وطن عزیز کو بنے پون صدی ہو رہی ہے ۔ اس کی بنیاد اسلام پہ رکھی گئی تھی۔ آزادی کی بڑی قیمتی چکانا پڑی تھی ۔ جان و مال کی عظیم قربانیوں کے بعد یہ ملک حاصل ہوا تھا ۔ اس کی اساس میں شہیدوں کا لہو اور اسلاف کی جدوجہد کا پسینہ شامل ہے ۔ اس کے قیام کا مقصد مسلمانوں کو ایسا ماحول دینا تھا جہاں مذہب اورتہذیب کے مطابق وہ زندگی گزار سکیں ۔امید تھی آزاد ملک ہمیں اچھا مسلمان اور شہری بننے میں ساز گار ماحول فراہم کرے گا ۔مگر عملاً اس کے برعکس ہوا ۔ مقصد صحیح مگر حکمت عملی ناقص تھی ۔منزل کا چنائو ٹھیک مگر سمت غلط تھی ۔جس کے باعث قومی اور دینی مقاصد میں ہم کامیاب نہیں ہو سکے ۔جبکہ ہمارے بعد بننے والے ممالک ہم سے بہت آگے نکل گئے۔ جن میں سیکولر نظریات کے حامل ممالک بھی شامل ہیں ۔ جن میں انڈونیشیا کا نام سر فہرست ہے ۔ سیکولر ہونے کے باوجود وہاں مسلمانیت کا معیار ہم سے کہیں درجہ بہتر ہے ۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا اسلامی ملک ہے۔ اس کی پچاسی فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے ۔دلچسپ امر یہ ہے کہ انہوں نے مذہب کو ریاست سے الگ رکھا ہوا ہے۔مذہبی معاملات میں ریاست مداخلت کرتی ہے نہ مذہب کو ریاستی امور پہ اثر انداز ہونے دیا جاتا ہے ۔یوں مذہبی، معاشرتی اور ریاستی معاملات میں اک خاص توازن ہے ۔ آپ جان کر حیران ہوں گے مسلم آبادی کا تقریبا ً پینسٹھ فیصد حصہ مذہبی جماعتوں سے وابستہ ہے۔ ملک میں دو بڑی مذہبی جماعتیں ہیں۔ جن کا سیاست کی طرف بہت کم رغبت و رحجان ہے ۔ وہ کسی مذہبی معاملے میں ریاست پر دبائو نہیں ڈالتیں ۔اسی طرح ریاست بھی مذہبی معاملات میں مداخلت سے گریز کرتی ہے ۔ کسی خاص عقیدے یا مذہبی فکر کو مسلط کرنے کی کوشش نہیں کرتی۔ دین کا معاملہ کلی طور پر افراد اور سماج پہ چھوڑا ہوا ہے ۔ وہ سمجھتے ہیں دین کا معاملہ خالصتاً اللہ اور بندے کے مابین ہے ۔اس میں کسی طرح کی سختی یا پابندی مناسب نہیں ۔ایسی آزاد اور روشن خیال سوچ کے باوجود وہاں لوگوں کی دین سے گہری قربت اور لگائو ہے ۔ مغربی طرز کی تمام تفریحی اور عیاشی کی سہولیات کی موجودگی کے باوجود لوگ بے راہ روی کا شکار اور نہ دین سے دور ہوئے ہیں ۔اعلی اخلاقی تربیت اور تعلیم کی بدولت بے حیائی اور بداخلاقی کو پھیلنے نہیں دیا۔ مسجدیں عبادت گزاروں سے بھری رہتی ہیں ۔کالج اور یونیورسٹی کے طلبا و طالبات نماز اور قرآن کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں ۔ اسلامی شعائر کی پورے خشوع و خضوع سے پاسداری کرتے ہیں ۔
اب آئیے وطن عزیز کی طرف جو اسلام کے نام پہ معرض وجود میں آیا ۔ابتدا سے ہی نفاذ اسلام کا مطالبہ زور شور سے گونجنے لگا۔ ڈھیر ساری مذہبی و سیاسی تشخص کی حامل جماعتوں کے مطالبات کے پیش نظر قرارداد مقاصد میں اسلامی ریاست کا خاص تصور شامل کیا گیا ۔ پھر 1973 کے آئین میں مذہبی نوعیت کی شقیں ڈال کر کے ہر شہری کو اس کا پابند بنا دیا گیا ۔
ہمارے ہاں بے شمار مذہبی جماعتیں ہیں ۔ جن میں کچھ سیاست میں بھی بھر پور سرگرم ہیں ۔ کچھ ایسی بھی ہیں جو بظاہر محض مذہبی پرچار اور تبلیغ تک محدود ہیں ۔ایسی جماعتیں آئے روز کسی مذہبی معاملے میں ریاست کو گھسیٹ لیتی ہیں ۔کبھی کسی اور کبھی کسی نام پر اسمبلی سے اس ضمن قراردادیں پاس کرانے کے لئے دبائو ڈالتی ہیں ۔کبھی مذہبی عقائد کے عین مطابق نفاذ اسلام کی تحریکیں چلاتی ہیں ۔ اس مقصد کی تکمیل میں جان و مال کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرتیں۔ جس سے آپ ان کے مذہبی جذبات کی شدت اور گہرائی کا اندازہ کر سکتے ہیں ۔