پاکستان میں سرحد پاردہشت گردی کاتسلسل تشویشناک ہے۔ افغانستان پہ حکمرانی کرنے والی عبوری حکومت بھی اس حساس معاملے پہ تسلی بخش حکمت عملی نہیں پیش کر پائی۔ پاک افغان دو طرفہ تعلقات کی راہ میں دہشت گردی کے کانٹے بکھرے ہیں۔ ان کانٹوں کو راہ سے ہٹائے بغیر دو طرفہ اعتماد بحال نہیں ہو سکتا۔ کالعدم ٹی ٹی پی کے منصوبہ ساز افغانستان کی محفوظ پناہ گاہوں سے پاکستان میں دہشت گرد ی کا طوفان بپا کر رہے ہیں ۔ روز روشن کی طرح عیاں اس حقیقت کو جھٹلانا ناممکن ہے لیکن افغان عبوری حکومت یہ باور کروا رہی ہے کہ افغانستان میں کوئی دہشت گرد گروہ موجود نہیں۔ یہ موقف زمینی حقائق کے بر عکس ہے اور اس غیر حقیقی دعوے کو پاکستان سمیت دیگر پڑوسی ممالک اور بین الاقوامی ادارےمسترد کرچکے ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ذیلی کمیٹی کی شائع کردہ تینتیسویں رپورٹ کے مندرجات قابل غورہیں۔ افغان طالبان کے دعوووں کے برعکس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ القاعدہ، داعش اور ٹی ٹی پی جیسی کالعدم دہشت گردی تنظیمیں اپنے متعدد دھڑوں کے ساتھ افغانستان کی سرزمین پہ پوری طرح فعال ہیں۔ یہ چشم کشا انکشاف نہایت تشویشناک ہے کہ القاعدہ نے چار صوبوں میں تربیتی کیمپ اور ایک صوبے میں نیا اسلحہ خانہ قائم کر کے دہشت گرد نیٹ ورک کو مزیدمربوط کر دیا ہے۔ عالمی مبصرین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی یہ رائے نہایت منطقی ہے کہ کالعدم تنظیموں کی مربوط دہشت گردانہ سرگرمیاں افغان طالبان کی ریاستی معاونت کے بغیرممکن نہیں۔
کالعدم ٹی ٹی پی کے حوالےسے یہی موقف پاکستان کابھی ہے۔ ان خدشات کے حق میں متعدد ناقابل تردید شواہد افغان طالبان کی صفوں سے برآمدہوچکے ہیں۔ چند ہفتو ں قبل ایک طالبان کمانڈر کی ویڈیو سوشل میڈیا پہ جنگل کی آگ کی طرح پھیلی تھی جس میں موصوف کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کو پاکستان کی سرزمین پر حملوں کے لئےاکسا رہے تھے۔ مقام افسوس یہ ہے کہ نوجوانوں کے ناپختہ اذہان کو اسلام اورجہاد کی غلط تشریحات کے ذریعے دہشت گردی جیسے قبیح جرم کی جانب مائل کیاجارہاہے۔ مذہب کی نقاب اوڑھ کرشیطان کے پیروکار جذباتی نوجوانوں کو مادر وطن اور ریاستی اداروں کے خلاف صف آراء کروا رہے ہیں۔ اس مذہبی جعلسازی کے تباہ کن نتائج جھٹلائے نہیں جاسکتے ۔ معمولی فہم و فراست رکھنے والا انسان بھی یہ سمجھ سکتاہے کہ افغانستان اور پاکستان میں عدم استحکام کی بنیادی ذمہ داری دہشت گرد گروہوں پہ عائد ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں جہاں ایک جانب دہشت گرد گروہ مذہب کی گمراہ کن تعبیرات سے نوجوانوں کو اپنے چنگل میں پھنسا رہے ہیں تو دوسری جانب جعلی جہادی کمانڈروں کی فریب کاریاں بھی بے نقاب ہو رہی ہیں ۔ یہ سوال نہایت غور طلب ہے کہ آخر کالعدم ٹی ٹی پی اور اس کے درجن بھر ذیلی دھڑوں کے نام نہاد کمانڈر افغانستان کے نامعلوم مقامات پہ بزدلوں کی طرح چھپ کے کیوں بیٹھے ہیں ؟ غریب کارکنوں کو توجہاد کا فریب دے کر پاکستان کی افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف صف آراء کروا کے عبرت ناک موت کے سفر پہ روانہ کروا دیا جاتا ہے جبکہ جعلی کمانڈر خفیہ عشرت کدوں میں داد عیش دےرہے ہیں ۔ کیا وجہ ہے کہ کالعدم تنظیموں کے متعدد کمانڈر گروہی کشمکش کے نتیجے میں اپنے ہی ساتھیوں کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتر گئے۔ یہ بھی کوئی اتفاق نہیں ہے کہ بیشتر سر کردہ دہشت گرد افغانستان کی سر زمین پہ ہی عبرت ناک انجام سے دو چار ہوئے ۔
خالد عمر خراسانی ، فضل اللہ ، حافظ دولت ،عمر منصور اور عتیق عرف ٹیپو سمیت متعدد دہشت گردوں کی افغان سرزمین پہ ہلاکت کی بنیادی وجہ گروہی چپقلش تھی۔ پاکستان دشمن قوتوں سے ملنے والی مالی معاونت کو ہڑپنےاور دہشت گرد تنظیموں میں شخصی اجارہ داری قائم کرنے کی کشمکش میں یہ جعلی کمانڈر ایک دوسرے ہاتھوں جہنم واصل ہوتے رہے ہیں ۔ یہ واقعات ان جذباتی نوجوانوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں جو جہاد کی غلط تعبیر کے فریب میں مبتلا ہو کر خارجی دہشت گردوں کے جال میں پھنس چکے ہیں ۔ اس باطل تصور کے نقصانات ناقابل تردید ہیں ۔ دہشت گردی نے پاکستان اور افغانستان کو غیر مستحکم کر رکھا ہے ، بے گناہ شہری اپنی جانیں گنوا چکے ہیں ، دہشت گردوں کے بے گناہ لواحقین بھی در بدر ہو رہے ہیں، تمام مکاتب فکر کے مستند علماء ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کو خوارج قرار دے چکے ہیں اورحملہ آور دہشت گرد ریاست کے مقابل جلد یا بدیر جہنم واصل ہو رہے ہیں ۔ ایسے حالات میں ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے کے بجائے ملکی استحکام کے لئے دہشت گرد گروہوں کے خلاف صف آراء ہو نا چاہئے۔ افغان طالبان کے سرپرست اعلیٰ ملا ہبت اللہ اخوندزادہ نے بھی پاکستان پہ حملہ آور ہونے والے افغان شہریوں کو دہشت گرد قرار دیا ہے۔حال ہی میں افغانستان سے پاکستان میں دراندازی کی ناکام کوشش میں غلام خان چوکی پہ ہلاک ہونے والے سات دہشت گردوں میں پکتیکا کا رہا ئشی ملک مصباح الدین نامی کمانڈر بھی شامل تھا۔ خود افغان طا لبان کی صفوں میں ایسے عناصر موجود ہیں جو اس متوازن فتوے کی روح کے بر عکس دہشت گردی میں ملوث ہو کر پاک افغان تعلقات میں زہر گھول رہے ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ دیرپا امن کی بحالی کے لئے سرحد کے دونوں جانب خوارج کی بیخ کنی کی جائے۔