Search
Close this search box.
جمعرات ,09 جولائی ,2026ء

خلا ء ، ایمرجنسی پلس؟

شہباز شریف نے کیا خوش قسمتی پائی ہے؟ وزیراعظم بننا ان کی ہمیشہ سے مکمل خواہش تھی ، انہوں نے کوشش کی تھی کہ وہ جنرل باجوہ کو تیسری توسیع دے دیں۔ شاہد خاقان عباسی اور ن لیگ کے اکثر ارکان کی خواہش بھی تھی کہ باجوہ کو تیسری بار توسیع ملے۔ کہنے کو یہ حکومت شہباز شریف کی تھی ‘چلتی بات تو صرف لندن میں مقیم نواز شریف کی تھی۔ یہی فرق ہوتا ہے کاغذی پھول میں اور اصلی گلاب کے پھول میں۔ یہ بات ماضی میں خود شہباز شریف کہہ چکے ہیں کہ وہ بطور صدر مسلم لیگ (ن) کاغذی صدر تھے۔ پھر نواز شریف صدر بن گئے تھے اور وزیراعظم بھی، اب کی بار نواز شریف خود وزیراعظم نہ تھے ، عدالتی سزائوں کے سبب صدر کا عہدہ پھر شہباز شریف کے پاس جاچکا تھا مگر آرمی چیف کی تعیناتی کا فیصلہ مقیم لندن نواز شریف نے کیا تھا اور حکم نامہ پر دستخط شہباز شریف کے تھے۔ نواز شریف میں کتنی قوت تھی اور ہے؟ اور شہباز شریف میں کتنی اطاعت ہے نواز شریف کے لئے اور اسٹیبلشمنٹ کے لئے؟ یکساں، مگر اب محبان نواز شریف کے بے حد اصرار پر نواز شریف دوبارہ صدر مسلم لیگ بننے جارہے ہیں۔ خاندانی داخلی بادشاہت پھر سے اندرونی کشمکش اور اندرونی دبائو سے دوچار ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ نواز شریف صدر بن کر کہاں سے اینٹی اسٹیبلشمنٹ، اینٹی شہباز شریف بیانیہ اپنا سکتے ہیں؟ بیٹی ان کی وزیراعلیٰ ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے پہلے اسحاق ڈار کو وزیر خارجہ بنوایا تھا۔ اپنی طاقت سے اور پھر ڈپٹی وزیراعظم بنوایا، اور اب صدر مسلم لیگ بن جائیں گے۔ کیا جنرلز کی گرفت کمزور ہو جائے گی؟ اس کا جواب آنے والا وقت ہی دے گا۔ یہ جو مولانا فضل الرحمان نے اینٹی شہباز شریف حکومت بیانیہ اپنا لیا ہے یہ بھی تو اصل میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ ہے۔
ذرا کشمیر میں جاری عوامی غیض و غضب کو دیکھ لیں، یہ سب کچھ پورے پاکستان میں بھی تو ہو رہا ہے، یہ کسانوں کا رونا دھونا بھی تو کشمیریوں کی ناراضی کا عکاس ہے ۔
عوام کی پذیرائی جیتنے کے لئے کیا نواز شریف بھی مولانا فضل الرحمن بن سکتے ہیں؟ یعنی اینٹی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ساتھ اینٹی شہباز شریف اور اینٹی مریم نواز حکومت؟ یقینا ایسا نواز شریف نہیں کرسکیں گے۔ لیکن وہ کر بھی سکتے ہیں کہ اگر عاصم منیر کو آرمی چیف بنوا کر ملک کا اصلی تے وڈا خاکی فیصلے ساز بن سکتے ہیں تو اب بھی بہت کچھ کرسکتے ہیں۔ ہمیں نہ ان کے مضبوط ہونے پر اعتراض ہے نہ صدر بننے پر۔
یہ دن بھی عجیب آرہے ہیں۔ آصف علی زرداری صدر مملکت بن گئے لہٰذا انہیں اب پارٹی عہدہ چھوڑنا پڑے گا۔ ’’مقابلہ‘‘ دو خواتین میں ہے۔ ایک طرف فریال تالپور ہے۔ اگر وہ صدر بنے گی تو زرداری خاندان کی حکمرانی مسلمہ ہو جائے گی اور اگر آصفہ بھٹو بنے گی تو سیاسی وراثت اور پارٹی واپس بے نظیر بھٹو فلسفہ کے پاس آجائے گی۔ جب شہباز شریف صدر مسلم لیگ نہیں رہیں گے اور ایسا دو سری بار ہوگا تو گویا مسلم لیگ (ن) اور اسٹیبلشمنٹ جو یکجان ہوچکی تھی ‘ یک زبان ہوچکی تھی‘ اس میں شہباز شریف لاکھ بار کوشش کرلیں وہ اسٹیبلشمنٹ کی خدمت اس طرح نہیں کر پائیں گے جیسی وہ صدر مسلم لیگ کے طور پر کرتے رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے یہ جو ’’خلاء‘‘ پیدا ہوگا اسے پُر کرنے کی ضرورت پیدا ہوگی پھر یہ خلاء کون پُر کرے گا؟ مولانا فضل الرحمن؟ صدر زرداری؟ بطور صدر مسلم لیگ (ن) نواز شریف؟ میجر جنرل شریف ڈی جی آئی ایس پی آر کی چند روز پہلے کی دھواں دار پریس ٹاک کو سامنے رکھیں۔ اس کا ایک یہ مطلب ہے کہ عوامی ناراضی کے اضافے کے ساتھ ‘ اسٹیبلشمنٹ کے اوپر سیاسی ‘ عوامی دبائو کے آجانے کے ساتھ اس ’’خلاء‘‘ کو صرف خاکی پُر کریں گے۔لہٰذا جتنا زیادہ د بائو آئے گا‘ کپتان اتنا ہی رگڑے میں آئے گا اور دوسری طرف نواز شریف کا دبائو بھی خاکیوں کو مجبور کرے گا کہ وہ ’’خلاء‘‘ کو خود ہی پُر کریں۔ اب انہیں کسی پر بھی اعتماد نہیں ہوگا ۔ لہٰذا جون‘ جولائی کافی ’’سخت خاکی گرمی‘‘ ہوسکتے ہیں مکمل مارشل لاء تو نہیں مگر ایمرجنسی لگ سکتی ہے البتہ کچھ قوتوں‘ بلکہ مایوس قوتوں کی خواہش ہوگی کہ ایمرجنسی سے آگے جاکر ایمرجنسی پلس بھی لگ جائے کیونکہ اس وقت کئی انا پرست‘ ضدی اذہان کا آپس میں سخت مقابلہ ہے۔ اس کشمکش اور لڑائی میں کچلا کون جائے گا؟ صرف عوام‘ مہنگائی کے ہاتھوں بھی ‘ سیاسی کرتبوں کے ہاتھوں بھی۔
بظاہر مارشل لاء ممکن نظر نہیں آتا۔ بہت کمزور معیشت اس راہ میں فی الحال بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ آج کل ’’چیفس‘‘ کی ایکسٹینشن کی باتیں ہو رہی ہیں۔ میرے تجزیئے کے مطابق جنرل عاصم منیر نہ اپنی توسیع لیں گے نہ ہی جنرل ایوب‘ جنرل ضیاء الحق کی طرح کا مارشل لاء لگائیں گے۔ البتہ ان سے توقع ہوسکتی ہے کہ جب سب سیاستدان انہیں بہت زیادہ پریشان کریں گے تو وہ ریاست کے استحکام کے لئے ’’ایمرجنسی پلس‘‘’ کا علاج پیش کرسکتے ہیں مگر اس کے ساتھ ہی انہیں پی ڈی ایم 2 کی حکومتیں بھی بدلنا ہوں گی لہٰذا وہ کوشش کریں گے کہ جتنا بھی ممکن ہو ایمرجنسی پلس کو بھی ٹالتے رہیں مگر شائد ٹال نہیں سکیں گے۔ واللہ اعلم بالصواب
جنرل عاصم منیر اور جنرل راحیل شریف میں کچھ قدر مشترک بھی ہے۔ دونوں کا قبلہ و کعبہ امریکہ نہیں بلکہ بیت اللہ، حرمین شریفین آل سعود کے لئے محبت و عقیدت، شاہ سلمان، ولی عہد محمد بن سلمان سے شدید محبت، خلیجی شیوخ سے البتہ اضافی تعلق جنرل عاصم کو جنرل راحیل سے الگ کرتا ہے۔ دونوں ہی ذہنی، فکری، دینی طور پر کتاب و سنت سے قریب تر، دونوں ہی ذاتی اقتدار کی طبع سے دور ہیں۔ نواز شریف کی طرح بھارت کے لئے جھکائو نہیں ہے بلکہ ہندو توا بھارت کے حوالے سے اس کی پہچان کے حوالے سے جنرل عاصم خاصے سنجیدہ فکر ہیں۔ ان دونوں میں ایک بات اور الگ ہے کہ شائد ریٹائرمنٹ کے بعد جنرل عاصم کسی بھی ملک میں خدمات سرانجام دینا ناپسند کریں گے۔ وہ مخلص، دیانت دار، امین، ذہنی و فکری طور پر توازن، اعتدال پسند مگر دینی اولیت رکھتے والدین کی اولاد ہیں، وہ دو ٹوک، اسٹیٹ فارورڈ ہیں اس لئے کچھ سخت مزاج بھی۔ انہیں شہرت کی بھوک بھی نہیں ہے، وہ کام کو اولیت دیتے ہیں جو موقف اپناتے ہیں اس پر سختی سے کاربند دکھائی دیتے ہیں ان میں سیاست دانوں والی منافقت اور جھوٹ بھی نہیں ہے۔ ان کے قوم پرستانہ اقدامات کی حمایت ہونی چاہیے۔ ۔آخر میں اقبالؒ کا شعر حاضر فکر ہے۔
یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں لاالہ الااللہ

یہ بھی پڑھیں