اس قدر سخت مذہبی رحجان اور جذبات کے باوجود بحیثیت قوم ہم نے انسانیت اور نہ مسلمانیت کا مطلوبہ معیار چھویا ہے۔اخلاقی ، معاشرتی اور معاشی ترقی کی بجائے بتدریج تنزلی کے سفر پر ہی گامزن ہیں۔ ملک میں نفاذ اسلام اور نہ امن و استحکام قائم کر سکے ہیں جو کسی بھی اچھے اسلامی معاشرے کا مظہر ہوتا ہے ۔ آئیے اس تضاد اور بے ثمر مشق کی وجوہات کا جائزہ لیں ۔ میری دانست میں بڑی وجہ یہ کہ ہم نے سماج اور ریاست کی ذمہ داریوں کو آپس میں گڈ مڈ کیا ہوا ہے ۔ دونوں کے دائرہ کار اور ذمہ داریوں کی حدود اور تفریق کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ بہت ساری ذاتی اور نجی نوعیت کی ذمہ داریاں بھی ہم نے ریاست کے کھاتے ڈال رکھی ہیں۔ جو عملی طور پر غیر منطقی ہے اور ناقابل عمل ہیں ۔ جیسے افراد کو اچھا مسلمان اور شہری بنانے کی ذمہ داری بھی ہم نے ریاست پہ ڈال رکھی ہے۔ جو کسی اعتبار سے بھی قابل عمل نہیں ہے ۔ ریاست قانون کی پابندی یقینی بنا کر کسی حد تک اچھا شہری بنانے کی سعی تو کر سکتی ہے مگر کسی کو اچھا مسلمان بنانا اس کے بس کا روگ نہیں ۔ کسی کی کرداری سازی اور اخلاقی تربیت کرنا اس کی استطاعت سے باہر ہے ۔ جو کام والدین اور سماج کو کرنا چاہئے ہم نے وہ ریاست کے سر تھونپ دیا ہے۔ جس کے باعث ہم مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔ ہم ہیں کہ پانی میں مدھانی ڈال کر مکھن کشید کرنے کو ہلکان ہوئے جا رہے ہیں۔ ماں کی گود اور خاندانی چھتری بچے کی تربیت کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے ۔اس کی ذہن سازی اور کردار سازی کا فطری آغاز یہاں سے ہوتا ہے۔ بچے کو اچھا انسان بنانے میں ماں کا کلیدی کردار ہے ۔ اچھی مائیں اچھی قومیں تشکیل دینے میں سب سے بڑی معاون ہوتی ہیں ۔جب گھر ،گلی اور محلے سے پروان چڑھنے والی پود با کردار اور باوصف ہوگی تو اسلامی اقدار کا حامل بہترین معاشرہ متشکل ہو گا۔ یاد رہے روز محشر بچوں کو تعلیم و تربیت کی پوچھ گچھ والدین سے ہوگی۔ ہر بندہ اپنے ذاتی اعمال اور ذمہ داریوں گا جوابدہ ہوگا، جس میں ریاست کا عمل دخل کہیں بھی نظر نہیں آتا ۔ وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی اور ریاست کی ذمہ داریوں کی صحیح پہچان کریں ۔
ریاست کو مذہبی اور سماجی معاملات سے الگ رکھیں ۔اس کو قانون سازی، ملکی دفاع اور فلاح کے کاموں تک محدود رہنے دیں ۔ جبکہ سماج کو مذہبی تعلیم ، اخلاقی تربیت اور قومی کردار سازی کے فرائض کو اپنے ذمے لینا چاہئے ۔ تیز رفتاری کے اس دور میں والدین کو بچوں کو دینے کے لئے وقت کم ہے ۔ باہمی مکالمہ سے مسائل سلجھانے کا رواج ختم ہو گیا ہے۔ نو مولود بچے کی دیکھ بھال سے لے کر اس کی تربیت اور تعلیم کی ذمہ داری دوسروں کے سپرد کر نے کا رواج بن گیا ہے۔ جب خود گھر کی صفائی کرنے سے ہم عاری ہو جائیں تو محلے اور ملک کی صفائی کی فکر ہمیں کائے کی ہوگی ۔ ہر کام کے لئے ذاتی یا ریاستی ملازمین کی طرف دیکھنے کی روش ہمیں سست اور بے حس بنا رہی ۔ جس کے باعث بہت سارے اہم معاملات لٹک جاتے ہیں ، کیونکہ ان کے حل کی ذمہ داری کا واضع تعین اور تفہیم نہیں ہے ۔آئو ہم اجتماعی سوچ کے ساتھ خود احتسابی کریں ۔ اس کا آغاز ،اپنی ذات ،گھر اور پھر اس کا دائرہ قومی سطح تک بڑھائیں۔ سماجی ذمہ داریوں کو دیانتداری اور قومی جذبے کے ساتھ سمجھیں اور نبھائیں ۔آپ دیکھیں گے ایسی فکری اور عملی تبدیلی ملک کی تقدیر بدل دے گی۔ ترقی و خوشحالی کے مرجھا جانے والے شجر پر برگ و بر نکل آئیں گے ۔ بس ذرا کوشش توکریں۔