Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

کسانوں کی محنت جرم بن گئی

پرانے دور کی مشہور کہاوت ہے جس نے سبق یاد کیا اسے چھٹی نہ ملی ۔ جس نے محنت کی اسے صلہ نہ ملا ۔ مطلب محنت کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنے کی بجائے انکا استحصال کیا جاتا ہے ۔ ان پر مزید بوجھ ڈال دیا جاتا ہے ۔ جب تک زچ ہو کر ہاتھ کھڑا نہ کر دیں ان کی شرافت اور مجبوری سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ پھر وہ سٹیج بھی آجاتی ہے جو علم احتجاج اٹھانے پر ان کو مجبور کر دیتی ہے ۔ ایسا ہی آج کل پنجاب کے محنت کش کسانوں کے ساتھ ہو رہا ہے ۔ جو سال بھر کی انتھک محنت ،جدید زرعی تکنیک اور ادویات کے سبب ریکارڈ شکن گندم پیدا کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ ایسی شاندار کارکردگی پر بلاشبہ وہ حوصلہ افزائی اور شاباش کے مستحق تھے ۔ قوم کو خوشی اور تفاخر سے انکا شکریہ ادا کرنا چاہئے تھا۔ ایسے قابل ستائش کارنامہ پر حکومت کسانوں کو انعامات دیتی ۔ مگر بدقسمتی سے ایسا کرنے کا نہ ہمیں سلیقہ ہے اور نہ توفیق ۔ ہم تو ایسی بے حس اور احسان فراموش قوم ہیں کہ انکی محنت کو الٹا ہم نے جرم بنا دیا ہے ۔ ان کی کامیابی کو ناکامی کی خاک اور خوشی کو غم میں بدل دیا ہے ۔ لاکھوں ٹن گندم کے ڈھیر کھیتوں کھلیانوں میں پڑے محفوظ ٹھکانے اور خریدار کا راہ تک رہے ہیں ۔حکومت حسب وعدہ گندم خرید رہی اور نہ ذخیرہ کرنے کی سہولت دے رہی ہے ۔ سرکاری تاخیری حربوں اور ملز مافیا کے استحصالی رویے نے صدائے احتجاج بلند کرنے پہ انہیں مجبور کیا ہے ۔ گرمی کے اس شدید موسم میں وہ بے چارہے سڑکوں پر رل رہے ہیں۔ اس پہ مستزاد ریاستی مشینری ان پر چیل کی طرح ٹوٹ پڑی ہے اور پکڑ پکڑ جیلوں میں دھکیل رہی ہے ۔بجائے داد رسی کرنے کے ان کے زخموں پہ نمک پاشی کر رہی ہے ۔
قابل فخر کسانوں کی بے قدری اور بے بسی پر دل دکھتا ہے ۔ ان کے جائز مطالبات بھی حکومت ردی کی ٹوکری میں پھینک رہی ہے ۔ آخر یہ کیا ماجرا ہے۔ چلیں اس کا پس منظر جاننے کی کوشش کرتے ہیں رواں سال گندم کی پیداوار میں ریکارڈ توڑے ضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں 30 لاکھ ٹن زیادہ گندم پیدا ہوئی ہے حکومت نے نے 3900 روپے فی من کے حساب سے خریدے کا وعدہ کیا تھا ۔ کافی انتظار کے باوجود حکومت نے اس پر عمل نہیں کیا ۔ عام مارکیٹ میں آڑھتی 2900 روپے فی من بھی نہیں خرید رہے ۔ اس صورت حال سے کسان کی پریشانی اور مسئلہ واضع اور قابل فہم ہے ۔ وہ سڑکوں پہ نہ آئے تو کیا کرے ؟ جو ریٹ مارکیٹ میں مل رہا ہے اس میں تو اس کے پیداواری اخراجات بھی پورے نہیں ہوتے ۔ظالم قوم نے انہیں تذبذب اور اضطراب کی سولی پہ ٹانگ دیا ہے ۔ کسان بے چارہ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن کی کربناک کیفیت سے دو چار ہے ۔ کسانوں کے ساتھ ہونے والی اس واردات کی ذمہ دار نگران حکومت ہے ۔ جس نے بلا ضرورت گندم درآمد کرنے کا قصد کیا ۔ یہ فیصلہ اکتوبر 2023ء میں ہوا تھا ۔ جب ملک میں ضرورت سے زیادہ گندم کا ذخیرہ موجود تھا ۔ پاکستان کے پاس اس وقت 60لاکھ ٹن گندم گوداموں میں پڑی تھی ۔ باہر سے ایک دانہ بھی درآمد کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ اس کے باوجود 36 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ۔ اب اس عمل میں ہونے والی پھرتیوں کا ذرا ملاحظہ فرمائیں۔ 22 اکتوبر 2023ء کو کابینہ گندم درآمد کرنے کی سمری منظور کرتی ہے ۔ ہوتی ۔ بعد کی تمام رسمی اور قانونی کارروائیاں برق رفتاری سے نمٹا دی جاتی ہیں۔ جھٹ منگنی پٹ بیاہ کے مصداق محض سات دنوں کے اندر گندم سے لدا پہلا جہاز یوکرائن سے پاکستان پہنچ جاتا ہے ۔ اس کے بعد مزید جہاز گندم لئے پاکستان آتے ہیں۔اس وقت یوکرائن کی گندم سے لدے تین جہاز کراچی بندرگاہ پر کھڑے ہیں ۔ یہ گندم 3100 روپے فی من پڑی ہے جس کو 4500 روپے کے حساب سے آگے فروخت کر دیا گیا ہے ۔ پالیسی اور فیصلہ سازوں نے اس میں 85 ارب منافع کمایا ہے ۔ صورت حال یہ ہے کہ ، اک تو پاکستان کے پاس 60 لاکھ ٹن کا پہلے سے ذخیرہ موجود تھا ۔ اس کے اوپر 36 لاکھ ٹن گندم یوکرائن سے بھی درآمد کر لی گئی ہے ۔ اس کے بعد اپنی گندم اس بار 30 لاکھ ٹن زیادہ پیدا ہوئی ہے ۔جب ان تینوں اعداد کو اکٹھا کرتے ہیں تو گندم کی اتنی وافر مقدار بن جاتی ہے کہ اس کو سنبھالنے کی سمجھ نہیں آتی ہے ۔ جس کے سبب مارکیٹ میں اس کی طلب بھی کم ہو گئی ہے، ذخیرہ کرنے کی سہولت بھی دستیاب نہیں ۔جسکے باعث کسان اس کو سنبھال اور نہ بیچ پا رہا ہے ۔حکومت بھی حسب وعدہ گندم خریدنے سے کترا رہی ہے ۔غریب کسان اس سارے عمل میں رل کے رہ گیا ہے ۔ تھک کر اور مایوس ہو کر وہ اب اپنا غلہ سر پر اٹھائے سڑکوں پر خجل ہو رہا ہے ۔
تحقیق طلب سوالات یہ ہیں کہ وافر مقدار میں گندم ہونے کے باوجود کیوں درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ؟ سمری پاس ہونے کے بعد سات دنوں میں پہلا جہاز یوکرائن سے کیسے پہنچ گیا ؟ جبکہ عام حالات میں کم از کم 20 دن لگتے ہیں ۔ ایل سی کھلوانے سے لے کر زرمبادلہ کا بندوبست اور درآمد کرنے تک کا عمل کیسے اتنی سرعت سے انجام پذیر ہوا ؟کس نے گھنانی چال چل کر ملک و قوم کو اربوں روپے کا ٹیکہ لگایا ہے ؟ اس پورے معاملے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئے ۔ اس میں ملوث کرداروں کو بے نقاب کیا جائے۔ ملک کے خلاف اس قدر گھنانے جرم کا ارتکاب کرنے پر ان کو قرار واقعی سزا دی جائے ۔ منافع کی مد میں جو پیسہ ان کے ذاتی کھاتوں میں گیا ہے ، وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کیا جائے ۔ اس سے کسانوں سے مناسب قیمت پر گندم خریدی جائے ۔ ذخیرے کے لیے گوداموں کا بندوبست کیا جائے ۔اچھے مواد سے تیار شدہ بار دانے کا انتظام کر کے اضافی غلے کو محفوظ کیا جائے ۔ مخلصانہ و دردمندانہ مشورہ تو یہی ہے کہ سب سٹیک ہولڈرز اس معاملے کو جتنی جلدی حل کر لیں ملک و قوم کے لئے بہتر ہے ۔ ورنہ پہلے سے وطن عزیز میں کھلے انگنت کٹوں کے یہ مہمیز کر دے گا جس سے سیاسی، اقتصادی اور سیکورٹی کے حالات مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے ۔

یہ بھی پڑھیں