22 اپریل کی صبح ایرانی صدر ابراہیم رئیسی اپنی اہلیہ محترمہ ڈاکٹر جمیلہ عالم الہدی کے ہمراہ اسلام آباد تشریف لائے ہیں۔ وزیر مہمان داری پیرزادہ نے ان کا استقبال کیا‘ جناب رئیسی کا یہ دن اسلام آباد میں نہایت گرم جوش محبت سے گزارا‘ ان کی ملاقات جناب صدر آصف علی زرداری سے ہوئی‘ وزیراعظم ہائوس میں ان کی تشریف آوری ہوئی تو وزیراعظم شہباز شریف نے ان کا فارسی میں استقبال کیا‘ اور دو معاہدوں پر دستخط ہوئے ان میں ایک وزارت داخلہ سے متعلق اور سیکورٹی سے متعلق دہشت گردی کی روک تھام اور ناپسندیدہ تنظیموں کے معاملات شامل ہیں اور دوسرا اطلاعات‘ ثقافتی امور سے متعلق ہیں جبکہ ان کی ملاقات آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے بھی ہوئی اور ایرانی صدر اور پاک آرمی چیف میں سرحدوں پر موجود حالات کی اصلاح کے موضوع پر بات چیت ہوئی۔ جناب رئیسی کی جنرل عاصم منیر سے ملاقات کے حوالے سے اس خاکسار کو ماضی بعید کے ایرانی اصلاح پسند صدر حسن روحانی اور جنرل راحیل شریف کی تلخی لیے ہوئے ملاقا ت بھی یاد آتی رہی کہ ان دنوں پاکستان کو چابہار اور ایران سے بھارتی سازشوں اور عدم استحکام کوششوں کا سامنا جو تھا جبکہ سرحدی معاملات کے سبب ہی پاکستان کی سرحد پر ایرانی سیکورٹی حملہ ہوا جس کاجواب پاکستانی سیکورٹی صلاحیت نے48 گھنٹوں میں دے دیا تھا۔ یہ تلخی اور سیکورٹی معاملات ایرانی سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم کی ان انتھک کوششوں کی تباہی تھی جو وہ دونوں ممالک میں گرم جوش محبت کاعہد تخلیق کرنے کی جدوجہد میں مصروف تھے جبکہ ایرانی خاتون اول ‘ مصنفہ محترمہ ڈاکٹر جمیلہ عالم الہدی نے خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری سے ملاقات کی‘ نمل یونیورسٹی میں ان کی مسلمان خواتین کے بارے میں کتاب کی رونمائی ہوئی جبکہ انہیں نمل یونیورسٹی نے اعزازی ڈگری سے بھی نوازا اور پھر وہ سویٹ ہومز گئیں جہاں خاتون اول آصفہ بھٹو ان کے ہمراہ تھیں جبکہ سویٹ ہومز کے سدا بہار سرپرست زمرد خان نے انہیں خوش آمدید کہا اور شیلڈ پیش کی۔ یہ تفصیلات صرف22 اپریل کی ہیں جبکہ ایک بڑے ہوٹل میں ایرانی صدر کے اعزاز میں دیئے جانے والے بہت بڑے استقبالیہ کی منسوخی ہوئی ، جس میں میری طرح بہت سے اہل قلم‘ اہل دانش‘ نمایاں شخصیات مدعو تھیں شائد اس کا سبب سیکورٹی معاملات تھا‘ مگر شائد کچھ مخصوص افراد کو ضرور عشائیے میں موجود رکھا گیا تھا‘ کیوں؟
ایرانی مذہبی انقلاب12 فروری 1979 ء کو طلوع ہوا تھا‘جس کی امام خمینی جیسے مذہبی‘ دینی مفکر مجتہد‘ مدرسی‘ عالم ‘ فقیہ میں آئی۔اصلاح کار ڈاکٹر ہاشمی رفسجانی‘ ڈاکٹر خاتمی جیسے عالم‘ فاضل صدور رہے۔ موجودہ رہبر آیت اللہ آمنہ خامنہ ای جب صدر تھے تب تک وہ بھی عالم و فاضل ہونے ے علاوہ مصنف ‘ مئولف‘ خطیب ثابت ہوچکے تھے‘ جب انہوں نے پاکستان کا دورہ جنرل ضیاء الحق کے عہد میں کیا تھا۔
مجھے ابراہیم رئیسی کے ہمراہ ان کی زوجہ ڈاکٹر جمیلہ کی آمد کے سبب ہارون الرشید بغداد کے عباسی خلیفہ یاد آرہے ہیں جن کا عہد علم و فضل کا سنہری عہد تھا ان کی ایک بیوی مشہور عرب زبیدہ تھی جس نے بہت سے ترقیاتی کام کیے جن میں مکہ مکرمہ کو پانی کی سپلائی کے لئے نہر زبیدہ کی تعمیر تھی جبکہ دوسری بیوی ایرانی النسل تھی جس سے شائد مامون الرشید بیٹا تھا اور اس کو بھی اقتدار ملا اور مامون کے عہد ہی میں امام رضا کے حوالے سے جہاں ولی عہدی رقم ہوئی وہاں ان کی زندگی کی تلخیاں رقم ہوئیں ۔ ڈاکٹر رئیسی اور ڈاکٹر جمیلہ کی صورت عملاً مشہد سے امام رضا کی حکمرانی ہے ایسے فاتحانہ مشہد اور امام رضا کی خدمت میں عقیدت و احترام پیش کرتا ہوں۔
ایران انقلاب میں ایرانی خواتین کے لئے جہاں خاص تہذیب و تمدن ہے وہاں ان کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا جاتا ہے جیسا کہ میرے اور ایران میں تحریری کشمکش عہد میں ایرانی جنگجو میڈیا منیجر ڈاکٹرK.K کا وجود تھا یا اب ایرانی میڈیا میں سرگرم خواتین کا وجود ہے۔
جناب رئیسی کا حالیہ فاتحانہ دورہ سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم اور ان کی کابینہ کی کامیابی و جانفشانی کا نام ہے۔ آج ابراہیم رئیسی کے ذریعے اور ڈاکٹر جمیلہ کے ذریعے ایران تہذیبی‘ تمدنی ‘ فقہی سیاسی طور پر بھی پاکستان میں وسیع پسندیدگی کا مرحلہ طے کر رہا ہے۔ ایرانی خواتین کو سفارت کاری میں استعمال کے مدمقابل مجھے ولی عہد محمد بن سلمان کی سفارت کاری میں سعودی خواتین کا بہترین استعمال تقابلی طور پر نظر آتا ہے۔ خصوصاً شہزادی ریما کا امریکہ میں سفیر ہونا اور پاکستان میں عبدالعزیز الغدیر اور ان کی زوجہ کا کامیاب عہد سفارت کاری‘ امارات کے پاس ڈاکٹر ابتسام چیئرمین ابوظہبی سٹرٹیجک انسٹی ٹیوٹ کی طرح برہنہ شمشیر موجود ہیں مگر شائد ان کے استعمال کی بجائے اسرائیل سے تعلقات اور ابراہیم معاہدہ امارات کی ترجیح اول تھا۔
ڈاکٹر رضا مقدم اور ان کے رفقاء کو بہت عمدہ کاوشوں کے سبب ہدیہ تبریک پیش کرتا ہوں‘ یہ جو بہت عمدہ پذیرائی ملی ہے صدر رئیسی اور ان کی اہلیہ کو یہ سب ایرانی سفارت کاری کی عمدہ کامیابی ہے۔ ایرانی صدر کی اسلام آباد میں کامیابیاں دیکھ کر امریکہ نے پاکستان اور ایران پر نئی پابندیاں لگانے کا اعلان کیاہے جبکہ یورپ نے ایران پر پابندیاں لگا دی ہیں۔
10 ارب ڈالر تک کی پاک ایران تجارت کا اعلان بہت بڑا کام ہے۔ مگر اگر ایران آل سعود بادشاہتوں سے پورے پاکستان کو فاتحانہ طور پر لینا چاہتا تو صد ر ابراہیم رئیسی کو اسلام آباد میں اعلان کرنا چاہیے تھا کہ ایران پاکستانی ریاست اور عوام کو مطلوب ہر قسم کی توانائی ‘ گیس‘ پٹرول‘ سعودی عرب کی طرح ہی ڈیفر پے منٹ‘ یعنی موخر ادائیگی اور وہ بھی نہایت رعایتی قیمتوں پر دے گا اور یہ سب گیس‘ پٹرول‘ توانائی بذریعہ عام سڑک‘ عام شاہراہ پاکستان میں آئے گی تو خدا کی قسم سچ مچ ایران پاکستان میں خلیجی ریاستوں اور سعودی عرب کا متبادل محسن بن کر نیا جنم لے لیتا اور پھر ایران او ر پاکستانی عوام متحد ہوکر ہر دشمن طاقت سے شاہینوں کی طرح لڑ جاتے‘ مرتے اور مارتے‘ مگر افسوس فقیہ و مجتہد ابراہیم رئیسی کو ایسا کرنا ہرگز نصیب نہ ہوا ‘ لہٰذا ڈیفر پے منٹ کا سعودی تیل‘ پٹرول اہل پاکستان کو ہر لمحہ اب بھی یاد آتا رہے گا۔ پاکستان ایران دوستی زندہ باد۔