یہ امر غور طلب ہے کہ بلوچستان کو تسلسل سے دہشت گردی کا نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے؟ آخر کیوں سوشل میڈیا پہ مشکوک اکائونٹس سے بلوچ حقوق کے نام نہاد علمبردار تشدد اور نفرت کا پرچار کر رہے ہیں ؟ بلوچستان کے اصل مسائل ہیں کیا اور ان کا حل کیسے ممکن ہے؟ بلوچ عوام خصوصاً نوجوان طبقہ کیا چاہتا ہے ؟ دہشت گردی یا تشدد کی لہر کے پیچھے کون سے عوامل اور عناصر کار فرما ہیں؟ کیا وجہ ہے کہ بلوچستان میں سرگرم علیحدگی پسندوں اور لسانی دہشت گردوں کے لئے بھارتی حلقوں میں نرم گوشہ پایا جاتا ہے؟ ان سوالوں کی کھوج سے پہلے اگر آپ یہ جان لیں کہ گلزار امام شامبے کون ہے تو جوابات کی تلاش کا مرحلہ آسان ہو جائے گا ۔ ایک برس قبل کوئٹہ میں گلزار امام شامبے نے میڈیا سے جو گفتگو کی وہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ۔ بلوچستان کے خیر خواہ اس واقعے کی اہمیت سے خوب واقف ہیں۔ یہ گفتگو تمام میڈیا پہ تفصیل سے رپورٹ کی گئی تاہم جو طبقات بلوچستان سے دلچسپی رکھتے ہوئے محض سطحی معلومات رکھتے ہیں یا سوشل میڈیا کے غیر مستند ذرائع کی جانب راغب ہیں انہیں چاہئے کہ انٹرنیٹ اور مستند ذرایع ابلاغ پہ دستیاب اس گفتگو سے ضرور استفادہ کریں۔ اس گفتگو کی اہمیت کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ گلزار امام شامبے اس بی این اے (بلوچ نیشنلسٹ آرمی ) نامی کالعدم دہشت گرد تنظیم کا سربراہ تھا ۔ یہ تنظیم برسوں سے بلوچستان کی پاکستان سے علیحدگی کے ایجنڈے پہ کار فرما ہے۔ دنیا کو حیرت ہوئی کہ جس تنظیم نے پاکستان میں کئی ہلاکت خیز دہشت گرد حملے کئے آخر اس کا سربراہ کیوں کر ہتھیار ڈالنے پر رضا مند ہوا۔ جو تنظیم خاکم بدہن بلوچستان کو پاکستان سے جدا کرنے کے ایجنڈے پہ کارفرما تھی اس کے سربراہ کا اپنے قریبی ساتھیوں سمیت دہشت گردی کی راہ چھوڑ کر قومی دھارے میں شامل ہونے کا فیصلہ کئی پہلووں سے ایک تاریخ ساز واقعہ ہے۔ کالم کے آغاز میں جو حساس سوالات درج کئے وہ آج ہر دردمند پاکستانی کے ذہن میں ڈنک مارتے ہیں ۔ بلوچستان سے دہشت گردی کی آنے والی خبریں ہر پاکستانی کو بے چین کئے رکھتی ہیں ۔ ایک برس قبل گلزار امام نے ببانگ دہل یہ بتایا کہ بلوچستان میں جاری شورش کے پیچھے کیا محرکات کار فرما ہیں۔ اس چشم کشا گفتگو کی تلخیص قارئین کی سہولت کے لئے پیش خدمت ہے۔ اول، بلوچستان میں علیحدگی پسندی اور دہشت گردی کی سر پرستی بھارت کر رہا ہے۔ دوم، بھارت بلوچستان میں مکتی باہنی طرز پہ لسانی تعصب کا ہتھیار استعمال کر کے مشرقی پاکستان کی تاریخ دہرانا چاہتا ہے۔ سوم ، چین کے تعاون سے سی پیک منصوبے کی تکمیل بلوچستان میں بھارت کے ناپاک عزائم کی راہ میں حائل بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ بلوچستان کی ترقی اور معاشی استحکام کی صورت بھارت سادہ لوح بلوچ نوجوانوں کو ریاست دشمن منصوبوں کے لئے اکسا نہیں سکتا ۔
