلے اپنے گناہوں سے توبہ کر چکے تھے اور وہ اللہ تعالیٰ سے کامیابی کی التجا کے ساتھ آگے بڑھے تھے اور اللہ کے مضبوط سہارے پر بھروسہ کرتے ہوئے میدان کار زار میں کودے تھے۔ اس لئے گناہوں سے پاکیزگی، اللہ کے ساتھ جڑنا، اللہ پر بھروسہ رکھنا دراصل وہ سازوسامان ہے جس کے نتیجے میں نصرت اور فتح نصیب ہوا کرتی ہے۔ اس لئے ان عوامل کو میدان جنگ سے دور نہیں کیا جاسکتا، لہٰذا سودی نظام معیشت کو ختم کرکے باہم تعاون (Co-operation) کے نظام کو قائم کرنا بھی گویا فتح مندی کے اسباب میں سے ایک اہم سبب ہے۔ سودی معاشرے کے مقابلے میں باہمی تعاون و تکافل کا معاشرہ فتح مندی سے زیادہ قریب ہے۔ اس طرح غصے کو پی جانا اور غلطیوں کو معاف کر دینا بھی سامان جنگ میں سے اہم ہتھیار ہے، اپنے نفس امارہ کو قابو میں رکھنا بھی ایک قسم کی جنگی تربیت ہے۔ معاشرہ کا معاشی لحاظ سے باہم کفیل ہونا، باہم انس اور محبت رکھنا، ایک دوسرے کی کوتاہیاں معاف کرنا وغیرہ بھی ایک ایسی فعال قوت عامل ہے جو فتح کی ضامن ہے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں