(گزشتہ سے پیوستہ)
اگر نیتن یاہو نے ایران پر حملہ کیا تو امریکہ کے ساتھ ان کے متزلزل تعلقات خراب سے بدتر ہو جائیں گے۔ وہ دفاعی اور سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ (جس نے اسے 2010 میں بھی ایسا ہی کرنے سے روک دیا تھا) کی مخالفت کے باوجود ایک بڑا حملہ بھی کرسکتاہے۔اگر اسرائیل کچھ نہیں کرتا ہے، تو وہ پہلے سے بھی زیادہ کمزور دکھائی دے گا۔ حزب اختلاف کے رہنمااور جنگی کابینہ کے ساتھی رکن بینی گانٹزنے اتوار کو تہران کےخلاف سفارتی حملے کی بات بھی کی تھی ۔ امریکہ بھی صورتحال کو اسی تناظر میں دیکھ رہا ہے کہ تین دہائیوں میں پانچویں مرتبہ خارجہ پالیسی کا ایک بڑا تختہ اس کے ہاتھوں میں پھسلتا جا رہا ہے۔ افغانستان میں طالبان کا تختہ الٹنے کا فیصلہ، عراق پر حملہ، لیبیا کے معمر قذافی کا تختہ الٹنا، بشار الاسد کو گرانے کی کوشش۔
غزہ پر اسرائیل کے حملے کی حمایت کا فیصلہ،خارجہ پالیسی کی یہ تمام تباہی اب پانچویں نمبر پر ہے ۔ حماس کے 7 اکتوبر کے حملے کے بعد اسرائیل کی پشت پناہی کرنے میں اس نے جس غلط فہمی کا مظاہرہ کیا ہے، اس کا ادراک امریکہ کو تاخیر سے ہوا ہے۔ اس نے عراق پر حملہ کرنے میں جو غلطی کی تھی اس کا احساس کرنے میں بھی اسےوقت لگا۔ امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کی کانگریس میں گواہی نے کہ امریکہ کے پاس اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں نسل کشی کی ہے، کولن پاول کی اقوام متحدہ کی تقریر کی یاد تازہ کر دی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کے پاس صدام حسین کے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے ثبوت موجود ہیں۔2003 میں پاول کی تقریر امریکہ کی بین الاقوامی ساکھ کی تباہی کا ایک اہم لمحہ تھا۔ اس کے بعد سے ہر سال تیزی سے یہ ساکھ ختم ہو رہی ہے۔ پاول نے بعد میں اپنے کہے پر پچھتاوا کیا۔ آسٹن کا بھی ایسا ہی کرنے کا مقدر ہے۔
اسرائیل اپنے حمایتیوں کو ایک ایسےجہنم میں لے گیا ہے جس میں نہ امن ہے اور نہ ہی امن کا کوئی امکان، نہ حماس کی شکست، نہ جنگ کے بعد کی حکومت کا کوئی امکان، خطے کے دیگر تمام مسلح گروہوں کے لیے کم ہوتی ہوئی ڈیٹرنس اور اسرائیل کی تمام سرحدوں پر بیک وقت نچلی سطح کی علاقائی جنگ کا امکان۔
ممکنہ طور پر سب سے احمقانہ کام اتوار کے روز اسرائیلی سیکورٹی ذرائع نےجو کیاوہ اردن کی فضائیہ سے حاصل تعاون یعنی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو مار گرانے میں ان کی مدد کے بارے میں عوامی سطح پر اعلان تھا۔اسرائیلی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ یروشلم کی طرف جانے والے میزائلوں کو اردن کی وادی اردن کی جانب سے روکا گیا تھا اور دیگر کو شام کی سرحد کے قریب روکا گیا تھا۔اسرائیل جو پیغام دینا چاہتا تھا وہ یہ تھا کہ خطے میں اسرائیل کے اتحادی موجود ہیں جو اس کے دفاع کے لیے تیار ہیں۔لیکن یہ ایک احمقانہ کھیل ہے۔جب کہ اردن کی حکومت فلسطینیوں اورمشرقی کنارےکے دونوں جانب کی آبادی اور اپنے ملک کے شہریوں کو ان بیانات سے خوش کر رہی ہے کہ ان میزائلوں کو اردن کی فوج نے اسرائیل کی جانب سے مار گرایا۔ ہفتے کے روز اردن کی کارروائی اسرائیل کو قلیل مدتی مدد دے سکتی ہے لیکن طویل مدت میں یہ اسرائیل کی طویل ترین سرحد پر پریشانی کا باعث ہے۔اسرائیل شاید اس بات کا جشن منا رہا ہے کہ اس کےحقیقی اتحادی موجود ہیں، لیکن ایسا کرکے وہ اپنے دوستوں کی قانونی حیثیت کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ایران نے اپنا پتہ کھیل دیا ہے اور اسرائیل اس کا ردعمل دینے میں ہچکچاہٹ کا شکار رہا۔ یہ پہلا موقع ہے جب ایران نے براہ راست اسرائیل پر حملہ کیا اورحماس کی طرح اسے یہ تاثر دیا کہ وہ جنگ میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ یہ بھی پہلا موقع ہے کہ اسرائیل کو بائیڈن نے جوابی حملہ نہ کرنے کو کہا۔ اسرائیل کو اپنے دفاع کے لیے دوسروں کی ضرورت ہے اور وہ جوابی حملہ کرنے کا انتخاب کرنے کے لیے آزاد نہیں لیکن اس نے ایران پر جوابی حملہ امریکہ کی تائید کے بغیر کر دیا۔ اسرائیل کے لئے کڑی مشکل کا وقت ہے۔