پاکستان اور سعودی عرب اقتصادی شراکت داری کے ذریعے متعدد شعبوں میں سرمایہ کاری کے نئے مرحلے میں داخل ہونے والے ہیں کیونکہ 50 لوگوں کا ایک اعلیٰ سطحی سعودی تجارتی وفد اسلام آباد آیا تھا جس کا مقصد مختلف شعبوں اور پاکستانی معیشت کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے متعدد معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کرنا تھا۔ وفاقی وزرا مصدق ملک اور جام کمال خان علیانی نے وفد کا نور خان ہوائی اڈے اسلام آباد پہنچنے پر استقبال کیا۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیلی کام، توانائی، ہوا بازی، تعمیرات، کان کنی، زراعت اور انسانی وسائل کی ترقی سمیت مختلف اقتصادی شعبوں کی نمائندگی کرنے والی تقریباً30 سعودی کمپنیوں کے سربراہان وفد کا حصہ تھے۔ اس دورے سے پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو تقویت ملی اور پاکستان سعودی اقتصادی تعلقات کو نئی رفتار ملی ہے۔جیسا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ دورہ سعودی عرب کے دوران تصور کیا گیا تھا۔
وفدنے دو روزہ پاکستان سعودی عرب سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت کی جو دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے اسلام آباد میںہوئی۔ سعودی عرب کے 50 رکنی اعلیٰ سطحی تجارتی وفد نے کانفرنس میں شرکت کی تاکہ مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی تاجروں کے ساتھ مضبوط تعلقات استوار کیے جا سکیں۔پاکستان کی معروف کاروباری کمپنیوں اور تاجروں نے بھی کانفرنس میں شرکت کی اور پاکستان میں مختلف شعبوں میں کاروبار اور سرمایہ کاری کے امکانات کے بارے میں بریفنگ دی۔بزنس ٹو بزنس میٹنگز خاص طور پر زراعت، کان کنی، انسانی وسائل، توانائی اورکیمیکل جیسے شعبوں کو زیر بحث لایا گیا۔مزید برآں، یہ بات چیت ریفائنری، آئی ٹی، مذہبی سیاحت، ٹیلی کام، ایوی ایشن، تعمیرات، پانی اور بجلی کی پیداوار سمیت دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات پر توسیع کرے گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور برآمدات کو فروغ ملے گا۔ اسلام آباد اور ریاض کے درمیان سرکاری اور نجی سطح پر تعاون بڑھایا جائے گا۔پیٹرولیم، بجلی اور آئل ریفائننگ کے شعبوں کے حوالے سے وفاقی سطح پر بات چیت ہوگی، 8 سے 10 ارب ڈالر کے تقریبا 8 سے 10 منصوبے بھی زیر بحث آئیں گے۔
سعودی عرب تیل پر مبنی معیشت ہے جس میں بڑی اقتصادی سرگرمیوں پر حکومت کا مضبوط کنٹرول ہے تاہم اب یہ ویژن 2030 ء کے تحت تیل پر انحصار کم کرنے، آمدنی کے ذرائع کو متنوع بنانے اور مسابقت بڑھانے کے لیے تبدیلی سے گزر رہا ہے۔اس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ نجی شعبے کی ہر ممکن مدد کرے گا تاکہ ملک کو برآمدات کے ذریعے ترقی کی جانب گامزن کیا جا سکے۔ ان کے مطابق، حکومت متعدد صنعتوں کو سپورٹ کرنے کے لیے ایف ڈی آئی کو راغب کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔ وزیر خزانہ نے ملک میں معیشت کی صورتحال کا خلاصہ پیش کیا اور کہا کہ یہ درست سمت میں جا رہی ہے۔ گندم، چاول اور گنے کی بمپر فصلوں کی وجہ سے، زراعت کی جی ڈی پی 5 فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ رواں مالی سال کے لیے ملک کا کرنٹ اکانٹ خسارہ 1 بلین ڈالر سے کم رہے گا۔ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 9 ارب ڈالر ہو گئے ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ دس ماہ کے دوران مقامی کرنسی مستحکم ہے اور افراط زر کی شرح تقریبا 17 فیصد تک کم ہو گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نجکاری کے عمل کو بھی تیز کرے گی۔
وزیر پیٹرولیم مصدق ملک نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور سعودی عرب دونوں کے نجی شعبے کو معیشت کے تنوع اور ویلیو ایڈیشن کی طرف بڑھنے کے لئے مل کر کام کرنا چاہیے۔ ہماری تاریخ، ہمارا رشتہ، ہمارا بھائی چارہ 1450 سال پرانا ہے اور آج ہم یہاں اپنے بھائی چارے کا جشن منانے کے لئے آئے ہیں۔ مصدق ملک نے، جو کہ سعودی پاک دو طرفہ تعاون کے فوکل پرسن بھی ہیں، کانفرنس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان کانوں اور معدنیات، سیاحت اور زراعت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون جاری ہے۔ سعودی نائب وزیر سرمایہ کاری ابراہیم المبارک نے کہا ہے کہ سعودی حکومت اور کمپنیاں پاکستان کو اعلیٰ ترجیحی اقتصادی، سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع سمجھتے ہیں۔
سعودی نائب وزیر سرمایہ کاری نے کہا کہ ان کا ملک پاکستان کی آبادی، محل وقوع اور قدرتی وسائل سمیت اقتصادی صلاحیت پر یقین رکھتا ہے۔ پاکستان سعودی عرب کا ایک بڑا سٹریٹجک پارٹنر ہے۔ مشترکہ عقیدے، ثقافت اور مشترکہ اقدار سے جڑے برادرانہ تعلقات کے بارے میں ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج اسلام آباد میں شروع ہونے والی دو روزہ پاکستان سعودی عرب سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کو اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ اجتماع پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے دستیاب عظیم مواقع کے بارے میں گہرا ادراک پیدا کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ دونوں ممالک کے سرکاری اور نجی شعبے اپنی شراکت داری کو اگلی سطح تک لے جا سکتے ہیں۔ ابراہیم المبارک نے ذکر کیا کہ سعودی عرب تقریباً 20 لاکھ پاکستانیوں کا گھر ہے جنہوں نے مملکت کے ویژن 2030 ء میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔پاکستان اور سعودی عرب دونوں نے دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو بڑھانے کے لیے اپنے عزم کا اظہار کیا ہے اور یہ کانفرنس اس کا ثبوت ہے۔کہ سرمایہ کاری کانفرنس نہ صرف دیرپا کاروباری تعلقات استوار کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم فراہم کرے گی بلکہ دونوں ممالک کے لیے اقتصادی ترقی کو فروغ دیتے ہوئے باہمی طور پر فائدہ مند صورتحال بھی پیدا کرے گی۔اس کانفرنس سے دونوں ممالک کے درمیان علم، مہارت اور ٹیکنالوجی کے تبادلے کو فروغ دینے میں بھی مدد ملے گی۔