ماشاء اللہ شہباز شریف دوسری بار وزیراعظم ہیں جبکہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے تیسری بار پاکستان آنے سے سخت پرہیز کیا ہے۔ کیا اس با ر ولی عہد داخلی طور پر مصروف یا کسی ’’کشمکش‘‘ سے دوچار ہیں؟ جو اب نفی میں ہے کہ ان پر ذاتی حملے کی خواہشیں تو دشمنوں کی طرف سے ہوسکتی ہیں۔ شاہ عبد اللہ کی جعلی وفات کی خبر کئی بار سعودیہ کے دشمنوں کی طرف سے پھیلائیں گئی تھیں‘ اسی طرح ولی عہد پر ذاتی حملے کی افواہ پھیلا کر سعودیہ کو دشمنوں کی طرف سے خوفزدہ کرنے کی بھونڈی کوشش ہے اور تھی۔ محمد بن سلمان بہت دلیر‘ بہت بڑے حکمت کار‘ دور اندیش اورجارحانہ اندرونی اور خارجہ پالیسیاں رکھنے کی صلاحیتوں سے مالا مال ہیں۔
اگر یہ کہوں کہ آل سعود محبوبیت کے درجے پر فائز ہے تو غلط نہ ہوگا۔ موجودہ سعودی حکومت کو ایک صدی مکمل ہوچکی ہے مگر کیا مجال کہ ترک عثمانی خلافت کے خلفاء کی طرح‘ شہزادوں کی طرح یا کچھ مغل بادشاہوں کی طرح کے شدید عداوت پر مبنی اختلافات نے آل سعود میں جگہ پائی ہو۔ بلکہ متعدد بیویوں کی اولاد ہونے کے باوجود بھی عبدالعزیز کی اولاد نے باہمی محبت‘ پیار‘ کا کردار ہمیشہ پیش کیا ہے اور سوائے شاہ سعود کے کسی سعودی بادشاہ یا ولی عہد کے خلاف بغاوت نہیں ہوئی۔ محمد بن سلمان کی2015 ء میں بطور نائب ولی عہد تعیناتی اور 2017 ء میں بطور ولی عہد تعیناتی شاہ سلمان کا خصوصی اختیار تھا جو انہوں نے استعمال کیا تھا۔ دنیا نے اس کو تسلیم کیا تھا۔ لہٰذا آل سعود کا داخلی استحکام عالم اسلام اور پاکستان کا استحکام ر1ہا ہے۔ آل سعود کے ہر بادشاہ نے ‘ ہر ولی عہد نے ‘ ہر وزیر نے ہمیشہ پاکستان کی بھرپور قدم قدم پر مالی‘ سیاسی‘ اخلاقی مدد کی ہے‘ ہم ان احسانات کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں‘ مگر ہمیں سوچنا چاہیے کہ محمد بن سلمان نے تین دفعہ اسلام آباد آنے سے انکار کیوں کیا ہے؟ کیا محمد بن سلمان کو ہم سے نفرت ہوگئی ہے؟ نہیں بلکہ شائد ہم میں بہت کچھ غلط ہے جس کے سبب محمد بن سلمان نے تیسری دفعہ بھی آنے سے انکار کیا ہے۔
ہمیں اچھی طرح سمجھنا چاہیے کہ محمد بن سلمان عا م سا شہزادہ اور ولی عہد نہیں بلکہ بہت ذہین‘ فطین ‘ فطرت کے عطاء کردہ اوصاف کو بروقت استعمال کرنے والا حکمران ہے۔ وہ جذباتی بھی نہیں۔ یقینا اسے کچھ سازشوں کے ذریعے پھنسایا گیا تھا‘ جیسے سی آئی اے نے ‘ امریکی خاتون سفیر کے ذریعے صدام حسین کو کویت پر حملے کی ترغیب دے کر پھنسایا تھا‘ یہی کچھ سی آئی اے نے جمال خاشقجی قتل کے حوالے سے محمد بن سلمان کو پھنسانے کی کوشش کی تھی جس سے شاہ سلمان کے تدبر و فراست اور محمد بن سلمان اپنے صابرانہ رویئے سے محفوظ رہے تھے۔ جنگ یمن کے حوالے سے ‘ سعودی دفاع اور سیکورٹی کے حوالے سے ‘ القاعدہ کے یمنی منصوبوں کے حوالے سے ‘ حوثیوں کی جارحانہ سعودی دشمنی ذہنیت کے حوالے سے یہ خاکسار آج بھی سعودی موقف کی حمایت کرتا ہے۔
