Search
Close this search box.
جمعه ,12 جون ,2026ء

ایرانی شہادت گہہ اُلفت کے حضور

ایران محض شہنشاہیت، محض زرتشت ازم نہیں تھا نہ ہی ایران محض فردوسی کا شاعرانہ تعلی کا رستم و سہراب ہے بلکہ ایران تبریز بھی ہے۔وہی جہاں کا شمس تبریز مشہور ہے اور ایرانی قم بھی ہے جو شعور، آگاہی، علم، فقہ، اجتہاد،فکر ی جولان گاہیں بھی رکھتا ہے۔ ایران کچھ بہت اچھی، کچھ بہت ہی ناقابل قبول تاریخ بھی رکھتا ہے۔ ہمایوں کا ایران جانا، ایرانی شہنشاہیت کا ہمایوں کو واپس اقتدار، ہندوستان دلوانا تاریخ ہے۔
ایرانی برصغیر اور ایران و عربوں میں عقائد، نظریات کی بحثیں، مناظرے، جنگ و جدل، ترک خلافت استنبول سے طہرانی، اقتدار کی طویل ترین جنگیں؟ یہ سب تاریخ کا انمٹ نشان ہیں مگر ایران ان عقائد، نظریات کے مناظروں، بحثوں، جنگ و جدل، پراکیسز پر تشدد کردار کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے اور یہ جو ’’بہت کچھ‘‘ ہے اسی کا نام ابراہیم رئیسی ہے۔ مجھے اعتراف ہے کہ میں نے بہت سے سال ایرانی انقلاب کے سخت ترین نقاد کے طور پر گزارے ہیں۔ پہلے زیادہ تر میں مشرق وسطیٰ کو عربوں، اپنے محبوب و معشوق عربوں کی آنکھ سے دیکھتا تھا تدبر و فراست اور جرات میں، میں نے آل سعود کو کافی بہتر پایا ہے بطور خاص شاہ عبدالعزیز، شاہ فیصل، شاہ عبداللہ اور جرات و دلیری میں میں نے آل سعود میں سے شاہ فیصل کے بعد کچھ کچھ شاہ عبداللہ کو اور بہت کچھ ولی عہد محمد بن سلمان کو پایا ہے۔ محمد بن زاید النہیان، امارات کو جنگ و جدل میں سعودیہ کا ہمرکاب یمن میں دیکھا اور قطر میں محاصرے میں دیکھا ہے مگر یہ وہ ’’منازل‘‘ ہیں جہاں سے گزر کر بہت کچھ ’’نیا‘‘ بھی ملتا ہے وہ ہے تدبر و فراست، دور اندیشی، صبر اور یمن و قطر محاصرے سے امارات اور سعودیہ کو یعنی محمد بن زاید النہیان اور محمد بن سلمان کو یہ عظیم نعمتیں اب ملی ہیں۔
ابراہیم رئیسی کو میں سخت ناپسند کیا کرتا تھا کہ بطور پراسیکیوٹر یعنی انقلاب کے وکیل ریاست و انقلاب کے طور پر وہ خلق اور تودہ کے افراد کے حوالے سے بہت سا متنازعہ کردار رکھتے تھے۔ مگر یہ سب کچھ ابراہیم رئیسی کو کرنا ہی تھا اگر وہ انقلاب سے حقیقی طور پر وابستہ تھے، اگر وہ دوست نوازی، سیاسی گروہ بندی میں بھی مکمل یقین رکھتے تھے لہٰذا انہیں یہ سب کچھ انقلاب کو درپیش خلق و تودہ بغاوت کے بہت بڑے خطرات کے طور پر کرنا ہی تھا، ایسا گروہ دوست، گروہ پسند ہوتا مگر بدقسمتی یا خوش قسمتی سے میں اصول پسند، روایات پسند، اقدار پسند، اخلاقیات ضوابط پر پابند، انقلاب کو ناپسند کرنے والا البتہ بنیادی،سیاسی تبدیلیوں کو تدریجی انداز میں پسند کرنے والا، نافذ کرنے والا مزاج رکھتا ہوں۔ لہٰذا ابراہیم رئیسی کے ، تبریز کے شعلوں میں جل کر شہید ہو جانے کے بعد مجھے ’’مکمل’‘‘ تفہیم ملی ہے کہ ابراہیم رئیسی سخت گیر پراسیکوٹر اور جج، یہ سب کچھ تھا مگر حماس، غزہ، فلسطین، یوم القدس کے لئے بھی مہمیز رہتا تھا، آگ کو ‘‘شعلوں‘‘ میں بدل دینے میں یقین رکھتا تھا اور اس نے وہ سب کچھ آیت اللہ علی خامنہ ای کی پریقین قیادت میں کر بھی دیا ہے۔
