سعودیہ مخالف یا کھلے انداز میں محمد بن سلمان اور محمد بن زید النہیان (الامارات) کو اسرائیل کے حوالے سے غلط پالیسی پرکاربند دکھانے میں کچھ اذہان مصروف ہیں۔ وہ یقینا پاکستان کے محسن عربوں سے نہ صرف لاتعلقی اپنا رہے ہیں بلکہ ایک ’’خاص‘‘ قسم کے عجمی انقلابی ملک کی جذباتی فلسطینی پالیسی یااسرائیل کو دنیاکےنقشےسےسمیٹ ڈالنے کی خواہشوں کی خودساختہ اور غیرحقیقت پسندانہ پالیسی کا بھی پرچار کررہے ہیں جبکہ بحراحمر اور باب المندب پر قبضے کےحوالے سےصرف حوثیوں کو ہی اب مکمل یمنی نمائندہ سمجھے بیٹھے ہیں، وہ غلط ہیں۔ میں نہ تو محمد بن سلمان (سعودیہ) کا ترجمان و وکیل ہوں نہ محمد بن زید النہیان (امارات) کا وکیل و ترجمان ہوں۔ ہاں آج بھی عربوں کا دوست‘ حامی‘ مددگار ضرور ہوں اور ایسا ذاتی نفع کی بجائے پاکستان اور عرب باہمی مفادات کے اعتبار سے ہے۔
کالم کا آغاز تھا کہ سعودی عرب کے خلاف سوشل میڈیا پر کچھ رائٹر یا مغربی اخبارات کی خبروں کو لے کر منفی باتیں کی جارہی ہیں لہٰذا خیال آیا کہ اصل معاملے کی وضاحت کی جائے۔ آزادی فلسطین کےحوالےسے ایران کا ایسا کردار ماضی سے موجود ہی نہیں کہ اس پر مکمل اطمینان ہوسکے۔ شاہ ایران نےجب اسرائیل کو تسلیم کیاہواتھاتب سعودیہ اور خلیجی ممالک،شیوخ، بادشاہتوں نے تسلیم نہیں کیا تھالہٰذا فلسطین عرب و صہیونی مسئلہ تھا،یہ تو 1979ء کےانقلاب نےیوم القدس تخلیق کیاتھا اورالقدس بریگیڈ بھی کبھی اسرائیل سےذاتی طورپرحالت جنگ میں مصروف نہیں رہاتھاہاں اس بریگیڈ نےیقینا عراق، شام،لبنان، یمن میں سنی عربوں کو منہدم کرنے، کمزور کرنے میں پراکیسز کے ذریعے کارنامے سرانجام دےرکھےہیں مگریہ کارنامے اورجنرل سلیمانی کی ایسی تمام کامیابیاں صرف ایرانی مولویوں کے ہاں پسندیدہ ہیں عام مسلمانوں کااس پرمتفق نہ ہونابھی قابل غورہے اورعربوں کاجنرل سلیمانی اوراس کی القدس سیاست سےالرجک ہونا بھی قابل غور ہوناچاہیے تھا، عرب ایک زندہ حقیقت ہیں ان کی سیاست،ان کا موقف، ان کا انداز فکر، ان کا مسئلہ فلسطین کو حل کرنےکاطریقہ بھی ایک تاریخی زندہ حقیقت ہے۔ یہ حقیقت یہ ہےکہ سعودیہ نے جو دو ریاستی فارمولہ دیاہواہے۔ او آئی سی اس فارمولے کو قبول کرتا ہے۔ اگر یہ فارمولہ طے ہو جاتا ہے تو مذاکرات نہ تو حماس سے اکیلے سےہوسکتےہیں نہ اکیلے اہل غزہ سے ۔ مذاکرات و معاملات طے تو پی ایل او سے ہوں گےجبکہ سعودیہ اورخلیجی شیو خ حکمرانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ماضی سے اب تک حماس کی بجائے پی ایل او سے تعلقات قائم کیے ہوئے ہیں۔ وہ پی ایل او کو الگ کرکےکیسے صرف حماس اور اہل غزہ کی قیادت کو مذاکرات، معاملات طے کرنےکامکمل حق دےدیں؟ اسی لئے سعودیہ ماضی میں الفتح اورحماس کی مفاہمت، صلح کی باربارکوششیں کرتا رہا ہےمگر ہربارصلح کےبعدصلح ٹوٹ جاتی رہی ہے۔ جب سعودیہ اس حوالے سے مکمل مایوس ہوگیاتو صدرپیوٹن نےروس میں باہم لڑتے فلسطینی گروہوں کو اپنے ہاں مدعو کرکےان میں اتحاد کروایا، یہ بھی ناکام ہوا۔ اب چین نے یہ کام کیا ہے چونکہ چین نے ایران و سعودیہ میں صلح کروائی ہے، امید پیدا ہوئی کہ حماس و الفتح میں اب کی بارصلح ہوجائےگی مگر یہ مکمل صلح،مکمل یکجہتی ہونہیں رہی۔ اسی سبب ’’نئی فلسطینی قیادت ‘‘ پیدا کرنے کا عرب موقف سامنے بھی آتا رہا ہے۔
