Search
Close this search box.
جمعرات ,09 جولائی ,2026ء

لومڑ، بارہ سنگھا، جنگل کا بادشاہ

بادشاہتوں، شہزادوں، امراء، حکمرانوں، سیاست دانوں کے لئے سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے مفکرین، دانشوروں نے کئی اہم ذمہ داریاں نبھائی ہوئی ہیں تاریخ میں ’’دی پرنس‘‘ کے اطالوی ’’میکاولی‘‘ اور ٹیکسلا بادشاہت کے مشیر ’’چانکیہ‘‘ ہیں اور قدیم ہندوستان میں سنسکرت زبان میں جانوروں کی زبان میں اصول، آداب، ضوابط حکمرانی و سیاست گری لکھی گئی وہ کتاب بھی ہے جو شائد عباسی ہارون الرشید عہد میں سمگل ہو کر بغداد پہنچی اور اس کے عربی ترجمہ کا اہتمام ایرانی النسل ایک یہودی عرب ادیب نے کیا۔
فلسفی بیدبا کی طرف یہ سوچ، فکر، وجدان منسوب تھا، عربی زبان میں ترجمہ ہو کر اس کا نام ’’کلیلۃ و دمنہ‘‘ ہوا جو عربی ادب کی دانش کدہ شمار ہوتی ہے اور درس نظامی کے نصاب میں بھی شامل ہے۔ میں زندگی کے ایک حصے میں ’’کلیلۃ و دمنہ‘‘ سے متاثر تھا اور جانوروں، پرندوں کی زبان میں کالم لکھتا تھا، ایڈیٹر نے پوچھا کہ اتنا مشکل کالم کیسے لکھ لیتے ہو تو جواب دیا میرا نہیں کمال بلکہ یہ کمال کتاب ’’کلیلۃ و دمنہ‘‘ کا ہے ۔ ’’کلیلۃ ‘‘ ایک گیڈر ہے جو ہمیشہ خیر سوچتا ہے، خیر کرتا ہے، خیر پھیلاتا ہے، جبکہ ’’دمنہ‘‘ ایک دوسرا گیڈر ہے جو شر سوچتا ہے، شر کرتا ہے اور شر پھیلاتا تھا اور شر کاشت کرتا ہے۔ آپ ’’دمنہ‘‘ کو گیڈر کی بجائے ’’لومڑ‘‘(فاکس) کہہ لیں تو حقیقت حال سے قریب تر ہو جائیں گے۔ انشاء اللہ جبکہ افریقی عرب مسلمان سیاست دان، مئورخ، عمرانی اصولوں، ضوابط، معاشرت کے عکاس، سیاست و حکومت میں سازشوں کے تجربات سے گزرنے والا ابن خلدون ہے جس نے دمشق میں تاتاری عہد کو بھی دیکھا، مصرو شام کی بادشاہتوں کا عہد بھی دیکھا، خود وزیر رہا، پھر معتوب بھی رہا۔ اس نے ابن خلدون کے طور پر مبسوط تاریخ لکھی اور فلسفہ تاریخ و عمرانیات و معاشرت و سیاست کے طور پر اس کا ’’مقدمہ‘‘ بھی لکھا ان کی ’’مقدمہ ابن خلدون‘‘ اہل دانش کے نزدیک بہت بڑی کلید ہے۔ حکمرانوں کے لئے سیاست دانوں کے لئے میرا محبوب مصری مئورخ، ادیب ڈاکٹر طہ حسین، اس کا عاشق اور گرویدہ رہا ہے۔
آزادی سے قبل دلی سے شروع ہونے والا ایک اخبار جو متنوع قسم کا اور مقبول بھی ہے ۔ آج کل اس کے ایڈیٹر جٹ برادری میں سے وڑائچ برانج سے تعلق رکھتے ہیں۔ مشکل مضامین کو سہل بنا کر اردو میں لکھتے ہیں اور کالم کی صورت ادارتی صفحے پر خود کو شائع بھی کرتے ہیں۔ 25اپریل کی اشاعت میں ’’لومڑ‘‘ (فاکس) اور بارہ سنگھا‘‘ بہت عمدہ جانوروں کی زبان میں لکھا گیا۔ سیاسی رہنمائی فراہم کرتا کالم ہے۔ پاکستانی سیاست، حکومت کو زیر بحث لایا گیا ہے اور بارہ سنگھا ہے، ایک طرف ایوان صدر کے بارہ سنگھا مقیم کو عملیت پسند ثابت کرکے بہت زیادہ مفید، کارآمد بتایا گیا ہے تو وزیراعظم ہائوس کے مقیم و حکمران کو لومڑ (فاکس) بتایا ہے جو عملاً نہ تو اصل سیاست دان ہے نہ ہی بارہ سنگھا کی طرح بہت زیادہ کارآمد مگر شاطر، مکار ہونے کے سبب بہت زیادہ پسندیدہ ہے خاکی بادشاہتوں کے شیروں میں جبکہ جنگل کا خاکی بادشاہ اسی کے دامن الفت میں زیادہ اسیر ہے۔ اب اس سے توقع باندھی جارہی ہے کہ وہ لومڑ (فاکس) کی طرح شاطرانہ چالوں سے عرب بادشاہتوں کی تجوریوں سے اشرفیوں کے ڈھیر مانگ لائے۔ میں کالم پڑھ کر بہت مسکراتا رہا کہ اسی ’’لومڑ‘‘ (فاکس)سے تو خاکیوں کی کمال فنکاری نے اصل بوڑھے اور تھکے ہوئے شیر کو دنگل میں اترنے سے پہلے ہی ڈھیر کرکے لومڑ (فاکس) کو حکومت اور اقتدار دلوایا ہوا ہے اور آج کل اصلی بوڑھا شیر نہ تو دھاڑ سکتا ہے، نہ ہی زیادہ احتجاج کر سکتا ہے نہ ہی آرام کر سکتا ہے، نہ ہی ریٹائرمنٹ لے سکتا ہے کہ اس کے اردگرد کے مداحین اسے اس خراب حالت میں بھی اصلی شیر بن جانے پر اکساتے رہتے ہیں جبکہ دنیا منتظر ہے کہ کاغذی شیر (لومڑ) کب اصلی شیر کے لئے، لیگی صددارت کا منصب خالی کرتا ہے مگر خاکی بادشاہتوں والے بھلا بدھو ہیں جو اس کی جھولی میں لیگی صدارت لومڑ (فاکس) سے لے کر ڈال دیں گے؟ اور یوں بنا بنایا موجودہ کھیل ’’نیا کٹا‘‘ کھل جانے سے تہہ و بالا ہو جائے گا لہٰذا اسے رہبر و قائد کے طور پر مصروف کار کیا جارہا ہے۔ حال ہی میں وہ چین گئے ہیں جہاں وہ بطور وزیراعظم بھی جانے، پہچانے جانے کا تجربہ رکھتے ہیں۔ پھر قطر موجود ہے اور پھر ریاض بھی موجود ہے، ہر کسی کو مصروف رکھنا جنگل کے خاکی بادشاہتوں کا ہر فن مولیٰ فرض اولین ہے۔ جو جہاں کارآمد ہے اسے وہاں استعمال کرلیا جائے مگر دوسری طرف ’’کلیلۃ و دمنہ‘‘ کے چلتے پھرتے ماہر سفید ریش، سر پر سنہری تاریخی رومال باندھے نہ انتخابات کو اصلی مانتے ہیں نہ بارہ سنگھا کی صدارت کو نہ ہی لومڑ (فاکس) (دمنہ) کی وزارت عظمیٰ و حکومت کو اور وہ ہر جگہ فساد ہی پھیلا کر نہ کھیلنے دیں گے کا ماحول بنائے ہوئے ہیں اور ’’محبوب ہیرو‘‘ اڈیالہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہے۔
تین دن پہلے میں اپنے گوالے کے پاس چلا گیا۔ اس نے دو درجن کے قریب اصیل مرغیاں، مرغ پالے ہوئے تھے ، اب صرف تین باقی ہیں اور باقی سب غائب، میں نے پوچھا کہ یہ مرغیاں، مرغ کہاں گئے ہیں؟ بولا، جناب ساتھ والے جنگل کے ’’لومڑ‘‘(فاکس) آتے رہے اور مرغیاں قتل کرکے، شہہ رگ کا خون پیتے رہے، میں نے وضاحت پوچھی کہ کیا مطلب؟ بولے، سر جی، لومڑوں کی جوڑی میں سے ہم نے ایک کو اپنی چالاکی سے پکڑ لیا تھا اور پھر اسے ہلاک کرکے اس جگہ بھیج دیا جہاں وہ ہماری مرغیاں ہلاک کرتا، ان کا شہہ رگ کا خون پیتا اور ہلاک شدہ مرغیاں باقی چھوڑ دیتا، تجربہ یہ بتایا گیا کہ لومڑ (فاکس) مرغیوں کو شہہ رگ سے دبوچتا ہے، ان کا خون پیتا ہے اور باقی مردہ گوشت کا جانور چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے۔ تو جناب لومڑ (فاکس) کے بارے میں جان لیا جائے کہ وہ پسندیدہ جانور کو پہلے بہت پیار بھری نظروں سے دیکھتا ہے، اسے تولتا ہے، پھر اس کی شہہ رگ کو دبوچ لیتا ہے اور شہ رگ سے سارا خون نچوڑ لیتا ہے۔ اس کالم کے ذریعے خاکی بادشاہتوں اور جنگل کے بادشاہ کو بتانا چاہتا ہوں کہ لومڑ (فاکس) سے محتاط رہیں، کہیں جھانسا دے کر وہ آپ کا سودا بھی کہیں اور نہ کر ڈالے۔

یہ بھی پڑھیں