سیرت النبیﷺ کا موضوع بچپن سے دلچسپی کا باعث تھا‘ رحمتہ اللعالمین از قاضی سلیمان پڑھی‘ بعد ازاں شوق رہا‘ سرسید احمد نے بہت محبت سے ذات نبیؐ پر وارد مسیحی اعتراضات کا جواب لکھا‘ اپنا سب کچھ دفاع ناموس نبویؐ کے لئے وقف کر دیا تھا ‘ سرسید احمد علی گڑھ فلسفہ سیاست کے بانی ہیں ان کے کچھ دینی افکار سے انکار وجہ نزاع بھی رہے ہیں مگر وہ بہت مخلص تھے۔ شیخ اکرام اللہ کے مطابق مسلک کے اعتبار سے وہ سخت وہابی قسم کے تھے مجھے سرسید کا یہ پہلو بھی بہت متوجہ کرتا رہا ہے مگر ان کا ذہن عملیت پسندی کی طرف مائل تھا جیسا کہ عموماً اہل سیاست کا ہوتا ہے۔
سیرۃ النبیﷺ سے شبلی نعمانی اور سید سلیمان ندوی بھی وابستہ ہوئے‘ ان کی سیرۃ النبی‘ کئی جلدوں میں ہے۔ ’’الرحیق المختوم‘‘ ایک ہندوستانی استاد حدیث مبارک پوری کی تصنیف ہے۔ پیرکرم شاہ کی ’’ضیاء النبی‘‘ ادبی مشکل ترکیب کی حامل ہے۔
مشہور تابعی امام محمد بن اسحاق نے دوسری صدی ہجری میں سیرۃ النبی پر پہلی کتاب لکھی‘ نام تھا ’’المبتداء و المبعث و المغازی‘‘ جسے سیرۃ ابن اسحاق نام ملا‘ اسی کتاب میں ترامیم و اضافہ امام ابو محمد عبدالمالک بن ہشام نے کیا جسے ’’السیرۃ النبویۃ‘‘ نام دے دیا جسے شہرت ’’سیرۃ ابن ہشام کے نام سے ملی۔ بارہویں صدی ہجری میں اسی سیرۃ ابن ہشام کی تلخیص الشیخ محمد بن عبدالوہاب نے کی تھی‘ اس کا بہت معلومات افزاء مقدمہ بھی لکھا تھا‘ اور کچھ اضافہ جات کے بعد نام ’’مختصر سیرۃ الرسول‘‘ رکھا‘ اس کا اردو ترجہ برادر گرامی قدر ‘ اسلامی نظریاتی کونسل سے وابستہ سابق اسکالر مولانا محمد خالد سیف‘ حال مقیم فیصل آباد نے بہت محنت سے کیا تھا جسے کئی بار برادم محمد سرور طارق نے اپنی طارق اکیڈمی سلیمی چوک بالمقابل الفتح گرائونڈ فیصل آباد سے بہت عمدہ انداز میں شائع کیا تھا۔ حال ہی میں ’’مختصر سیرۃ الرسول‘ کے اس ترجمہ کا نیا ایڈریشن شائع کیا گیا ہے‘ میں نے اپنی ذاتی دلچسپی سے پڑھا ہے‘ ایک تو فاضل مترجم مولانا محمد خالد سیف کا ادبی رنگ لیے ہوئے ترجمہ بہت عمدہ ہے‘ نیز کتاب بہت عمدہ کاغذ پر جدید طباعتی حسن سے مزین ہے۔ پھر مئولف الشیخ محمد بن عبدالوہاب کانام اور کام بہت اعلیٰ درجے کا ہے۔ قارئین کے سامنے بہت خوشی سے مختصر سیرۃ الرسول کا مولانا محمد خالد سیف اللہ کا ترجمہ اس استدعا کے ساتھ پیش کر رہا ہو ںکہ اسے ضرور پڑھیئے‘416 صفحات پر مشتمل مختصر سیرۃ الرسول کو ضرور پڑھیئے۔ قیمت تو ا س کی1300 روپے ہے مگر اہل علم‘ طلبہ‘ دانشوروں‘ اہل قلم کے لئے ‘ اساتذہ کے لئے صرف400 روپے میں دستیاب ہے۔