ہمیں محمد بن سلمان اور محمد بن زید النہیان‘ کہ یہ دونوں مل کر مشرق وسطی کو متاثر کرتے رہے ہیں۔ کی ’’اقتصادیات‘‘ کو اولیت دیتی ذہنی ترجیحات کے ساتھ ساتھ یہ پہلو زیر غور لانا چاہیے کہ وہ کون کون سے مواقع ہیں جن کے حوالے سے محمد بن سلمان پاکستان سے شدید ناراض ہوچکے ہیں۔ وہ بہت اچھا حافظہ رکھتے ہیں لہٰذا ہماری طرف سے بے وفائی‘ خود غرضی‘ مطلب پرستی کے مظاہر ان کی یادداشت میں محفوظ ہیں۔ کیا محمد بن زاید النہیان نے رحیم یار خان میں قیام کے باوجود اسلام آباد آنے سے انکار نہیں کیا تھا؟ وجہ کیا تھی؟ یہی وجوہ محمد بن سلمان کی عدم دلچسپی کی بھی ہیں۔ ہمیں ان اسباب اور وجوہ کا ازالہ کرنا ہوگا۔ آج وہ ولی عہد ہیں کل کو انشاء اللہ آل سعود کی مکمل حمایت سے مکمل بادشاہ بھی ہوں گے۔
محمد بن سلمان آل سعود کے اندر سے تہذیبی‘ تمدنی‘ سیاسی سوفٹ انقلاب ہیں۔ ان کی ترجیحات میں علماء و شیوخ‘ قبائل کی قدیم روایات کا خاتمہ اگر ہوا ہے تو یہ تہذیبی و تمدنی انقلاب ہے۔ ہمیں انہیں اسی انداز میں قبول کرنا چاہیے۔
حماس کے حوالے سے ‘ غزہ کے حوالے سے ‘ فلسطین کے حوالے سے شاہ فیصل سے لے کر شاہ سلمان تک بہت سنہری قابل قدر خدمات ہیں۔ فلسطینی آپس میں اکثر لڑتے رہتے ہیں لہٰذا سعودی ناراضی کے اسباب میں فلسطینیوں کی باہمی رقابتیں بھی ہیں۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ لبنان کو استحکام طائف معاہدے کے سبب ملا تھا مگر جب مداخلت ہوئی ہے تب سے لبنان کشمکش خلفشار سے دوچار ہے۔ بشار الاسد سے تو شاہ خالد نے مراسم رکھے‘ درمیان میں خود بشار الاسد نے حریری کے قتل کے حوالے سے غلطی کی ‘ لہٰذا بشار الاسد کے حوالے سے ‘شامیوں کے حوالے سے ہمیشہ ریاض کی پالیسی درست رہی ہے۔ ایران کے حوالے سے شاہ عبداللہ کی پالیسی ہمیشہ عفو و درگزر کی رہی ہے۔ اب ایران نے سعودیہ کو قبول کیا ہوا ہے اور ہم اس سعودی‘ ایرانی مفاہمت پر الحمد للہ کہتے ہیں۔
ہاں ایک بزرگ ہونے کے ناطے سے محمد بن سلمان سے ایک بار پھر گزارش کریں گے کہ وہ اپنے کچھ معاونین ‘ وزیروں اور دوستوں کو تبدیل کر دیں۔ ان کے سامنے اب بہت بڑے مسائل اور مشکلات ہیں۔ علماء و شیوخ سے دوبارہ دوستی کرلیں۔ ان علما ء و شیوخ کی محمد بن سلمان کو مستقبل میں بہت زیادہ ضرورت پڑے گی۔ حرمین شریفین کو اقتصادیات اور سیاحت پر اولیت دیئے رکھیں کہ عالم اسلام کی قیادت نیوم تہذیب و تمدن کی وجہ سے جاتو سکتی ہے جبکہ حرمین شریفین کو اولیت دینے سے ان کی عالم اسلام کی قیادت کو استحکام ملتاہے ۔
پاکستان آل سعود کا وہ دوست ہے جو آل سعود کی حفاظت کے لئے ہمہ وقت موجود تھا‘ موجود ہے‘ موجودہ رہے گا۔ انشاء اللہ‘ لہٰذا وہ پاکستان سے اپنی تمام ناراضیاں ختم کریں۔ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں۔ افراد بھی بدلتے رہتے ہیں۔ سرزمین پاکستان‘ افواج پاکستان‘ پاکستانی عوام آل سعود کے ساتھ ‘ شاہ سلمان کے ساتھ محمد بن سلمان کے ساتھ شدید محبت کرتے ہیں اور سعودی عرب پر سب کچھ قربان کر دینے کے جذبات سے سرشار ہیں۔