سب سے پہلے وضاحت کہ 29 اپریل کو شائع شدہ کالم میں آل سعود بادشاہت کی حمایت کیوں کی؟ پاکستان کے حصول، جدوجہد، تشکیل میں موجودہ دو تین خاندانی موروثی سیاست و اقتدار کے چھوٹے، بڑے کرداروں کے آبائو اجداد کا ذرا سا بھی حصہ، جدوجہد اور مصروفیت نہیں تھی۔ اگر معاف کر دیا جائے تو بھٹو کی یا ان کے والد شاہ نواز بھٹو کی تحریک پاکستان میں کہاں جدوجہد موجود ہے؟ ہاں سندھ کے سیدوں کی اس حوالے سے کارگزاری موجود ہے مگر جلد ہی یہ سندھی سید بدظن ہوگئے اور پھر اپنی ہی جدوجہد کی تباہی کے لئے پاکستان کی شدید مخالف شروع کر دی، ہاں جنرل ضیاء الحق کا یہ تدبر و فراست تھا کہ ایسے باغی سید کو محبت و پیار سے رام کئے رکھا جو قائداعظمؒ سے بدظن ہوگئے تھے۔ لہٰذا یہ اعتراف کرتا ہوں کہ ٹھنڈے مزاج کے خاکیوں میں بھی کافی تدبر و فراست موجود ہوسکتا ہے جبکہ سعودی عرب تو بنا ہی آل سعود کی عظیم اور بار بار جدوجہد اور قربانیوں کے سبب تھا۔ ویسے بھی اس زمانے میں ’’بادشاہت‘‘ ہی کا رواج تھا۔ اسی لئے پاکستان چونکہ جمہوری جدوجہد عوامی حمایت سے قائداعظم بنانے میں کامیاب رہے لہٰذا اصلاً پاکستان میں بادشاہت خواہ سیاسی خاندانوں کی ہو یا خاکی اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کرتا ہوں، اگر یقین نہ آئے تو شاہد خاقان عباسی کی عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں کی گئی تقریر ملاحظہ کرلیں کہ انہوں نے ن لیگ چھوڑ دی تھی سبب یہ تھا کہ جب سیاسی فیصلے خاندان کے صرف چند افراد ہی کرنے لگیں تو پھر یہ سیاسی پارٹی نہیں لمیٹڈ کمپنی بن جاتی ہے۔ یہ لمیٹڈ کمپنیاں ، خواہ بھٹوز کے وارثان کی ہوں یا بزنس مین، میاں شریف کے وارثان کی ہوں، ان کی مخالفت کرتاہوں۔
جبکہ ایٹمی وجود کے حوالے سے ہمارے سول اذہان و حکمرانوں کی خدمات اور خاکیوں کی عظیم خدمات کا اعتراف کرتا ہوں۔ پچھلے دنوں ریٹائر جنرل غلام مصطفی کی ’’ایٹمی تحفظ‘‘ کے حوالے سے اور کچھ نادان سیاستدانوں کی طرف منسوب امریکہ سے سودا بازی کے حوالے سے باتیں سنیں اور اس پر جنرل غلام مصطفیٰ کا قوم پرستانہ موقف سنا تو دل مطمئن ہوگیا کہ الحمدللہ ہمارے خاکیوں، خواہ وہ حاضر سروس ہوں یا ریٹائرڈ ہوچکے ہوں کا ایٹمی حوالے سے احساس ذمہ داری زندہ و جاوید ہے اور اگر کوئی بدبخت یہ سودا بازی کرے گا تو یہ خام خیالی ہے، خاکی وردی اور ہم سب انشاء اللہ ایسا نہیں ہونے دیں گے۔
سعودی عرب اور پاکستان میں استحکام، مضبوط معیشت کے حوالے سے فرق 29اپریل کے کالم میں وضاحت سے لکھ چکا ہوں مگر آل سعود بادشاہت بھی تب ہی برقرار، محفوظ مستحکم رہتی ہے جب آل سعود کے اندر سے ہی اصلاح پسند، ریفارمر شہزادہ فیصل آنکھ، کان، ہاتھ، پائوں، ذہن بیدار، موجود رکھتا ہے ورنہ شاہ سعود جیسے بادشاہ آل سعود کی، اپنے عظیم آبائواجداد کی بادشاہت کو بھی قابل نفرت بنا دیا کرتے ہیں۔ ہمیں محمد بن سلمان سے ناراض ہونے کا حق ہے۔ ان کے بعض اقدامات سے بھی ناراض ہونے کا حق ہے۔ آل سعود کے شہزادوں کو بھی یہ حق حاصل ہے مگر ان کی ہدایت کے لئے مستقل طور پر دعائیں بھی کرتے رہنا چاہیے کہ دل و دماغ اللہ کے ہاتھوں کی انگلیوں کے درمیان معلق ہیں۔ میں بھی محمد بن سلمان کی ذہنی، نفسیاتی، اعصابی صحت یابی، شفاء، ہدایت کی اکثر دعا نام لے کر کرتا ہوں اور پاکستان میں جو اصل قوت اور جنگل کے بادشاہ ہیں ان کے نام لے کر بھی۔ کیونکہ دعا اور صدقہ ہی آئی ہوئی مصیبت، ابتلا ، آزمائش یا عذاب سے نجات کا راستہ یا تدبیر تجویز کرتا ہے۔
ریاض کی عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس کی اہمیت اس لئے زیادہ ہوگئی ہے کہ غزہ کی حماس، اسرائیل جنگ کے حوالے سے ریاض میں جمع شدہ عالمی قیادت کسی خاص نتیجے پر پہنچ سکے۔ سعودی وزیر خزانہ محمد الجدعان نے بالخصوص عالمی جنگوں اور جنگی ماحول کو معاشی تباہی قرار دیا ہے تو یہ بالکل درست موقف ہے۔ سعودی وزیر خزانہ کی توجہ درست ہے کہ غزہ کی اسرائیل، حماس جنگ کو اب رکنا چاہیے کہ ایسا ہونا عالمی امن اور عالمی معیشت کی شدید ضرورت بن گئی ہے۔
بات چونکہ سعودی عرب کی شروع ہے گزشتہ دنوں، سعودی عرب میں پہلا شراب خانہ کھلنے کی خبریں اخبارات اور سوشل میڈیا پر نظر آئیں۔ اس حوالے سے سعودی عرب کے خلاف ایک خاص مخاصمت رکھتے ذہن کی طرف سے منفی پروپیگنڈہ بھی نظر آیا۔ اصولاً تویہ ’’اجازت‘‘ صرف سفارت کاروں کے لئے ہے اور وہ بھی وزارت خارجہ سے اجازت نامے کے ساتھ ہے۔ یہ سہولت شاہ عبدالعزیز کے عہد میں بھی سفارت کاروں کو حاصل تھی مگر بعدازاں شاہ عبدالعزیز نے ایک المیہ کے باعث اس اجازت نامہ کو منسوخ کر دیا تھا۔ دعا کرنی چاہیے کہ محمد بن سلمان کی حکومت واپس دین کی طرف مکمل طور پر لوٹ جائے ۔پاکستان میں کنگ سلمان ریلیف سنٹر کی ویلفیئر کی عظیم خدمات کا اعتراف لکھ رہا ہوں۔ بلوچستان میں حالیہ سیلاب متاثرین کی جو سعودی ریلیف سنٹر کی طرف سے ہنگامی مدد ہوئی ہے اس پر شاہ سلمان، ولی عہد محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ جب شاہ عبداللہ زندہ تھے تو وہ بھی ریلیف سنٹر کے ذریعے پاکستان بلکہ ہر ملک میں مطلوبہ مالی و ہنگامی مدد فراہم کرتے تھے۔ 2005ء کے زلزلے میں پاکستان کی بہت مدد ہوئی۔ریاض میں وزیراعظم شہباز شریف اور ولی عہد کی جو ملاقات ہوئی اس پر ولی عہد کی طرف سے پاکستانی عوام کی خواہش کے احترام پر شکریہ ادا کرتاہوں۔ مطمئن ہوں کہ انشاء اللہ سعودی سرمایہ کاری پاکستان میں بھرپو ر ہوگی۔ یقینا آل سعود اہل فلسطین میں مفاہمت‘ یکجہتی کرانے کا بہت قابل احترام ماضی رکھتا ہے۔ ریاض اپنے سیکورٹی معاملات پر امریکہ سے معاہدہ کرنے کا حق رکھا ہے مگر یاد رہے امریکی ایران و سعودیہ کشمکش کو دوبارہ زندہ کرنے میں مصروف رہیں گے۔ میری نظر میں ولی عہد محمد بن سلمان کی آل سعود میں حیثیت محترم و مضبوط ہے لہٰذا وہ محض سیکورٹی کے نام پر امریکیوں کے یرغمال نہ بنیں بلکہ پاکستان انہیں وہ سب کچھ دے دے جو کچھ بھی عسکری ‘ سیکورٹی کے حوالے سے سعودیہ یا محمد بن سلمان کو ضرورت ہے تاکہ محمد بن سلمان‘ آل سعود امریکہ و مغرب کے ہاتھوں میں یرغمال نہ بنیں۔