تفسیر فی ظلال القرآن ازسید قطب شہید کا مطالعہ کرتے ہوئے اکثر پاکستان کی جماعت اسلامی، مصر کی الاخوان المسلمون اور صدر طیب اردوان کی سیاست کا اکثر تقابل کرتا رہتا ہوں۔ مشرق وسطیٰ کے مدوجذر اور معاملات سے خاکسار کو زیادہ دلچسپی رہتی ہے۔ اس کا کریڈٹ دینا ہو تو پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کے سربراہ ڈاکٹر مسکین حجازی کی طرف جاتا ہے یا انسائیکلوپیڈیا شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر سید عبداللہ کی طرف جنہوں نے میرے بی اے کے زمانے کے مضامین کی بناء پر مجھے قلم و قرطاس سے وابستہ اور مشرق وسطیٰ پر لکھنے کی ترغیب دی تھی۔
جمال عبدالناصر اور جنرل نجیب کا جو شاہ فاروق کے خلاف عسکری انقلاب رونما ہوا تھا 1952ء میں (یعنی میری پیدائش کے سال میں، میری پیدائش 19دسمبر 1952ء کو فیصل آباد سے متصل ایک دیہات چک 80گ ب میں آرائیں احمد دین کے بیٹے کے طور پر ہوئی تھی) برادرم ڈاکٹر سمیع اللہ ملک نے 4مئی کی اشاعت میں اپنے کالم میں مصر میں رونما ہوتی عسکری بغاوت کو برطانوی مصنف جیمز بار کی کتاب ’’دی لارڈز آف ڈیزرٹ‘‘ کے سبب سی آئی اے کی حکمت عملی قرار دیا ہے جبکہ اسی عہد میں ایران کے قوم پرست ڈاکٹر مصدق کا اقتدار کے خاتمہ کی کوششیں بھی 1952ء کے اردگرد کامیاب ہوئی تھیں اور سی آئی اے ایران میں شاہ ایران کے ذریعے گھسنے میں کامیاب ہوا۔ ڈاکٹر مصدق کے جرم عظیم تیل و پٹرول کو قومی صنعت میں لینا تھا اور برطانوی و جرمن آئیل کمپنیوں کو بے دخل کرنا تھا۔ عراق کی بادشاہت کا خاتمہ بھی اس سبب ہوا کہ عراقی بادشاہ قوم پرست تھا اور عراقی پٹرول پر امریکی و مغربی قبضے کے خلاف دیوار چین بن گیا اور پھر بعث پارٹی اور صدام حسین وغیرہ کے ذریعے سے اس عراقی بادشاہت کا اقتدار ختم کر دیا گیا تھا، کیا جنرل نجیب کے عسکری انقلاب سے امیدیں وابستہ کرلینا حسن النباء اور اخوانی غلطی تھی سیاسی یا اجتہادی؟ جبکہ پاکستان سے مولانا مودودی نے کسی عسکری اقتدار سے امیدیں وابستہ نہ کیں تھیں بلکہ پرامن، تشدد سے پاک سیاست اور جمہوری طریقہ کار کو عوامی حمایت کے سبب حصول اقتدار کا اسلامی جمہوری طریقہ بتایا بھی، اپنایا بھی، مگر مصر میں شائد حسن النباء سے شدید غلطی ہوگئی تھی کہ انہوں نے جنرل نجیب کے عسکری انقلاب سے امیدیں وابستہ کرلیں اور اسی عسکری انقلاب کے اگلے حکمران جنرل جمال عبدالناصر نے نہ صرف حسن البناء بلکہ اخوان کے لاتعداد خواتین و حضرات کو عذاب الیم سے دوچار کیا، کچھ کو شہید بھی کیا۔ 1952ء میں جو عسکری اقتدار طلوع ہوا مصر میں یہ ترکی میں بھی طلوع ہوتا رہا تھا، پاکستان میں ہوتا رہا، پہلا عسکری انقلاب جنرل ایوب خان 1950ء کے اردگرد لے کر آئے۔ جماعت اسلامی نے جنرل ایوب عہد کے عذاب جھیلے مگر اس کا ساتھ دیا نہ قبول کیا، البتہ میاں طفیل محمد نے بھٹو کے جبروظلم سے دوچار رہنے کے تجربات کے سبب جنرل ضیاء الحق کے عسکری انقلاب کو نہ صرف قبول کیا بلکہ اس کا ساتھ بھی دیا۔ پاکستان میں جماعت اسلامی کو نہ کبھی عوامی پذیرائی ملی، نہ جمہوری اکثریتی ووٹ ملا، نہ ہی مکمل اقتدار ملا مگر حیرت زدہ ہوں کہ امانت و دیانت کو مجھ سمیت عوام نے ہمیشہ الخدمت فائونڈیشن سے وابستہ کیا ہے۔
