Search
Close this search box.
جمعرات ,09 جولائی ,2026ء

سعودیہ کو قابل اعتماد دفاعی ٹیکنالوجی دینے کی ضرورت

اگر محمد بن سلمان نے محض تیل ‘ پٹرول پر معاشی انحصار کرنے کی بجائے معاشی نئے ’’موارد‘‘ اور ’’مطالع‘‘ اور ’’ذرائع‘‘ کے طور پر نیوم تہذیب و تمدن کا خیال بھی اپنالیا ہے تو یہ معاملہ ان کے مستقبل کے حوالے سے نادر فکر کی علامت ہے۔ مجھے نیوم کے ریاضی انداز فکر‘ معاصرانہ تہذیبی مرکز بننے پر اعتراض نہیں ہے ‘ مگر کیا صرف نیوم تہذیبی و تمدنی ذرائع آمدن سے سعودیہ کی سیکورٹی اور عسکری و دفاعی ضروریات پوری ہو جائیں گی؟ جواب نفی میں ہے۔
سوچنا چاہیے کہ غزہ و حماس اور نیتن یاہو کشمکش کے دوران بار بار امریکی وزیر خارجہ کیوں سعودیہ کو سیکورٹی ‘ دفاعی‘ عسکری نئے ہمہ گیر معاہدے کی پیشکش کرتا رہا تھا؟ شرط صرف یہ کہ اسرائیل کو تسلیم کرلو غیر مشروط طور پر ۔ مگر محمد بن سلمان جیسے شاطر مدبر کیا امریکی اسرائیلی جال میں پھنس جائیں گے؟ سی آئی اے کی محمد بن سلمان کو پھنسانے‘ بلیک میل کرنے‘ یرغمال بنانے کی ہمہ رنگ دلچسپ سازشوں سے بچتے بچتے وہ بہت ماہر ہوچکا ہے۔ اس کا ایک مطلب ہے کہ محمد بن سلمان ‘ آل سعود‘ ریاض‘ بہت متحرک‘ فعال رہتاہے۔ مستقبل میں نظریں بھی جمائے رکھتا ہے۔ اس کا سبب نوجوانی کی توانائی‘ صلاحیتوں کا ہونا بھی ہے۔ کیا ہمیں راہنمائی نہیں لینا چاہیے سورہ الکھف کی آیت نمبر10 میں نوجوان اصحاب الکھف کی آیت نمبر10 میں ’’الفتیۃ‘‘ کا ترجمہ ’’جب وہ چندنوجوان غار میں پناہ گزین ہوئے۔ (ترجمہ قرآن پاک مع مختصر حواشی از سید مودودی صفحہ751 ) کیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ’’الفتیۃ‘‘یعنی نوجوانی کی عمر اگر دیگر صلاحیتیں‘ اوصاف ہمرکاب ہوں تو فتوحات‘ نئے ابواب ریاست کھولنے کے مواقع کا نام بھی ہے۔ شاہ فیصل کی عمر صرف13 برس تھی جب شاہ عبدالعزیز نے انہیں سفارتی فرائض کی سرانجام دہی کے لئے برطانیہ بھجوایا تھا‘ وہ 15-16 سال کے تھے جب انہوں نے یمنی سرحد سے متصل ’’العسیر‘‘ (علی العسیری سابق سفارت کار العسیر علاقہ سے تعلق رکھتے تھے) کو مملکت سعودیہ کا حصہ بنایا تھا اور سرحدوں پر موجود سرکشی کے خطرات کو کچلا تھا۔
شاہ فیصل کی 1962 ء کی یمن پالیسی بالکل درست تھی اس طرح شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کی شاہ فیصل کی طرح کی یمنی پالیسی بالکل درست تھی‘ جو یمن سے ‘ بشار الاسد سے سعودی‘ خلیجی کشمکش سے تجربات حاصل ہوئے‘ قطر سے مخاصمت سے جو تجربات حال ہوئے‘ جمال خاشقجی قتل کے بعد کے حالات‘ جب ان سے امریکہ و مغرب نے آنکھیں تبدیل کرلی تھیں‘ ان سب تجربات سے بہت کچھ محمد بن سلمان نے سیکھا ہے۔ انہی تجربات کی راہنمائی ہے کہ جب چین نے ایران و سعودیہ میں مفاہمت کی کوششیں کی تھیں تو سعودیہ و ایران دونوں نے ان کوششوں کو قبول کرلیا تھا کیونکہ جمال خاشقجی قتل کے امریکی و مغربی بلیک میلنگ کے تجربات محمد بن سلمان کے ساتھ تھے‘ اسی طرح ایران کے سامنے امریکہ کا ساتھی بننے‘ اس سے فوائد لینے کے مراحل‘ امریکی معاشی و عسکری پابندیوں کے جو زہریلے اثرات تھے‘ اس سے ایران تنگ تھا لہٰذا وہ بھی سعودیہ سے دوستی کا زیادہ محتاج تھا‘ آج ماشاء اللہ دونوں میں دوستی ہے‘ دونوں قابل تعریف ہیں کہ ماضی میں نہیں الجھے‘ بلکہ مستقبل کی طر ف نگاہیں ہیں۔ سعودیہ کو اصل خطرہ ایران سے اب نہیں ہے بلکہ اپنے ارد گرد کے جغرافیے سے ہے جو سعودی اقتدار کو دبوچ لیناچاہتاہے‘ یا سعودی جغرافیے کی کتربیونت کرکے خود کو عظیم تر بنانا چاہتا ہے۔
اور یہ منصوبہ اقوام متحدہ کے اجلاس میں ’’عظیم تر مذہبی‘ دینی ‘ صیہونی اسرائیل‘‘ منصوبہ تھا جسے نیتن یاہو نے پیش کیا تھا‘ کیا یہ منصوبہ ایران مخالف تھا؟ نہیں بلکہ اصل میں یہ منصوبہ سعودی جغرافیہ کے ساتھ ساتھ اردن‘ لبنان‘ شام‘ عراق‘ مصری جغرافیئے‘ کچھ یمن تک جانے اور بحر احمر کو کنٹرول کرنے کا عزم بھی تھا‘ اس کا سدباب اگر سعودی عرب نے کرنا ہوگا تو اسے سلامتی‘ عسکری‘ دفاعی طور پر بہت مخلص‘ اچھے‘ وفادار دوست کی ہی مدد درکار ہوگی‘ اور یہ ضرورت صرف پاکستان پوری کرسکتا ہے۔ شاہ عبداللہ جب کرائون پرنس تھے تو میں نے مرحوم اکبر بھٹی کے روزنامے میں کئی بار لکھا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کو قابل اعتبار دفاعی ٹیکنالوجی کا تحفہ دے دے۔ آج پھر اس مطالبے کو دہراتا ہوں کہ پاکستان حرمین شریفین کے متولی شاہ سلمان کو‘ محمد بن سلمان کو‘ سعودی وزیر دفاع خالد بن سلطان کو ‘ سعودی وزارت دفاع کو قابل اعتبار دفاعی صلاحیت دے اس کے بدلے میں کوئی سرمایہ کاری طلب نہ کرے۔ سعودی بڑے دل کے مالک ہیں وہ جواب میں پاکستان کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ انشاء اللہ
ایسا کرنے سے سعودی عرب کا جغرافیہ انشاء اللہ محفوظ ہو جائے گا۔ اردن‘ شام‘ یمن‘ عراق‘ خلیجی ممالک‘ مصر بھی محفوظ ہو جائیں گے۔ یوں پاک عرب ‘ پاک سعودی محبت و دوستی ہمیشہ کے لئے مضبوط بھی ہوجائے گی۔ محمد بن سلمان خوشی خوشی اسلام آباد انشاء اللہ آئیں گے جیسے وہ خوشی خوشی چند دنوں بعد جاپان جارہے ہیں۔ یہ سب کچھ ممکن ہے اور ایسا ریاست‘ ریاستی اداروں کو کر گزرنا چاہیے لہٰذا پارلیمنٹ کو یہ قرارداد منظور کر دینی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں