Search
Close this search box.
جمعرات ,09 جولائی ,2026ء

محمد بن سلمان تہران جاتے ہوئے

ماشاء اللہ محمد بن سلمان کو ایران کے عہد معاصر کے موجودہ صدر محمد مخبر نے دورہ ایران کی دعوت دی ہے۔ محمد بن سلمان نے یہ ایرانی دعوت قبول کرلی ہے اور انشاء اللہ وہ بہت جلد تہران میں ہوں گے جیسے وہ اسلام آباد میں کئی بار آتے رہے تھے کیا وہ ایران کو، تہران کو اپنے لئے، آل سعود کے لئے اتنا خوشگوار بدلا ہوا پائیں گے؟ کہ وہ اسلام آباد کی طرح ، جنرل راحیل شریف کے عہد آرمی چیف میں بار بار آتے تھے۔ سوال مگر یہ بھی ہے کہ اب وہ بار بار دعوت کے باوجود اسلام آباد کیوں نہیں آئے؟ سوال ’’میزبانوں‘‘ کی ’’اہلیت‘‘ کا زیادہ ہے ’’مہمان‘‘ سے اس حوالے سے سوالات کرنا اپنا پیٹ ننگا کرنا ہوگا۔
شاہ عبداللہ بطور کرائون پرنس وزیراعظم نوازشریف کے عہد میں آئے، پھر جنرل مشرف عہد میں آئے تھے دوبار اس وقت اسلام آباد اور ریاض کو امت مسلمہ کے مسائل حل کرنے کے ’’جڑواں‘‘ دارالخلافے کہاجاتا تھا۔ کیا اب تہران اور ریاض ،اسلام آباد ایسے دارالخلافے بننے جارہے ہیں جو امت مسلمہ کے مسائل حل کرنے والے بغلگیردارالخلافے کی ’’مثلت‘‘ بن جائے گی اور یہی عملیت پسندی ہے عالم اسلام کی، شیعہ و سنی اختلاف کا بھی ’’ مدفن‘‘ تیار ہوگا محمد بن سلمان کے تہران کے دورے سے اورجب محمد بن سلمان ’’تہران‘‘ میں سچ مچ جائیں گے تو کتنا کچھ ’’درد‘‘ ہوگا نیتن یاہو، امریکی ان ایجنسیوں کو جو ایران و سعودیہ کی جنگ میں سنی وشیعہ جنگ وجدل میں اربوں ڈالرکماتےتھےاوراپنےفوجی الگ سے قابض فوج کےطورپرمشرق وسطیٰ میں اتارےہوئے ہیں۔ کتنا دردہوگا جیرڈکشنر کو بھی معذرت کے ساتھ۔
جس زمانے میں انقلاب ایران اور پاسداران کا شدید نقاد تھا، آل سعود کا شدید عاشق تھا، تب میں نے اکثر کالموں میں مطالبہ لکھا تھا کہ ایرانی انقلاب کے شہ دماغ سعودی بادشاہ یا سعودی ولی عہد کو کیوں اس طرح احترام سے تہران میں مدعو نہیں کرتے جیسے ریاض میں آل سعود بادشاہتیں ایرانی صدور کو مدعو کیا کرتی ہیں؟ ریفارمز کے کتنے صدور ریاض میں مدعو ہوئے تھے؟ مگر نہ شاہ عبداللہ، نہ ہی شاہ سلمان تہران میں مدعو ہوئے۔ کس کام کا تھا یہ اصلاح پسند عہد؟
مگر ماشاء اللہ صدر ابراہیم رئیسی شہید اور ان کے وزیرخارجہ امیرحسین عبداللھیان شہید کا طرہ امتیاز ہے کہ ان کے سبب ریاض کو اپنی میزبانی کا موقعہ دیا جارہا ہے، سعودیہ و ایران میں دوستانہ عہد کو طلوع کیا جارہا ہے ، اگرچہ یہ سب کچھ چین کی مدد سے ہوا تھا مگر اس میں ہم جیسوں کی بھی بہت سی دعائیں شامل حال تھیں۔
محمد بن سلمان بہت بڑے حکمت کار ہیں، دلیر بھی ہیں انہوں نے بہت سے ’’راستے‘‘ منتخب کئے ہیں مگر کچھ راستوں پر چل کر ان کے پائوں بہت زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ان کا دل بھی بہت دکھا ہوا ہے۔ اس حوالے سے اسلام آباد سے بھی مایوس ہوئے ہیں اور بدقسمتی کہ پہلے جو شخص وزیراعظم تھا، آج پھر دوسری مرتبہ بھی وہی ہے، اس لئے تو وہ اسلام آباد آنے سے پرہیز کرتے ہیں جو تھوڑی سی راہ و رسم باقی رہ گئی ہے وہ صرف آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے سبب ہےیاجنرل راحیل شریف کے سبب۔ ’’انہیں‘‘ سب کچھ معلوم ہے کہ پاکستان میں سیاستدانوں کی اپنی حیثیت خود ان کے اپنے سبب بہت کم ہے کہ وہ ’’جو‘‘ کہتے ہیں وہ کرتے نہیں ہیں جبکہ بادشاہتیں عموماً جو چاہتی ہیں وہی کرتی بھی ہیں۔ کرواتی بھی ہیں۔
تہران میں محمد بن سلمان کا کھلے دل سے ’’جانا‘‘ کتنے بھاری دل کا فیصلہ ہوگا؟ مگر حماس نے، غزہ نے، لہولہان غزہ اور فلسطین نے یہ سب کچھ کروا دیا ہے کیونکہ غزہ کے حوالے سے، حماس کے حوالے سے اگرچہ بالفعل ایران جنگ کا حصہ نہیں ہے، اس کے باوجود تہران کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہی ’’ویٹو‘‘ پاور بن گیا ہے مسئلہ فلسطین کے حوالے سے، میں کیا کروں؟ میری تمام تر محبتیں آل سعود کے ساتھ ہی ہیں۔ شاہ سلمان کے ساتھ ہی ہیں۔ محمد بن سلمان کےساتھ ہی ہیں۔ محمد بن زایدالنہیان کےساتھ ہی ہیں۔ کویت، قطر، بحرین، عمان، مصر، اردن، یمن سب کچھ عربوں کے لئے وقف ہے مگر معذرت کے ساتھ مسئلہ فلسطین میں میرے معشوق عربوں کے پاس سفارتی تمام تر حیثیت، اہمیت، عمدہ کوششوں کے باوجود کامیابیوں کے امکانات کے باوجود۔ ’’ویٹو‘‘ پاور صرف تہران کے پاس ہے بلکہ ویٹو پاور صرف آیت اللہ علی خامنہ ای کے پاس ہے۔ مجھ سے کئی افراد نے پوچھا ہے کہ یہ مجبتیٰ خامنہ ای کیا ہے؟ اس کی اہمیت کیا ہے؟ میرا جواب ہے کچھ بھی نہیں، بلکہ وہی جو قذافی کے بیٹے کو قذافی کےچلےجانے کےبعدحاصل ہوئی تھی۔ دوسری طرف شاہ سلمان کی موجودگی میں محمد بن سلمان کو عملاً سعودی عرب کی بادشاہت حاصل ہے اور عالم اسلام کی قیادت و سیادت بھی، مگر کیا وہ یہ سب کچھ مستقبل میں برقرار رکھ سکیں گے؟ ہاں بشرطیکہ وہ اپنے آپ کو تبدیل کرلیں۔ اپنے انداز فکر کو تبدیل کرلیں۔ نیتن یاہو، جیرڈکشنر جیسے لوگوں کے عشق فضول سے نجات پالیں۔
نیوم کیا، لاکھوں نیوم بنائیں، نئے نئے اقتصادی سیاحتی مقامات بھی بنائیں مگر منشیات، قحبہ خانے، شراب خانے سے سخت پرہیز کریں۔ ’’دین‘‘ سے کچھ زیادہ قریب ہو جائیں۔ سوفٹ امیج میں نوجوانوں،خواتین کی اہمیت ہےمگر اپنی کرخت سفارت کاری کے چہروں کو سوفٹ مزاج چہروں اور شخصیات سے تبدیل کریں۔ اسلام آباد کےبرے دن گزرجائیں گے مگر اسلام آباد کو نظرانداز نہ کریں۔ دوستوں کے ہاتھ اس طرح تھامیں جس طرح علی خامنہ ای تھاما کرتا ہے۔ خود غرض، مطلب پرستی، تکبر و غرور کو طلاق دے دیں اور ایسے احباب و معاونین سے بھی نجات پائیں۔ عقیدہ ’’جہاد‘‘ پر نئے سرے سے یقین کامل کرلیں معتدل علماء و شیوخ سے روابط مضبوط کریں۔ ان سب کی محمد بن سلمان کو بہت ضرورت پڑے گی۔ انشاء للہ اگلے چند سال جنگوں کے ہیں اور عقیدہ جہاد کی بڑی اہمیت ہوگی سعودی عرب کیلئے۔
یقینا موجودہ صدرمحمد مخبر ائیرپورٹ پر انہیں لینے جائیں گے انشاء اللہ۔ بہت عمدہ میزبانی پیش کریں گے۔ یقینا آیت اللہ خامنہ ای بھی انہیں شفقت، محبت سے اپنی مجلس میں جگہ دیں گے۔ انشاء اللہ

یہ بھی پڑھیں