Search
Close this search box.
جمعرات ,09 جولائی ,2026ء

آزاد فلسطین؟ خامنہ ای کا یقین محکم اور شاہ ایران

امام خمینی کے یوم القدس کے حوالے سے تو کئی بار لکھ چکا ہوں۔ مگر فلسطین پر رضا شاہ پہلوی کا موقف سامنے آیا تو ساتھ ہی آیت اللہ علی خامنہ ای کا آزادی فلسطین پر یقین محکم بھی سامنے آیا ہے بہت مماثلت دیکھ رہا ہوں مذہبی انقلابی ایران میں اور رضا شاہ پہلوی کے لبرل‘ سیکولر ایران میں فلسطین کے حوالے سے ’’درد‘‘ سے یکساں مبتلا ہیں۔ حیرت ہوئی کہ ان دو انتہائوں ‘ مذہبی ایرانی سوچ اور سیکولر ایرانی شاہی سوچ میں نطبیق و اتفاق کیسے دیکھوں؟
سب سے پہلے تو آیت اللہ علی خامنہ ای کا یقین محکم دیکھتے ہیں۔ کچھ ایرانی شخصیات کے ہاں علامتی شناخت کے طور پریہ الفاظ کندہ ہیں عربی میں۔ عربی ہی میں لکھ رہا ہوں تاکہ عربی سے ایران کی محبت بھی سامنے لاسکوں۔ ’’قدر اللہ ان فلسطین سوف تحرر‘‘ امام خامنہ ای فارسی ۔ ترجمہ۔ ’’تقدیر خدا وند این است کہ فلسطین آزادی خواھد شد‘‘ اللہ تعالیٰ نے یہ تقدیر لکھ رکھی ہے کہ عنقریب فلسطین لازماً آزاد ہوگا‘ علامہ اقبال جس کو ایرانی اقبال لاہوری کہتے ہیں اپنی ایک رباعی میں ’’غلامی سے بتر (بدتر) ہے بے یقینی‘ بتاتے ہیں اقبال کی اسی رباعی میں یقین محکم عمل پیہم‘ محبت فاتح عالم‘‘ بھی لکھا گیا ہے۔ کیا یہ رباعی آیت اللہ علی خامنہ ای پر صادق نہیں آرہی کہ انہیں آزاد فلسطین کے حوالے سے یقین محکم ہے کہ اس کے مقدر میں اللہ تعالیٰ نے لکھ دیا ہے کہ وہ لازماً آزاد ہوگا۔ ’’انشاء اللہ‘‘ میں اپنی طرف سے لکھ رہا ہوں۔ اسی علامتی شناخت سے پتہ چلتا ہے کہ ایرانیوں کے دو رہبر ہیں۔ ایک خمینی اور دوسرے خامنہ ای۔ ایرانی تقاریب میں خواہ سفارت خانے میں ہوں یا کسی بڑے ہوٹل میں تو ان دونوں کی تصاویر آویزاں ہوتی ہیں۔ یہ پہلو آ ج سے قبل مجھے دکھائی نہ دیا تھا‘ حیرت ہے اتنی اہم علامت کو سمجھنے سے قاصر رہا۔
اس کے ساتھ ہی خامنہ ای کی مسکراتی ہوئی سفید داڑھی والی تصویر موجود ہے۔ ایرانیوں کے ہاں عورت کے حجاب کے حوالے سے جو روایت ہے اس میں عورت کا چہرہ کھلا ہوتا ہے۔ یہی صورتحال ترکوں کے ہاں بھی ہے۔ میرے خیال میں چہرے کو برقع سے یا چادر کے کپڑے سے چھپالینے سے جیسا کہ عربوں اور کچھ سلفیوں میں خاندانی روایت ہے ‘ اس سے ایرانی اور ترک انداز حجاب زیادہ حقیقت کے قریب ہے۔ اس سے مسلمان عورت نفسیاتی طور پر زیادہ مضبوط ہے۔
شاہ ایران کا ایک امریکی صحافی سے انٹرویو نظر سے حال ہی میں دوبارہ گزرا جو1976 ء میں ریکارڈ کیا گیا تھا یعنی تقریباً49 سال پہلے۔ اس انٹرویو میں صحافی سے شاہ ایران نہایت سنجیدگی سے امریکہ میں جیوش لابی کی طاقت کا تذکرہ کرتے ہیں اور یہ کہ فلسطینی عوام کو1967 ء سے پہلے کے جو علاقے ہیں وہ واپس ملنا چاہیں یعنی اسرائیل کو1967 ء کی جنگ سے پہلے کے اپنے حقیقی جغرافیہ میں واپس چلے جانا چاہیے۔ یہ موقف اور شاہ فیصل کا موقف کتنا یکساں ہے ؟ شاہ ایران صحافی کو بتاتے ہیں کہ یہودی لابی کی طاقت اس کے میڈیا میں اثرات سے بھی لگاسکتے ہیں۔ بینکوں‘ معاشی اداروں‘ معیشت کو یہودی لابی کنٹرول کرتی ہے۔ اخبارات کو یہی لابی کنٹرول کرتی ہے۔ صحافی نیو یارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ کا نام لے کر پوچھتا ہے کہ کیا شاہ ایران کا مقصد ان دو اخبارات کا مکمل طور پر یہودی اجارہ داری میں ہونا ہے؟ تو شاہ بہت محتاط انداز میں جواب دیتے ہیں کہ ان اخبارات کے فلسطین اور اسرائیل کے حوالے سے لکھے گئے مضامین اور کالموں کو جمع کرکے دیکھ لیں۔ صحافی انہیں مزید کریدتاہے کہ کیا یہ دونوں اخبارات مکمل طور پر اسرائیل کے حوالے سے ایک فریق ہیں؟ ایک شاطر سیاستدان کی طرح شاہ ایران ان سے کہتے ہیں کہ ان اخبارات کے تمام مضامین‘ کالمز اکٹھے کرکے انہیں کمپیوٹر کے سپرد کر دیں جو کچھ کمپیوٹر سامنے لائے گا وہی قبول کرلیں۔
سچی بات یہ ہے۔ ایرانی تدبر و فراست جو مذہبی اسٹیبلشمنٹ میں بھی کافی موجود رہا ہے او ر یقین محکم بھی ‘ مجھے تو شاہ ایران کے امریکی صحافی سے بات چیت کرتے ہوئے بھی بہت مضبوط نظر آتا رہا ہے۔ اگر مذہبی ایرانی اسٹیبلشمنٹ کو میرے قلم سے شاہ ایران کا تذکرہ برا محسوس ہو تو مجھے ہرگز ملامت مت کریں۔ میں ایرانی قوم پرستی کو شاہ ایران اور مذہبی ملا سوچ ‘ فکر میں یکساں طور پر دیکھتا ہوں۔ دیکھتے ہیں کہ شاہ ایران نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہوا تھا۔ اسرائیل سے تعلقات بھی تھے مگر1976 ء میں وہ کھل کر ‘ ترک صدر طیب اردوان کی طرح اسرائیلی جارحانہ رویئے پر امریکی صحافی سے گفتگو کرتے ہیں اس کا مطلب ہے ک وہ محتاط ضرور تھے مگر وہ یہودی لابی اور صیہونی اسرائیل سے مکمل طور پر آگاہ بھی تھے۔
حیرت انگیز بات ہے کہ شاہ ایران کا بھی وہی حشر ’’انقلاب‘‘ کے ذریعے ہوا جو حشر عثمانی خلیفہ کا ترک انقلاب کے ذریعے ہوا تھا‘ فرق صرف یہ ہے کہ ترک عثمانی خلیفہ کو سیکولر‘ لبرل‘ عرب دشمن اتاترک نے اقتدار سے محروم کیا‘ اسرائیل کو تسلیم کیا‘ عربی زبان پر پابندی لگا دی‘ مذہبی شخصیات اور علامتوں پر پابندی لگا دی۔ یہ عثمانی معزول ترک خلیفہ ایک صدی تک یورپی سرزمین پر مفلس ‘ غربت ‘ توہین سے د وچار ہوا اور یہ سلوک اس کے ساتھ صیہونی طاقتوں نے اتاترک کے ذریعے کر دیا۔
معزول شاہ ایران کو نہ امریکہ میں پناہ ملی نہ ہی مغربی کسی ملک میں بلکہ مصر کی اسی سرزمین پر جس کی ملکہ ایران کو وہ طلاق دے کر مصر کی توہین کرچکا تھا۔ یہ تقدیر بھی کیا ہے‘ یہ مقدر بھی کیا ہے؟ بہرحال فلسطین کے حوالے سے امام خامنہ ای اور شاہ ایران کا تذکرہ لکھتے ہوئے آخری لمحات میں دل بہت دکھی ہوگیا ہے۔
6 اور 7مئی کی رات سعودیہ نے غزہ و رفح کے حوالے سے اسرائیلی جارحانہ عزائم کے خلاف جو سخت ترین موقف دیا تھا اس کا بہت دلچسپ ردعمل ظاہر ہوا۔ صیہونی نیتن یاہو یا سی آئی اے نے محمد بن سلمان پر ذاتی حملے کی افواہیں پھیلا دیں۔ یہ سراسر جھوٹ تھا‘ محمد بن سلمان ماشاء اللہ محفوظ ہیں‘ مستحکم ہیں اور اپنے نوجوان سعودی عوام میں بہت مقبول بھی۔ اللہ تعالیٰ آل سعود کے اندر اتفاق و اتحاد اور یکجہتی قائم رکھے۔ اس وقت آل سعود اور سعودیہ کا اندرونی استحکام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہم مکمل طور پر آل سعود اور سعودیہ کے ساتھ ہیں اور بزرگ و علیل شاہ سلمان کی صحت یابی کیلئے د عاگو ہیں۔

یہ بھی پڑھیں