امریکی کانگریس کی تحقیقاتی سروس نے کہا ہے کہ مودی حکومت کے تحت بھارت میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں ۔ بھارت میں انسانی حقوق کا جائزہ کے عنوان سے حال ہی میں جاری کی گئی رپورٹ میں بھارت میں انسانی حقوق کی مجموعی مایوس کن صورتحال کی عکاسی کی گئی ہے۔رپورٹ بھارت کی انسانی حقوق کی صورتحال پر سخت تشویش ظاہر کی گئی ہے ۔ رپورٹ مودی حکومت کے تحت بھارت میں انسانی حقوق کی صورتحال کی بگڑتی ہوئی خوفناک منظر کشی کی گئی ہے۔مودی حکومت کے تحت بھارت میں مسلمانوں، مسیحیوں اور سکھوں سمیت مذہبی اقلیتوں پر حملوں میں بے پناہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔بھارت بھر میں ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے جہاں لوگوں کو ماورائے عدالت کو قتل کر دیا جاتا ہے اور جبری گمشدگیوں میں قانونی طریقہ اپنائے بغیر لوگوں کو غائب کر دیا جاتا ہے۔ اس سے قبل اسی مہینے میں امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ میں بھی مقبوضہ جموں و کشمیر اور بھارت میں مکانوں اوردیگر جائیداوں کی مسماری، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں، بلاجواز گرفتاریوں اور صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو ہراساں کرنے سمیت متعدد مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔رپورٹ میں کہاگیا کہ خاص طور پر یہ اعدادو شمار تشویشناک ہیں کہ 2016اور 2022کے درمیان ماورائے عدالت قتل کے 813کیس رپورٹ ہوئے ہیں جن میں کسی کو کوئی سزا نہیں دی گئی۔ رپورٹ میں گمشدگیوں کے ان واقعات کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جن میں حکام نے سہولت فراہم کی ہے۔ رپورٹ میں کہاگیا کہ یہ بات خاص طورپرباعث تشویش ہے کہ جموں و کشمیر اور پورے بھارت میں مسلمانوں کو نشانہ بنایاجارہا ہے اور رپورٹ شدہ خلاف ورزیوں پر کسی کا محاسبہ نہیں کیاگیا۔جبری گمشدگیوں کے بارے میں اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ نے انسانی حقوق کے کشمیری کارکنوںکے ساتھ ناروا سلوک پر تشویش کا اظہار کیا اور ان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔رپورٹ میں کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کا بھی حوالہ دیاگیا جس کے تحت قابض حکام لوگوں کو بغیر کسی الزام یا عدالتی کارروائی کے دو سال تک نظربند رکھ سکتے ہیں۔رواں سال فروری تک مقبوضہ جموں و کشمیر میں اس قانون کے تحت 800 سے زائد افراد نظر بند تھے۔ اس کے علاوہ علاقے میں صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف تحقیقات کے متعدد واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہاگیاکہ کم از کم 35 صحافیوں کو حملوں، پولیس کی پوچھ گچھ اور من گھڑت مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔یہ رپورٹیں جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرتی ہیں، جہاں قابض حکومت اختلاف رائے کو دبارہی اور بنیادی آزادیوں کو سلب کررہی ہے۔
راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ کی حمایت یافتہ مودی حکومت کشمیریوں سے ان کی شناخت اور وطن چھیننے کی سازش کر رہی ہے کیونکہ مودی حکومت جموں و کشمیر میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے پر تلی ہوئی ہے۔
دوسری جانب کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوتوا رہنما جموں وکشمیر کی منفرد شناخت کو ختم کرنے کا کھلے عام اعلان کر رہے ہیں اور بی جے پی اورآر ایس ایس کا مقصد جموں و کشمیر میں قبل از اسلام ہندو تہذیب کوزندہ کرنا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی-آر ایس ایس بھارت میں جموں و کشمیر کے مکمل انضمام کی اپنی دیرینہ خواہش کو پورا کرنا چاہتے ہیں، اسی لئے بھارت منظم طریقے سے مقبوضہ علاقے میں آباد کاری کی راہ ہموار کر رہا ہے۔رپورٹ میں افسوس کا اظہارکیاگیا کہ دفعہ 370کی منسوخی کا مقصد بھی مقبوضہ جموں وکشمیر میں غیر کشمیریوں کو آباد کرنا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی حکومت کشمیریوں کو اپنے ہی وطن میں بے روزگار اور بے زمین کرنا چاہتی ہے لیکن کشمیری کسی صورت میں بی جے پی آر ایس ایس کو اپنی شناخت چھیننے نہیں دیں گے اور کشمیری عوام ہندو جنونی قوتوں کے غلام بننے پر موت کو ترجیح دیں گے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں غیر کشمیریوں کو آباد کرنے کے مودی حکومت کے مذموم ایجنڈے سے مقامی لوگوں میں بڑے پیمانے پر غم و غصہ پیداہواہے، جو اسے اپنی ثقافت اور طرز زندگی پر براہ راست حملہ سمجھتے ہیں۔ بھارت خصوصا بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں مسلسل جاری ہیں ۔ بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی مسلسل کارروائیوں کے دوران گزشتہ ماہ اپریل میں ایک کمسن لڑکے سمیت 8 کشمیریوں کو شہید کیا۔کشمیر میڈیا سروس کے شعبہ تحقیق کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق شہید ہونے والوں میں سے پانچ کو مقبوضہ علاقے میں بھارتی فورسز کے اہلکاروں نے جعلی مقابلوں میں یادوران حراست شہید کیا۔اس عرصے کے دوران بھارتی فوج،پیراملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس، بدنام زمانہ تحقیقاتی اداروں این آئی اے اورایس آئی اے نے سیاسی کارکنوں، نوجوانوں اور طلبا سمیت 205شہریوں کو گرفتار کیا جن میں حریت رہنما فردوس احمد شاہ بھی شامل ہیں۔ گرفتار شدگان میں سے کئی کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (UAPA)اور پبلک سیفٹی ایکٹ PSA جیسے کالے قوانین کے تحت مقدمات درج کئے گئے۔واضح رہے کہ بھارتی فوجیوں نے جنوری 1989سے اب تک مقبوضہ جموں وکشمیر میں 96ہزار300سے زائد کشمیریوں کو شہید کیا۔ مقبوضہ علاقے میں مسلسل سات دہائیوں سے بے گناہ کشمیریوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔ بھارتی فوجیوں کی طرف سے قتل وغارت ا ور مظالم کا مقصد کشمیریوں کو خوفزدہ کرنا ہے لیکن بھارتی مظالم سے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو ایک نئی طاقت ملتی ہے۔مہذب دنیا کو چاہیے کہ وہ سیاسی ناانصافیوں اورمظالم کو جن کا مقبوضہ جموں وکشمیرکے عوام کئی دہائیوں سے سامنا کر رہے ہیں، روکنے کے لیے مداخلت کرے اور تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرے۔اس دوران پانچ ہزار سے زائد حریت رہنما، کارکنان، نوجوان، طلباء، علمائے کرام، صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن بھارت اور مقبوضہ جموں وکشمیر کی مختلف جیلوں میں مسلسل نظربند ہیں۔