فی الوقت بلوچستان کی پسماندگی کو بنیاد بنا کر ریاستی اداروں اور دیگر لسانی اکائیوں کے خلاف نفرت کی آ گ سلگانے کے لئے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا بھر پور استعمال کیا جا رہا ہے۔ چہارم ، سادہ لوح نو جوانوں کو تعلیم و ہنر سے دور کر کے دہشت گردی کے تباہ کن راستے پہ ڈال کر بلوچستان کو مسقل بنیادوں پر بدامنی کا گڑھ بنانے کے منصوبے پر عمل درآمد کے لئے بھارتی ریاست کی جانب سے پیسہ پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے۔ پنجم، بیرون ملک مقیم نام نہاد قوم پرست حقوق اور علیحدگی کی تحریک کی آڑ میں بھارتی پیسے سے عیش و عشرت میں مصروف ہیں جبکہ غریب بلوچ نوجوان دہشت گردی کے اندھے کنویں میں گرتے جا رہے ہیں ۔ نام نہاد قوم پرست دراصل اپنے مفادات کی تکمیل کے لئے نوجوان نسل کے ہاتھ میں قلم کے بجائے ہتھیار تھما کر بلوچستان کا مستقبل تاریک کر رہے ہیں ۔ ششم ، بلوچ نوجوانوں کا روشن مستقبل صوبے کی ترقی ، تعلیم ، امن اور استحکام سے مشروط ہے۔ ایک مضبوط اور خوشحال ریاست ہی تمام صوبوں بشمول بلوچستان کو حقوق کی ضمانت فراہم کرسکتی ہے۔ لہٰذا نام نہاد قوم پرستوں کے فریب میں آنے کے بجائے بلوچ نوجوان ریاست کے ساتھ اپنا مستقبل وابستہ کریں ۔ درج بالا مختصر نکات گلزار امام کی میڈیا سے کی گئی طویل گفتگو سے اخذ کئے گئے ہیں ۔ یہ واضح ہے کہ ازلی دشمن بھارت بلوچ نوجوانوں اور ریاستی اداروں خصوصاً افواج پاکستان کے درمیان تشدد اور نفرت کی خلیج پیدا کرنے کے درپے تھا ۔ صد شکر کہ فیصلہ سازوں نے دشمن کے ارادوں کو بروقت بھانپ کر نہایت بہترین حکمت عملی مرتب کی ۔ اس موثر حکمت عملی کے نتیجے میں بھٹکے ہوئے بلوچوں کو پرامن طریقے سے واپسی کا راستہ اور اصلاح کا موقع فراہم کیا گیا۔ اسی حکمت عملی کے نتیجے میں پہلے گلزار امام اور بعدازاں سرفراز بنگلزئی جیسے علیحدگی پسند جنگجو اپنے ساتھیوں سمیت دشمن کے جال سے آزاد ہو کر ریاست کی پناہ میں آگئے۔ اس کامیابی پہ ریاستی ادارے خصوصاً ملکی سلامتی کے لئے ہراول دستے کا کردار ادا کرنے والی خفیہ ایجنسی کی قیادت خراج تحسین کی مستحق ہے۔ دشمن دہشت گردی پھیلا کر بلوچوں اور افواج پاکستان کے درمیان خوں ریزی کروانا چاہتا تھا۔ گلزار امام اور سرفراز بنگلزئی کی پرامن واپسی سے یہ منصوبہ ناکام ہوا ۔ جو شر پسند غیر ملکی سرمائے اور شہ پر ریاستی اداروں کے خلاف لاپتہ افراد اور ماورائے عدالت قتل کے جھوٹے الزام عائد کر کے واویلا مچاتے ہیں ان سے بھی پوچھا جانا چاہئیے کہ جو ریاست گلزار امام اور سرفراز بنگلزئی کو قومی دھارے میں شمولیت کا راستہ فراہم کر سکتی ہے وہ بھلا دیگر بلوچوں کو کیوں تشدد کا نشانہ بنانا چاہے گی؟ حقیقت یہی ہے کہ بلوچستان کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بھارتی سر پرستی میں سرگرم علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیمیں اور ان کے مفرور لیڈر ہی ہیں ۔