Search
Close this search box.
جمعرات ,09 جولائی ,2026ء

فلسطین، بحرین عرب لیگ کانفرنس، بحراحمر میں حوثی کارروائیاں

فلسطین و غزہ انسانی مسئلہ ہے یا عرب مسئلہ یا اسلامی مسئلہ؟ جو اذہان اسے اسلامی مسئلہ، دینی مسئلہ، مذہبی مسئلہ بناتے ہیں وہ یوم القدس سے وابستہ ہوتے ہیں جو اسے فلسطینی عرب مسئلہ بتاتے ہیں وہ مسئلہ فلسطین کا ذکر کرتے ہیں اور جو اذہان اس مسئلے کو انسانی مسئلہ سمجھتے ہیں وہ غیر مسلم بھی ہیں، مسلم بھی ہیں، یہودی بھی ہیں، عیسائی بھی، سکھ بھی، ہندو بھی، آج کل یہ مسئلہ نہ القدس ہے نہ ہی دینی و اسلامی و مذہبی، جن اذہان نے اسے محض دینی، مذہبی، اسلامی بنایا ان میں سرفہرست ایران رہا ہے جبکہ عرب ممالک جن کی تعداد تقریباً22ہے اور عرب لیگ ان کی نمائندگی کرتی ہے وہ اسے انسانی فلسطینی عرب مسئلہ بنائےہوئے ہیں۔ اگر اس کو مذہبی، دینی، اسلامی مسئلہ بنائے رکھیں گے تو پھر فلسطینی عیسائی کیوں اس مسئلہ فلسطین سے وابستہ تھے؟ دنیالیلیٰ خالد اور حنان اشعاروی یاسر عرفات کی سیاسی مشیر،دو خواتین کو جانتی ہے۔ یہ دونوں نامور فلسطین عرب ہیں مگر دونوں عیسائی فلسطینی ہیں مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ سب عیسائی فلسطینی آج حماس کے ساتھ ہیں۔ وہ الفتح کے ساتھ ہوتے تھے۔ ماضی میں مگر جب سے الفتح (جس کے صدر محمود عباس ہیں) کمپیرومائزڈ ہوچکی ہے۔ امریکہ و اسرائیل کے حوالے سے تب سے، شائد 2007ء سے حماس اور غزہ والے زیادہ اہمیت اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ترک تعلق بھی ان سے زیادہ ہے کہ ترکی نے غزہ والوں، حماس سے وابستہ فلسطینیوں کو اعزازی طور پر ترک نیشنلٹی دے رکھی ہے مگر عرب لیگ کے اکثر ممالک جن میں سعودیہ و خلیجی ممالک نمایاں ہیں، ان کا تعلق حماس سے زیادہ الفتح سے رہا ہے البتہ سعودی عرب شاہ عبداللہ کے زمانے میں بہت زیادہ اور شاہ سلمان کے زمانے میں بھی الفتح اور حماس والوں میں قرب، رابطہ، تعلق، مفاہمت، دوستی، یکجہتی کی کوششوں میں مصروف رہا ہے مگر شائد اب سعودی عرب اور بظاہر وہی اب عرب لیگ میں بھی، خلیج تعاون کونسل میں بھی نمایاں حیثیت رکھتا ہےکیونکہ خلیجی ممالک اور سعودی عرب مالی طور پر مضبوط ہیں۔ عطیات زیادہ دیتے رہے ہیں جبکہ سعودی عرب او آئی سی اور رابطہ عالم اسلامی کی تنظیموں کے میزبان بھی ہیں اور ان کے مالی اخراجات بھی برداشت کرتے ہیں۔ اب مایوس ہیں حماس کے حوالے سے ۔
گزشتہ جمعرات 16مئی سے پہلے حماس کی طرف سے بیان سامنے آیا تھا کہ غزہ و فلسطین کا ایسا ’’حل‘‘ جس میں حماس کو شریک نہیں کیا جائے گا اس ’’حل‘‘ کو حماس قبول نہیں کرے گی۔ گزشتہ کالموں میں لکھ چکا ہوں کہ حماس و الفتح کی کشمکش اب بھی جاری ہے بلکہ اس میں کافی شدت ہے۔ یہ کتنی منحوس بات ہے کہ پوری دنیا، انسانیت نواز غزہ، رفحہ والوں پر مظالم کی وجہ سے عرب اردن پر مظالم کی وجہ سے فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں مگر خود حماس اور الفتح والے اس مسئلے کے حل کے لئے ایک نہیں ہیں۔ کیا افراد کا، شخصیات کا تصادم ہے؟ مقابلہ جاری ہے؟ اس پہلو سے زیادہ ایران و عرب کشمکش بھی مسئلہ فلسطین، غزہ ، رفحہ بھی تو موجود ہے بلکہ پھر عروج پر ہے۔ ایران کھینچ کھینچ کر کوشش میں ہے کہ حماس ہی کو اہمیت ملے جبکہ عرب لیگ والے کوشش میں ہیں کہ الفتح کی زیر قیادت دو ریاستی فارمولہ قبول ہو جائے اور دو ریاستوں کا اعلان امریکہ و مغرب کے ذریعے ہو جائے اس حوالے سے MBS پیش پیش ہیں۔
ایک مسئلہ حوثی بھی بنے ہوئے ہیں۔ سعودی عرب آج بھی بحراحمر کو حوثیوں کی کارروائیوں سے الگ تھلگ دیکھنا چاہتا ہے۔ میں خود بھی تاحال حوثیوں کو مکمل یمنی سیاسی فیصلہ سازی سمجھنے سے قاصر رہاہوں اور اسے محض ایران کی پراکسی سمجھتا ہوں جبکہ اکثرحلقوں کاکہنا ہےکہ حماس مکمل طورپرایرانی پراکسی ہےجیسے بشارالاسد یا حسن نصراللہ، اسلامی جہاد والے،حزب اللہ والے، زینبیوں والےفاطمیون والےہیں لہٰذا اس خاکسارکو مسئلہ فلسطین وغیرہ و رفحہ حل ہوتاہوابادی النظرمیں نظرنہیں آتا،بلکہ فلسطینی اسرائیلی کشمکش موجود رہے گی۔
16مئی جمعرات کو بحرین کے دارالخلافہ منامہ میں عرب لیگ (22 عرب افریفی و مشرق وسطیٰ کے ممالک) کی سربراہی کانفرنس ہوچکی ہے جس میں بحرین، قطر، اردن، عراق سمیت 13ممالک کے سربراہان خود شریک ہوئے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، امارات کے نائب صدر و وزیراعظم شیخ محمد بن راشد بھی شریک تھے، منامہ کو پہلی بار سربراہی عرب اجلاس کی میزبانی میسر آئی ہے، کانفرنس میں کھل کر غزہ پر اسرائیلی جارحیت کو روکنے کا مطالبہ ہوا۔ اس حوالے سے سعودی ولی عہد محمد نمایاں کردار ثابت ہوئے۔ فلسطینی ریاست کے قیام کا بھی مطالبہ ہوا۔ جبکہ سعودی ولی عہد نے بحراحمد میں جاری حوثیوں کی کارروائیوں کے اختتام اور روک تھام کا بھی مطالبہ کیا۔ چونکہ یہ اجلاس صرف عرب ممالک کا تھا، اسلامی ممالک کا نہ تھا، لہٰذا ایران سمیت باقی اسلامی ممالک اس میں شریک نہیں ہوئے جبکہ نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں اقوام متحدہ کی قرار داد جس میں فلسطینی ریاست کے قیام کی ضرورت بیان ہوئی تھی، اس کو مسترد کیا گیا ہے اور یہ بھی موقف دیا گیا ہے کہ نہ تو فلسطینی ریاست کے قیام کو قبول کریں گے نہ فلسطینی حملوں کو اسرائیل پر۔
لہٰذا یہ غزہ، رفحہ، غرب اردن میں جاری اسرائیلی فلسطینی، حماس کشمکش جاری رہنی ہے۔ اہل تصوف اور اصحاب نجوم 2025ء کے بعد اگلے تین سال عالمی جنگ کے بتاتے ہیں۔ ہم عرب لیگ کے بحرینی کانفرنس کی عمدہ کوششوں کی حمایت کرتے ہیں اور جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہیں تو حوثیوں کو بھی عالمی تجارت کو بحراحمر میں نہ روکنے کی استدعا کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں