Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

اپنا وطن ہی اپنا ہے

کل شب سوشل میڈیا پہ گردش کرتی اک وڈیو دیکھی ۔جس نے دل کو بہت رنجیدہ کر دیا اور میں رات بھر سو نہ سکا ۔ ذہن پر قومی اہمیت کے واقعات کی یادوں کے غول منڈلانے رہے۔ دھرتی ماں کی اہمیت اور فضیلت کے کئی ابواب کھلتے چلے گئے۔ اس کی ناقدری اور ناشکری کرنے والوں کی حماقت پر افسوس کے ساتھ غصہ بھی آتا رہا۔ سوچوں کا سلسلہ کچھ تھما توخیال آیا کیوں نہ اس درد ناک اور سبق آموز وڈیو کی تفصیلات آپ سے شیئر کی جائیں ۔ بھارتی شہر دہلی کے دورافتادہ مقام پر درختوں کا اک جھنڈ ہے۔ جس کے برابر گندہ نالہ بھی بہہ رہا ہے۔ اس کے کنارے کچھ بے ترتیب سی گھاس پھوس کی جھونپڑیاں بنی ہیں۔ یہ جھونپڑیاں کم اور چھپر زیادہ دکھائی دے رہے ہیں ۔جو اطراف سے گھنے خود رو پودوں سے گھری ہوئی ہیں ۔ذیلی زمین کچی اور کیچڑ زدہ لگ رہی ہے ۔مکھیوں اور مچھروں کی فوج ہر طرف بنبھنا رہی ہے۔ چھپروں کے آس پاس ننگے ترنگے بچے پھر رہے ہیں۔ باہر بچھی کھاٹ نمانچارپائیوں پر کچھ بوڑھے اور بیمار لیٹے کراہ رہے ہیں ۔یہاں کے مکینوں کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ اور قابل رحم ہے ۔ آبادی سے کوسوں دور جنگل بیابان میں بیسروسامانی کے عالم میں زندگی گزارنے پہ مجبور ہیں۔ یہ ماحول کسی طور بھی انسانی صحت اور زندگی کے لئے موزوں نہیں۔ پینے کو صاف پانی اور کھانے کو پوری خوراک نہیں۔ غربت بھوک آور عارضوں سے وہ ہڈیوں کے پنجر بن چکے ہیں ۔جسم پہ گوشت نام کی کوئی چیز نہیں ، چہرے مرجھا کر بجھے کوئلے کیطرح ہو گئے ہیں ۔آنکھیں اندر کو دھنس چکی ہیں جن میں بے بسی کے آنسو اور شکستہ خوابوں کی ریزے ہیں ۔ روئے زمین پر انکا کوئی پرسان حال نہیں۔ یہ وہ سوختہ نصیب ہندوخاندان ہیں جو کچھ عرصہ پہلے اچھے مسقبل کی خاطر پاکستان سے ہجرت کر کے انڈیا گئے تھے ۔ یہ لوگ بڑی امیدیں لے کر وہاں گئے تھے ۔آنکھوں میں روشن مستقبل کے سنہرے خواب تھے ۔ جنہیں مودی کی ظالم سرکار نے چکنا چور کر دیا ہے ۔ بیابان جگہ کو مہاجر کیمپ ڈیکلئر کر کے ان کی سکونت اور حرکت کو اس تک محدود کر دیا ہے ۔ ہر لمحہ ان پر جنگلی جانوروں اور زہریلے حشرات العرض کا خوف بھی طاری رہتا ہے ۔ بڑے عذاب کی صلیب پہ معلق ہیں ۔
ایسے مشکل حالات میں پھنسے ہیں کہ نہ ادھر اور نہ ادھر کے رہے ہیں ۔ان کی آنکھوں سے آنسو پیہم چھلک رہے ہیں اور لبوں پہ پچھتاوے کے نالے ہیں ، کہ انہوں نے پاکستان چھوڑ کر انڈیا جانے کا بلنڈر کیوں کیا ۔ اداب میزبانی کا لحاظ اور اپنائیت کا احساس دلانے کی بجائے بھارتی سرکار نے بھیڑ بکریوں کی طرح انہیں باڑے میں مقید کر دیا ہے۔ وہ آزاد گھوم پھر بھی نہیں سکتے۔ان کو شناخت اور نہ کوئی شہری اورسفری دستاویزات ہنوز ملی ہیں ۔اس پہ مستزاد انہیں مشکوک نظروں سے دیکھا جاتا ہے ۔جیسے وہ مہاجروں کے روپ میں سب جاسوس ہوں ۔ وہ شدید ملال اور ندامت کے حساس سے دوچار ہیں کہ کاش وہ اپنا ملک نہ چھوڑتے ۔ وہ بلک بلک کر رو رو رہے تھے ، جھولی پھیلا کر مدد کے لئے حکومت پاکستان سے اپیل کر رہے تھے جب کیمرہ مین نے ان کی ویڈیو بنا رہا تھا ۔ یہ منظر بہت دلدوز تھا ۔ مجھے ان غریب الوطن پاکستانیوں کی حالت زار پر دلی دکھ ہوا ۔ ان کی مجبوری اور بے بسی پر ترس آیا ۔ ذہن ابھی اسی کیفیت میں تھا کہ فیس بک پر لعنتیں سمیٹتی اک پوسٹ کا نشتر دل ودماغ میں چبھ گیا ۔میرا حب الوطنی کا جذبہ بھڑک کر غصے میں بدل گیا ۔ سمجھ نہیں آ رہی تھی ایسے عقل کے مارے بد بختوں کا کیا جائے جو دیار غیر میں بیٹھ کر نمک حرامی کر کے دشمنوں کی خوشی کا وسیلہ بن رہے ہیں ۔جن کے لفظوں میں ملک کے خلاف نفرت کی بدبو اصلی دشمنوں سے بھی کہیں زیادہ ہے ۔ فسردہ دل کے ساتھ دیر تک سوچتا اور کوستا رہا، کاش ان احمقوں کو احساس ہو جائے کہ وہ اسی شاخ پہ وار کر رہے ہیں جس پہ بیٹھے ہوئے ہیں ۔
یہ پوسٹ پاکستان کے پہلے سیٹلائیٹ مشن کو چاند پر بھیجنے کے متعلق تھی ۔جس کی کامیابی پر ہر محب وطن پاکستانی فخر و انسباط سے سرشار تھا ۔مگر اک بد بخت نے فیس بک پر اس پر انتہائی منفی ریمارکس لکھ کر اپنے بغض کا گند پھینکا ہوا تھا ۔جو کسی بھی محب وطن کیلئے بڑا تکلیف دہ اور ناقابل برداشت تھا۔ میں نے اس کا پروفائل چیک کیا تو اس کی اصلیت کا کھرا مل گیا ۔ اس کے بغض اور نفرت کی وجہ سمجھ آگئی ۔اس کا تعلق اس طبقے سے تھا جو اک فرقے کی صورت اختیار کر چکا ہے ۔جو آئے روز ملکی امن کے خاموش پانیوں میں پتھر پھینکتا ہے ، سیاسی بدامنی کی بجھتی راکھ کو باد احتجاج سے زندہ کر دیتا ہے ۔ شب و روز ملکی ادروں پہ چاند ماری کرتا ہے ۔ہر صبح اپنی زنبیل سے اک عجیب اور نئے جھوٹ کا غبارہ نکال کر ہوا میں چھوڑ دیتا ہے ۔ملکی یکجہتی اور اتحاد کی دیواریں پہلے ہی اس کے زہریلے پروپگنڈا سے لرز رہی ہیں خاندانی بندھن اور رشتے بھی اس کے اثرات سے کمزور ہوتے جارہے ہیں ۔ جانے انجانے میں وہ ملک دشمنوں کا کام آسان کر رہا ہے ۔ جسکی تصدیق بھارتی تجزیہ کار میجر گورو آریا بھی کئی بار کر چکا ہے ۔ میری التجا ہے اپنے بھٹکے ہوئے دوستوں سے کہ وطن کی قدر کریں ۔ ان کی ملک سے محبت پہ کوئی شک نہیں ۔
مجھے یقین ہے وہ مجھ سے بھی زیادہ محب وطن ہیں ۔ مگر اک خاص ذہنی کیفیت میں وہ یہ سب حماقتیں کر رہے ہیں ۔ یاد رہے سیاسی راہنما آتے جاتے ہیں ان کی خاطر ملک کو برا بھلا کہنا کسی طور بھی ٹھیک نہیں ۔ یہ ملک ہے تو سیاست اور سیاسی لیڈرز بھی ہیں ۔ خاکم بدہن یہ ملک نہ رہا تو پھر آپ کو اس کی قدر و قیمت کا احساس ہو گا ۔ بھارت میں ہجرت کر کے جانے والے پاکستانی ہندو خاندانوں کی حالت سب کے لئے نشان عبرت ہے ۔ اس سے سبق سیکھیں ، کشمیریوں اور فلسطینیوں کو وطن کی اہمیت کا ذرا پوچھو ۔ حکومت وقت اور مقتدرہ سے بھی دردمندانہ اپیل ہے کہ ملکی سلامتی ، اتحاد اور خوشگوار باہمی رشتوں کے قیام کے لئے خصوصی اقدامات کرے ۔ ملک کی سلامتی اور بقاء سے کھیلنے والوں سے کوئی رعایت نہ کی جائے ۔سپریم کورٹ سے التماس ہے کہ ہر شہری کو بلا امتیاز عدل و انصاف کی فراہمی یقینی بنائے ۔ کسی سیاسی پارٹی یا فرد سے امتیازی سلوک روا نہ رکھا جائے ، بشرطیکہ وہ سیاسی پارٹی ہی ہو ۔ بکھرتی ہوئی قوم کو اکٹھا کرنے کی ہر کوشش کیجائے، اسی میں ہم سب کی بقا اور بہتری ہے ۔ ورنہ سب کف تاسف ملتے رہ جائیں گے ۔
خون دل دے کے نکھاریں گے رخ برگ گلاب
ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے

یہ بھی پڑھیں