ان حالات میں جماعت اسلامی کو کراچی میں یکم دسمبر1972ء کو پیدا ہونے والا حافظ نعیم الرحمان بطور ’’امیر‘‘ میسر آیا ہے۔ حافظ نعیم الرحمان کراچی کو اپنی جدوجہد کا مرکز بنائے ہوئے تھے، کراچی کی خاص تہذیب و تمدن میں وہ ’’امید‘‘ کی شمع جلاتے رہے ’’جدوجہد‘‘ سے اس شمع کو توانائی فراہم کرتے رہے اور جمہوریت کے لئے قابل قدر کردار بنتے دکھائی دیتے رہے ہیں۔18اپریل کو انہوں نے منصورہ میں امارت کا حلف اٹھایا، اور پھر صحافیوں، کالم نگاروں، ایڈیٹروں سے متعدد ملاقاتیں کیں اور اسلامی جمہوریت کا نیا حوالہ بن کر وہ مطلع سیاست میں ماشاء اللہ نمودار ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام ’’جرگہ‘‘ میں گفتگو کی جو پاکستان بھر میں توجہ سے دیکھی، سنی اور سمجھی گئی ہے۔ ’’جرگہ‘‘ میں سوال اٹھایا گیا کہ کیا حافظ نعیم الرحمان جماعت اسلامی کو عوامی سطح پر زیادہ مقبول جماعت بنا سکیں گے جبکہ عاجزانہ میرا سوال ہے حافظ نعیم سے کہ کیا وہ جماعت سے وابستہ تھنڈراسکواڈ اور غنڈہ گردی کی حکایتوں، وارداتوں کا خاتمہ کر سکیں گے؟ کراچی والے شبر زیدی سابق چیئرمین ایف بی آر کو سن لیں وہ کیا کہہ رہے ہیں جماعت اسلامی کے بارے میں،جماعت و جمعیت کو اس سے پاک صاف کرسکیں گے؟
خاکسار کے شخصی مطالعہ کے مطابق حافظ نعیم الرحمان پرجوش، ایقان و یقین کی نعمت سے مالا مال اخلاقی بلند سطح کا کردار ہیں، وہ حق و سچ کے لئے جان لڑا دینے والے ہیں۔ وہ برج قوس کے مسکراتے، ہمیشہ پرامید شخص ہیں، وہ دوسروں کے لئے اپنے اندر جاذبیت اور کشش رکھتے ہیں۔ اسی لئے خاکسار انہیں اگلے دو تین سال میں جماعت اسلامی کو بہت زیادہ فعال، متحرک اور عوام میں بھی ماضی کی نسبت کافی زیادہ محبوب بناتا ہوا دیکھتا ہے۔ سید قطب کے فی ظلال القرآن کی جلد 2صفحہ254 میں لکھے ہوئے ’’معیار‘‘ کے مطابق وہ اسلامی منہاج کی قیادت اور سیادت ہیں اور یہی وہ بلند درجہ ہے جو کسی سیاسی انسان کو اس ’’بلند‘‘ ‘مقام تک پہنچا سکتا ہے جس کا راستہ اسلامی جمہوری نظام فراہم کر سکتا ہے۔
5مئی کو ان سے پاکستان میں ایرانی سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے منصورہ میں ملاقات کی ہے۔ ڈاکٹر رضا امیری مقدم بہت فعال و متحرک ایرانی سفیر ہیں۔ ہمیشہ ’’پرامید‘‘ رہنا اور ہمیشہ ’’جدوجہد‘‘ کرتے رہنا، ناموافق حالات کو موافق حالات میں تبدیل کرنا ان کی شخصی خوبی ہے۔ میری نظر میں انہیں ریاست پاکستان کی طرف سے اسی طرح کی مکمل آزادی اور آزادانہ رابطہ وتعلق کی مکمل سہولت و آزادی حاصل ہے جو کسی بھی ’’عرب‘‘ سفیر کو ہمیشہ میسر رہی ہے۔ خواہ یہ سعودی سفیر ہوں یا اماراتی و کویتی و عمانی و مصری۔
سعودیہ و ایران و عرب کشمکش میں عموماً ’’جماعت‘‘ الگ تھلگ رہی ہے، اس کے باوجود قابل غور یہ ہے کہ کبھی کوئی عرب سفیر یا سعودی سفیر منصورہ نہیں جاتا البتہ ایرانی سفیر ڈاکٹر مقدم پہلے سینیٹر سراج الحق سے جا کر ملے تھے اور اب ڈاکٹر مقدم ہی حافظ نعیم الرحمان سے ملے ہیں، یہ ملاقاتیں انشاء اللہ خیر و برکت کا باعث ہوں گی۔