الشیخ محمد بن عبدالوہاب کے پانچ بیٹے تھے حسن‘ حسین ‘ علی ‘ ابراہیم‘ عبد اللہ‘ الشیخ عبداللہ بن محمد بن عبدالوہاب نے بھی ’’مختصر سیرۃ الرسول‘‘ کا علمی جائزہ لکھا او ر اسے کتابی صورت میں پیش کیا تھا‘ پاکستان میں عربی میں یہ کتاب پہلی بار جامعتہ العلوم الاثریۃ جہلم اور المکتبۃ السلفیہ شیش محل روڈ لاہور سے شائع ہوئی تھی اور یہ کتاب الشیخ ابراہیم بن علی الناصر کے خرچ پر شائع ہوکر مفت تقسیم ہوئی تھی جبکہ اس کا اردو ترجمہ شیخ الادب و الحدیث مولانا حافظ محمد اسحاق‘ تقویۃ الاسلام لاہور نے کیا تھا۔ یہ ترجمہ صفحات808 ہے اور 1981 ء میں ہوا‘ جامعتہ العلوم الاثریۃ جہلم سے محمد مدنی بن حافظ عبد الغفور نے متعدد بار شائع کیا تھا اور مفت یہ کتاب عربی اور اردو ترجمہ میں تقسیم ہوئی تھی۔ میں نے عربی اصل کتاب‘ ترجمہ مولانا حافظ محمد اسحاق پڑھ رکھا ہے اور اب مولانا محمد خالد سیف کا الشیخ محمد بن عبدالوھاب کی مختصر سیرۃ الرسول کا اردو ترجمہ بہت دلچسپی سے پڑھ رہا ہوں۔
الشیخ محمد بن عبدالوہاب نے اپنے لکھے ہوئے مقدمہ میں مکہ مکرمہ‘ بیت اللہ‘ قصی‘ ہاشم‘ عبد المطلب کے واقعات بہت عمدہ انداز میں لکھے ہیں۔ بہت سی نادر معلومات بھی ہیں۔ مثلاً ایک شخص یعمر الشراخ یعنی سر کچلنے والا‘ قصی کے بارے میں ایک شاعر کا عربی ترجمہ مولانا محمد خالد سیف نے بت عمدہ کیا میری عمر کی قسم لوگوں کو جمع کرنے والے کو قصی کے نام سے پکارا جاتا ہے کیونکہ اس نے اپنی دانائی سے بہت سے قبائل کو جمع کر دیاتھا‘ ’’حلف الفضول‘‘ اور پھر ہشام جس کا اصل نام عمرو تھا اور لقب ہشام تھا‘ کے بارے میں عبد اللہ بن الزبعری کا شعر ہے‘ ترجمہ ملاحظہ کیجئے ’’عمرو‘‘ وہ ہے جس نے روٹیاں توڑ توڑ کر شوربے میں بھگو بھگو کر اپنی قوم قریش کو اس وقت مکہ میں کھلائیں جب مکہ میں شدید قحط تھا۔ یہی عمرو عرف ہاشم بنی نجار کی ایک بیٹی سے مدینہ میں شادی کرتے ہیں جن سے عبد المطلب پیدا ہوئے‘ یہ سب معلومات ’’مقدمہ‘‘ میں ہیں۔
رسم ’’حمس‘‘ کیا تھی اہل قریش کی؟ رسم ’’لقی‘‘ کیا تھی اہل قریش کی؟ یہ سب کچھ آپ کو مقدمہ کتاب میں پڑھنے کو ملے گا۔
میں کئی بار خاندان نبوت کے مدینہ منورہ (یژب) سے تعلق کو غور سے دیکھتا رہا ہوں۔ عمرو یعنی ہاشم کی شادی مدینہ میں بنی نجار (ترکھان پیشہ سے وابستہ خاندان) سے ہوئی پھر عبد المطلب پیداہوئے اس شادی سے ‘ پھر عبد المطلب نے خود اپنی شادی بنی نجار سے مدینہ میں کی تھی آخری عمر میں جس سے حضرت حمزہ تولد ہوئے‘ اپنے بیٹے عبداللہ بن عبد المطلب کی شادی بھی بنی نجار کی آمنہ سے کی جس سے حضرت محمد تولد ہوئے تھے۔
اوپر رسم ’’حمس‘‘ کا ذکر لکھا ہے۔ یہ تکبر و غرور کی طرف میلان تھا‘ مجاوران کعبہ حج کے لئے قریش عرفات میں نہیں جاتے تھے‘ بلکہ مزدلفہ سے واپس حج میں رہتے تھے‘ رسم ’’لقی‘‘ مردوں‘ عورتوں کا برہنہ جسم طواف کعبہ کرنے کا جو رواج تھا ‘ اس پر ایک شاعرہ صباعہ بنت عامر کا شعر ہے۔ ترجمہ ملاحظہ کریں ’’ آج بدن کا کچھ حصہ ظاہر ہوگا یا بالکل ہی عریان ہو جائے گا میرا بد ن‘ لیکن بدن کا جو بھی حصہ کھلے گا وہ کسی بھی کے لئے حلال قرار نہیں دوں گی‘‘۔ اس سے عرب جاہلی زمانے کی عورت کی اپنی عزت و ناموس سے گہری وابستگی بھی سامنے آتی ہے۔