جنرل قاسم سلیمانی کی جو شہادت یا موت ہوئی اس میں ’’اندر‘‘ سے تعاون موجود تھا اگر ابراہیم رئیسی کسی سازش کا شکار ہوئے ہیں تو پھر ان کے حوالے سے بھی ’’اندر‘‘ کا تعاون موجود ہوگا۔ مگر جس طرح کبھی لیاقت علی خان، جنرل ضیاء الحق، بے نظیر بھٹو کی شہادت کے مکمل حقائق سامنے نہیں آئے ایسا ہی ابراہیم رئیسی کے حوالے سے بھی ہوگا۔ خدا ایرانی قوم کی حفاظت کرے۔ (آمین)
میں ایرانی انقلاب میں سے اصلاح پسندوں کا بہت بڑا حامی رہا ہوں۔ جب سرحد پر ایرانی حملہ ہوا تو پاکستان نے جوابی حملہ کیا تو میری دانست میں اس معاملے میں نہ ابراہیم رئیسی شامل تھے نہ ہی آیت اللہ علی خامنہ ای کا اشارہ تھا۔ بس یہ احمقانہ ’’وجود‘‘ تھا جس کا اظہار ہوا تھا، الحمدللہ ابراہیم رئیسی کے تدبر نے اس آگ کو ٹھنڈا کر دیا تھا۔
وزیر خارجہ امیر حسین عبداللھیان پیشہ وارانہ طور پر ڈیلومیٹ تھے، انہیں بین الاقوامی تعلقات میں تعلیمی نعمت میسر تھی۔ وہ سیاست دان کی بجائے ٹیکنوکریٹ وزیر خارجہ تھے۔ جبکہ مجھے مرض لاحق رہا ہے کہ میں ایران کے خارجہ امور میں چہرہ صرف جواد ظریف کو دیکھتا رہا ہوں۔ کاش آج بھی وہ موجودہ بحران میں صدارتی انتخابات لڑ سکیں۔ کاش وہ ریٹائرمنٹ کی زندگی ختم کرکے اصلاح پسند سیاست کا نیا رخ سامنے لاسکیں، علی خامنہ ای ان کے سرپرست بن سکیں۔
میں بولتا نہیں تھا مگر مجھے وجدانی طور پر ایران کے معاملات، عربوں سے زیادہ دگرگوں اکثر نظر آتے تھے، تجزیہ نہ بھی ہو تو وجدان بہت کچھ بتاتا ہے، مگر اندازہ نہیں تھا کہ ابراہیم رئیسی ایک المیے، حادثے کا شکار ہو جائیں گے۔ آذربائیجان اور ایران کے تعلقات کی تاریخ بہت تلخ اور پرانی ہے۔ اس حادثے میں اس تلخ تاریخ میں نیا احیاء ہوگیا ہے۔ خدا آذربائیجان اور ایران کو مستقبل میں دوست، ہمدرد، مددگار بنا دے۔ اللہ تعالیٰ جملہ شہداء کے درجات بلند فرمائے۔ (آمین)
ابراہیم رئیسی کی شہادت کے 50 دنوں بعد انشاء اللہ نئے صدر سامنے آجائیں گے۔ ایران کو، خمینی ازم کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ ہر آفت میں، ہر مصیبت میں، ہر اہم المیے میں بھی انقلاب کے عطاء کردہ دستوری طریق کار پر کار بند رہتا ہے۔ ماضی میں بھی صدارتی منصب جب جب خالی ہوا تھا تب تب دستور کے مطابق نیا صدر آگیا تھا جبکہ پاکستان میں کبھی بھی دستور، آئین کے حوالے سے وہ کردار نہیں اپنایا گیا جو ایران اپناتا رہا ہے۔ ایوب خان نے منصب چھوڑا تو بنگالی اسپیکر قومی اسمبلی کی بجائے جنرل یحییٰ خان نے اقتدار پر قبضہ کرلیا اور پھر بعدازاں ہمیشہ مارشل لاء کا راستہ ہموار ہوگیا۔ ایرانیوں کو متنبہ رہنا ہوگا کہ ان میں کوئی طالع آزماء فرد یا گروہ اقتدار پر قبضہ نہ کر سکے۔ ورنہ ایرانی ریاست بہت کمزور ہو جائے گی اور انقلاب کی کشتی بھی ہمیشہ کے لئے ڈوب جائے گی۔ بادشاہت واپس آجائے گی۔

یہ بھی پڑھیں