اب محمد بن سلمان کے اندازفکرکو ملاحظہ کریں۔ وہ معاملات او آئی سی امریکہ و مغرب سے مذاکرات کےذریعے حل کرنے کی طویل ترین کوششیں کرچکے ہیں مگر نیتن یاہو اور صہیونی اذہان سعودیہ کودو ریاستی فارمولہ دینےکی بجائے اس کوشش میں رہتے ہیں کہ سعودیہ اور ان کے ذریعے عالم اسلام کو چھین کر اپنی جھولی میں ڈال لیا جائے۔ کیا محمد بن سلمان احمق ہیں جو یہ سب کچھ قبول کرلیں گے،کبھی ایسا قبول نہیں کریں گے۔ وہ ہر حال میں دوریاستی فارمولے پرعمل قبول کرکے ہی تعلقات معمول پر لائیں گے۔ کیا انہی نظر نہیں آتاکہ صدرطیب اردوان نےاسرائیل سے تعلقات برقرار رکھے،اس سے تجارت بدستور کرتے ہوئے سیاست کی تو ترک عوام نےخوداسی استنبول میں ان کی سیاست کاقتل عام کردیا اور دائیں بازو کی دوسری جماعت کو بلدیاتی انتخابات میں فتح کامل دے دی۔ اپنی سیاس کے احیاء جدیدکےلئے طیب اردوان نے اب اسرائیل سےمکمل تجارت بند کی ہے۔
محمدبن سلمان یاخلیجی ریاستیں یا کوئی بھی بادشاہت جب خود معاملات طے کرنے کا راستہ اپنالیتی ہوتو کیونکر اپنےعوام سےکسی کو یہ فتنہ و فساد پھیلانے کی اجازت یا موقعہ دےگاکہ وہ جذباتی اندازمیں حماس کی ایسی حمایت کریں جس سےعوام میں جنون یا اشتعال پیداہوتا ہو۔ میری نظر میں پاکستان،سعودی عرب، خلیجی ممالک یا مسلمان ممالک کبھی بھی اسرائیل کی تخلیق و مضبوطی اورفلسطینی عوام کےمسائل، مشکلات میں سہولت کارنہیں رہے بلکہ یہ سہولت کار کبھی شروع میں روسی تھے یوکرینی یہودی ہی اسرائیل میں دہشت گرد گروہ تھے پھر برطانیہ تھا، پھر فرانس تھا، پھر امریکہ و مغرب تھالہٰذاامریکہ، فرانس، برطانیہ،جرمنی اور مغربی ممالک کے عوام، یونیورسٹیوں کے اساتذہ و طلبہ اگر اپنی اپنی ’’اسٹیبلشمنٹوں‘‘ کی اسرائیل نواز پالیسی، سیاست سے باغی ہوگئے ہیں تو یہ درست عمل ہوا ہے۔ انہی امریکی و مغربی عوام جن میں انسانیت دوست مسیحی و یہودی بھی کثیر تعداد میں شامل ہیں، کے عوامی دبائو سے ممکن ہےجنگ ویت نام کی طرح امریکہ ومغربی ممالک کی اسرائیل نوازپالیسی ختم ہوجائے اسی لئےان ممالک کے انسانیت دوست عوام کے سوشل میڈیا کردار یا عوامی اجتماعات و مظاہروں کی حمایت میں دنیا بھر سے ہو رہی ہے کہ ان ممالک میں بادشاہتیں نہیں ہیں۔ نومبر میں امریکہ میں عوامی حمایت کا حصول نئے امریکی صدر کی بنیادی ضرورت ہےجبکہ خلیجی شیوخ ہوں یا عرب بادشاہتیں یا سعودیہ، نہ انہوں نے مسئلہ فلسطین پیدا کیا تھانہ فلسطینی عوام پراسرائیلی جبرو ظلم و استبدادکاکرداریاسہولت کارتھی بلکہ وہ تو مسئلہ فلسطین کےحل کو مذاکرات، ڈپلومیسی کےذریعےحل کرانے میں آج بھی مصروف ہیں لہٰذا اگرسعودیہ یاخلیجی ممالک امارات، کویت،بحرین،عمان،اردن، مصر، پاکستان اپنےہاں سوشل میڈیاپرعرب جنونی حرکتوں کی اجازت نہیں دےرہے۔ سعودیہ حرمین شریفین کی عبادت گاہوں میں کسی بھی سیاسی موقف کے اظہار، بیان، مظاہرےکی اجازت نہیں دے رہاتو اس میں غلط کیا ہے؟ اگر یہ اجازت دے دی جائے تو پاکستان وسعودیہ میں محض فتنہ و فساد اور عدم استحکام ہوگا۔ مسئلہ فلسطین تو پھر بھی حل نہیں ہوگا۔ یہ تفہیم میری ہےچاہے قبول کریں یامسترد کر دیں۔
سعودی سرمایہ کاروں کا ایک وفد پاکستان تشریف لارہا ہےمیں اسے خوش آمدید کہتا ہوں۔