(گزشتہ سے پیوستہ)
یہی وجہ ہے کہ معرکہ بدر پر تبصرے کے درمیان درج بالا امور پر بھی بحث کی گئی ہے جو بظاہر بے جوڑ نظر آتی ہے۔ متنوع امور کو اکٹھا کیا گیا ہے اور اس معرکہ پر اختتامیہ اور تبصرہ میں ان تمام امور کو شامل کیا گیا ہے، اور ان امور کو اس وسیع میدان جنگ میں لایا گیا ہے، جس کا ایک حصہ میدان بدر ہے، جس کے بہت سے پہلوئوں میں سے احد ایک پہلو ہے۔
حضورﷺ نے حکم دیا کہ شہداء احد کو ان کی جائے شہادت ہی میں دفن کر دیا جائے اور انہیں مدینہ کی طرف منتقل نہ کیا جائے۔ بعض صحابہ کرامؓ نے اپنے مقتولوں کو مدینہ میں پہنچا دیا تھا۔ رسول خداﷺ کے منادی نے آواز دی کہ حضورﷺ کا حکم ہے کہ مقتولین کو واپس لایا جائے۔چنانچہ سب مقتول واپس لائے گئے۔ حضورﷺ کی نگرانی میں ایک دو یا تین تین افراد ایک ایک لحد میں دفن کئے گئے۔ تو دفن کرتے وقت آپ فرماتے ان میں سے قرآن کریم کا عالم کون زیادہ تھا اگر کوئی بتاتا کہ فلاں زیادہ قرآن کا عالم تھا تو اسے آپ لحد میں آگے کر دیتے۔ عبداللہ ابن عمرو ابن حرام اور عمروبن الجموح ایک ہی قبر میں دفن ہوئے۔ اس لئے کہ ان دونوں کے درمیان گہری دوستی تھی۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’دنیا میں یہ دونوں دوست تھے، اس لئے انہیں ایک ہی قبر میں دفن کر دو۔‘‘
یہ ہیں اس معرکہ کی بعض جھلکیاں جن میں فتح و نصرت اور ہزیمت و شکست ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ فتح و ہزیمت کے درمیان وقت کا ایک مہین پردہ حائل تھا۔ پس صرف حکم رسول کی خلاف ورزی ہونا تھی کہ فتح شکست میں بدل گئی۔ خواہشات نفس کی ایک معمولی جنبش سے نقشہ بدل گیا۔ شہوت کی ایک جھلک نے جنگ کا رخ بدل دیا۔ ان جھلکیوں میں اعلیٰ اقدار اور گھٹیا تصورات کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ ایمان کی تاریخ میں لازوال کارنامے بھی ہیں اور نفاق و شکست کے مناظر بھی ہیں۔
ان جھلکیوں سے یہ معلوم ہوگا کہ اس وقت جماعت مسلمہ میں پوری طرح ہم آہنگی پیدا نہیں ہوئی تھی، جیسا کہ ان واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض مسلمانوں کے تصور اسلام میں بھی کچھ کمزوریاں تھیں اور یہ واقعات جو نمودار ہوئے یا جن کمزوریوں کا اظہار ہوا، یہ خداوند قدوس کی سنت کے عین مطابق تھا۔ یہ نتائج جن سے اہل اسلام دوچارہوئے، وہ عظیم قربانیاں جو انہیں دینا پڑیں اور جن میں سرفہرست وہ مصائب تھے جن سے خود رسول خداﷺ کو دوچار ہونا پڑا۔ اور یہ بات شک و شبہ سے بالا ہے کہ صحابہ کرامؓ اس وقت ان واقعات کا گہرا اور عمیق احساس بھی رکھتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ان پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ گئے ہیں۔ اس معرکہ میں صحابہ کرامؓ نے بہت بڑی قیمت ادا کی لیکن اس معرکے کے ذریعہ انہیں عظیم سبق ملا۔ اور اعلیٰ تجربات حاصل ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو خالص کر دیا، ان کی صفوں میں سے کھوٹے لوگوں کو چھانٹ کر الگ کر دیا۔ اور اس تجربے کے ذریعہ امت مسلمہ کو اس عظیم مقصد کے لئے تیار کیا جو اس کے ذمہ لگایا تھا۔ وہ یہ مقصد تھا کہ اس امت نے انسانیت کی قیادت کرنی ہے اور اس دنیا میں اس نے اسلامی نظریہ حیات کے مطابق ایک مکمل اسلامی نظام زندگی قائم کرکے دنیا کے سامنے اسے بطور مثال پیش کرنا ہے۔ دیکھئے، قرآن کریم نے اس صورتحال کو اپنے محسوس انداز میں کس خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا ہے۔
قرآن کریم کا انداز یہ نہیں ہے کہ کسی واقعہ کو بطور تاریخ بیان کرے اور لوگوں کے سامنے صرف واقعات پیش کرے۔ قرآن کریم ان واقعات کی پشت پر نفس انسانی کے اندر جو شعور کارفرما تھا، اس سے بحث کرتا ہے، جو باتیں دلوں میں لہریں پیدا کرتی ہیں ان کی جھلکیاں دکھاتا ہے، اور پھر ان واقعات سے وہ امور سامنے لاتا ہے جن میں کوئی سبق ہوتا ہے، جن سے کوئی ہدایت ملتی ہے یا جن سے کسی پوشیدہ گوشے پر روشنی پڑتی ہے۔
قرآن ان واقعات کو تاریخی انداز میں یہ بیان نہیں کرتا۔ اس طرح کہ واقعات میںتسلسل ہو اور مقصد یہ ہو کہ تاریخی واقعات قلمبند کر دئیے جائیں۔ واقعات کے بیان کے مقاصد یہ ہیں کہ ان سے عبرت حاصل کی جائے، مسلمانوں کی تربیت ہو اور واقعات کے پس پردہ جو اقدار کار فرما ہوں ان کی وضاحت ہو۔ نفس انسانی کی خصوصیات ظاہر کی جائیں دلوں کی دھڑکنیں صفحہ قرطاس پر لائی جائیں اور اس فضا کی جھلکیاں دکھائی جائیں جو اس واقعہ کے اندر اہم تھیں۔ پھر قرآن کریم واقعات کے تکوینی اسباب بھی بتاتا ہے۔ پھر ان حوادث کے نتیجے میں جو اصول سامنے آتے ہیں اور ہمیشہ کے لئے اصول بن جاتے ہیں ان کا بیان ہوتا ہے۔ اس انداز بیان میں ایک واقعہ دراصل ایک محور بن جاتا ہے اور نقطہ ارتکاز بن جاتا ہے۔ اس محور کے اردگرد شعور و احساس کا عظیم سرمایہ جمع ہو جاتا ہے۔ استدلال کے نکات اور نتائج اکٹھے ہوتے ہیں، سیاق کلام میں بات اس حادثہ سے شروع کی جاتی ہے، پھر اس محور کے اردگرد بات چلتی رہتی ہے، پھر روئے سخن واقعات کی طرف مڑ جاتا ہے، اس کے بعد اچانک انسانی نفس اور ضمیر کی بات چھڑ جاتی ہے۔ پھر زندگی کی گہرائیوں سے حقائق سطح پر لائے جاتے ہیں اور بار بار اسی طرز پر واقعات پر بحث ہوتی رہتی ہے اور نتائج اخذ کئے جاتے ہیں اور پھر اس واقعہ اور حادثہ کے واقعات کو ختم کیا جاتا ہے لیکن اس واقعہ کے ذیل میں معافی، دلائل، اقدار اور اصولوں کا ایک ذخیرہ ریکارڈ کر لیا جاتا ہے۔ واقعات اور حوادث کا بیان دراصل ان نتائج اور حکمتوں کے بیان کے لئے ہوتا ہے۔ واقعات ان حکمتوں کے لئے محور کا کام دیتے ہیں۔ اس کے اردگرد تمام نتائج جمع ہو جاتے ہیں۔ بعض اوقات ایک واقعہ کا پس منظر بھی بیان کر دیا جاتا ہے اور اس واقعہ کے نتیجے میں دلوں کے اندر جو دشمنیاں پیدا ہوتی ہیں ان کا بیان ہوتا ہے، ان دشمنوں کو صاف کیا جاتا ہے اور واقعات منقع کرکے ہر بات کو اپنی جگہ پر ٹکا دیا جاتا ہے۔ واقعات اور ان کے نتائج بالکل فطری نظر آتے ہیں، کسی کو ان پر حیرت نہیں ہوتی اور کسی کو ان پر افسوس نہیں ہوتا۔ وہ محسوس نہیں کرتے کہ ان میں کوئی التباس ہے یا ان کا کوئی دخل ہے۔
انسان جب ان واقعات کی طرف نگاہ اٹھاتا ہے اور میدان جنگ کو دیکھتا ہے اور طویل اور متنوع واقعات پر نگاہ ڈالتا ہے، اور اس کے بعد جب ان واقعات پر تبصرے اور نتائج بیان کئے جاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ تبصرے اور اخذ نتائج کا میدان اصل واقعات سے وسیع تر ہے۔