نام نہاد بھارتی جمہوریہ میں انسانی حقوق کی پامالی اور اقلیتوں سے برتے جانے والے تعصب کی داستانیں عالمی میڈیا پہ گردش کر رہی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار کی مسلم کش روش انتہا کو چھو رہی ہے۔ اس کی وجوہات روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ بھارت کے دیگر علاقوں کے مقابل جموں اور کشمیر کی حیثیت یکسر جدا ہے۔ یہ ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ نہرو دور میں بھارت خود اس تنازعے کو اقوام متحدہ میں لے گیا تھا۔ اہل کشمیر کو حق رائے دہی ملنے تک یہ خطہ متنازعہ حیثیت میں ہی دنیا کے نقشے پہ قائم رہے گا۔ پاکستان کا ریاستی نقشہ بھی اسی موقف کو ظاہر کرتا ہے۔ مودی سرکار نے سیاسی میدان میں ووٹ بٹورنے کے لئے مسلم دشمنی کی پالیسی اپنا لی ہے۔ مقبوضہ کشمیر اس پالیسی کی سب سے بڑی تجربہ گاہ بن چکی ہے۔ نہتے کشمیریوں کو جعلی مقابلوں میں شہید کرکے خوف و ہراس کی فضا قائم کی گئی ہے۔ مودی سرکار اور کشمیریوں میں بداعتمادی کی خلیج اتنی وسیع ہوچکی ہے کہ کئی برسوں سے مقبوضہ کشمیر کو لیفٹیننٹ گورنر کے ذریعے قابو کیا جا رہا ہے۔ یعنی حالات اس نہج پہ پہنچ چکے ہیں کہ کٹھ پتلی اسمبلی اور وزیر اعلیٰ کا وجود بھی نا قابل برداشت ہوچکا ہے۔
پانچ برس قبل مقبوضہ کشمیر کا مخصوص ریاستی تشخص پامال کرنے کے لئے جب آرٹیکل 370 کو منسوخ کیا گیا تو نہ صرف پاکستان بلکہ چین کی طرف سے بھی اس یکطرفہ غیر قانونی عمل کی بھرپور مخالفت کی گئی ۔ مقبوضہ کشمیر میں آزادی کے لئے اٹھنے والی آوازوں کو خاموش کرنے کے لئے ریاستی جبر کا بے رحمانہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ تحریک حریت کے تمام قائدین پابند سلاسل ہیں ۔ کون نہیں جانتا کہ تحریک حریت کشمیر کی نہایت توانا آواز سید علی گیلانی کو طویل عرصے تک زیر حراست رکھا گیا۔ اسی طویل نظر بندی کے دوران سید علی گیلانی نے جام شہادت نوش کیا۔ ستم بالائے ستم یہ کہ شہید سید علی گیلانی کے اہل خانہ کی مرضی کے بر خلاف گمنام قبر میں جبری تدفین کر دی گئی۔ مودی سرکار اس خوف میں مبتلا ہے کہ شہدا کے جنازوں اور تدفین کے اجتماع میں عوامی سمندر کی لہریں جبر و تشدد کا پول کھول دیں گی۔ دنیا پہ یہ حقیقت آشکار ہو جائے گی کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاست جبر کے بل بوتے پر قابض ہے۔ گذشتہ برسوں میں جبری تدفین کے متعدد واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ جن کشمیریوں کو جعلی مقابلوں میں دہشت گرد قرار دے کر ماورائے عدالت قتل کیا جاتا ہے ان کے جسد خاکی اہل خانہ کے حوالے کرنے کے بجائے گمنام قبروں میں دفنا دئیے جاتے ہیں۔ انسانی حقوق کی اس بدترین پامالی اور اسیر کشمیری حریت پسندوں کے حراستی قتل کے ریاستی رجحان کو بھانپتے ہوئے مشال ملک نے جو اپیل عالمی اداروں سے کی ہے وہ نہایت توجہ کی مستحق ہے۔
مشال ملک کے خاوند یاسین ملک حریت مقبوضہ کشمیر کی تحریک کی نمایاں آواز ہیں۔ انہیں خاموش کرنے اور موقف میں لچک پیدا کرنے کے لئے ریاستی جبر کا بے دریغ استعمال جاری ہے۔ لگ بھگ تین دھائیوں پرانے جھوٹے مقدمے میں پھنسا کر یاسین ملک کو زندان میں ڈال دیا گیا۔ گذشتہ برس بنا ثبوت جب یاسین ملک کو دہشت گرد قراردے کر دو مرتبہ عمر قید کی سزا دی گئی تو استغاثہ کے وکیل کا اصرار تھا کہ عدالت سزائے موت کا حکم جاری کرے۔ بین الاقوامی معیار اور قوانین کے مطابق یاسین ملک کا مقدمہ شفاف نہیں۔ بھارتی ریاست کی بد نیتی اور جانبداری پہ عالمی تنظیموں کی جانب سے سنگین اعتراضات اٹھائے جا چکے ہیں ۔ پاکستان میں مقیم یاسین ملک کی اہلیہ مشال ملک اور کمسن بیٹی رضیہ سلطانہ کے پاس ملاقات اور رابطے کی کوئی سبیل نہیں۔ قیدی کو بیوی اور بچوں کی ملاقات سے محروم رکھنا غیر قانونی ہے ۔ بھارت علی الا علان جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی کئے جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مشال ملک نے اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت پہ دبا بڑھائیں۔ مشال ملک نے ببانگ دہل اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ بھارتی حکومت یاسین ملک کو راستے سے ہٹانے کے لئے متحرک ہے۔ پہلے تو عدالتوں کو آلہ قتل بنا کر سزائے موت پہ عملدرآمد کی کوشش کی جائے گی ۔ ناکامی کی صورت میں دوران حراست یاسین ملک کو بھی دھیرے دھیرے موت کے منہ میں دھکیلا جائے گا۔ اس منصوبے پہ عملدرآمد کے لئے بنا قانونی تقاضے پورے کئے یاسین ملک کو دہلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں منتقل کیا جا چکا ہے۔ تمام قوانین اور اخلاقی روایات کو پامال کرتے ہوئے بیمار یاسین ملک کو قید تنہائی میں رکھ کر ذہنی اذیت اور نفسیاتی دبا کا ہتھیار آزمایا جا رہا ہے۔ مشال ملک کا یہ مطالبہ درست ہے کہ انہیں اپنی بیٹی کے ہمراہ یاسین ملک سے ملاقات کا موقع فراہم کیا جائے۔ دستیاب اطلاعات بے حد تشویشناک ہیں۔ یاسین ملک کی ہمشیرہ نے مختصر ملاقات کے بعد بتایا کہ ان کے اسیر بھائی بے حد علیل ہیں اور کمزوری کے باعث اٹھنے بیٹھنے سے بھی قاصر ہیں۔ انسانی حقوق کے علمبردار حلقوں کو کوشش کرنی چاہئے کہ یاسین ملک کے معاملے میں کہیں دوبارہ سید علی گیلانی شہید جیسی المناک تاریخ نہ دھرا دی جائے۔ مودی کے ریاستی جبر کے شکار تمام کشمیری اسیروں کو ضمیر کے قیدی قرار دے کر بھارت کو عالمی عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