Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

نوائے حق ، قادیانیوں کے متعلق فیصلہ پر ملی مجلس شرعی کا موقف

(گزشتہ سے پیوستہ)
اس لحاظ سے اگر کوئی اس آیت کو پیش کر کے اس کی تشریح کرے تو یہ مدعی کے حق میں جاتی ہے نہ کہ مدعا علیہم کے حق میں۔ جو مسلمانوں کی قرآن کی متفقہ علیہ تعبیر کی مخالفت کرتے ہیں اور انہوں نے اس پر ایک نیا مذہب کھڑا کر لیا ہے۔
چیف جسٹس صاحب کو مشورہ
i۔ مندرجہ بالا تصریحات سے ظاہر ہے کہ چیف جسٹس صاحب نے اپنے فیصلے میں جتنی قرآنی آیات کا بھی حوالہ دیا ہے وہ اس موضوع سے غیر متعلق ہیں، جس کی وجہ سے خلط مبحث پیدا ہوا ہے۔ لہٰذا ہم انہیں مشورہ دیتے ہیں کہ انہیں خود محسوس کرنا چاہیے کہ وہ قرآنی علوم کے ماہر نہیں ہیں، لہٰذا انہیں چاہیے کہ قرآن حکیم سے براہ راست خود استفادہ کرنے کی بجائے ان اہلِ علم سے مشورہ لے لیا کریں جنہوں نے ساری عمر قرآن حکیم کو سمجھنے اور سمجھانے اور سیکھنے سکھانے میں گزاری ہے۔ جیسا کہ خود انہوں نے 26 فروری 2024ء والے فیصلے میں کیا ہے کہ بعض دینی اداروں کو اس سلسلے میں معاونت کے لیے کہا ہے۔ یہ کام انہیں 6 فروری 2024ء کے فیصلہ کرنے سے پہلے کرنا چاہیے تھا۔
ii۔ اہلِ علم سے مشورہ لینے میں یہ احتیاط ضروری ہے کہ مشورہ ان سے لیا جائے جو امت کی 1450 سالہ علمی روایت کے امین ہیں اور ’’جمہور علماء‘‘ اور ’’جمہور امت‘‘ کہلاتے ہیں، نہ کہ شاذ رائے رکھنے والے کسی ایسے متجدد سے جو مغرب کی الحادی فکر و تہذیب سے مرعوب ہو کر قرآن و سنت کی تشریح ایسے کرتا ہو جو مغربی فکر و تہذیب اور اس کے علمبرداروں کے مفادات کے مطابق ہو، جیسے جاوید احمد غامدی صاحب جنہیں سارے پاکستان کے علماء گمراہ قرار دے چکے ہیں اور جن کے ادارے المورد کو چیف جسٹس صاحب نے دینی امور میں مشاورت کے لیے بلایا ہے۔ اگر وہ ان جیسے لوگوں سے مشاورت کریں گے تو پاکستان کی ملت اسلامیہ کبھی ان کے فیصلوں کو قبول نہیں کرے گی، لہٰذا انہیں المورد کو مشاورت کے لیے نہیں بلانا چاہیے تھا۔
چیف جسٹس صاحب نے یہاں فرمایا ہے کہ آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق غیر مسلموں کو اپنے تعلیمی اداروں میں اپنے مذہب کی تعلیم و تلقین کی اجازت دیتے ہیں۔
i۔ یہاں پہلی بات تو نوٹ کرنے کی یہ ہے کہ آئین یہ اجازت غیر مشروط طور پر نہیں دیتا بلکہ اسے قانون کی مطابقت سے مشروط کرتا ہے۔ اب یہ دیکھیے کہ آئین پاکستان قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیتا ہے اور قانون ان کو اسلامی شعائر اور مصطلحات کے استعمال سے روکتا ہے، جیسے امیر المومنین، صحابہ کرامؓ، اہل بیت ، مسجد، اذان وغیرہ۔
ii۔ دوسرے یہ کہ قادیانی حضرات اپنے مذہب کو ساری دنیا میں، اور پاکستان میں صحیح اسلام اور صحیح مسلمان کے طور پر متعارف کراتے ہیں اور اس کی تبلیغ کرتے ہیں۔ اس کے لیے وہ اپنا لٹریچر وسیع پیمانے پر طبع اور تقسیم کرتے ہیں اور اس مقصد سے سوشل، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔ دوسرے مسلمانوں کو (یعنی عامۃ المسلمین) کو وہ کافر اور جہنمی قرار دیتے ہیں۔ ان حالات میں پاکستانی مسلمان اور علماء کرام اس کو صحیح تسلیم نہیں کر سکتے کہ قادیانیوں کو بنیادی انسانی حقوق کے کور (Cover) کے تحت غیر اسلامی مواد کی طباعت اور تقسیم کی اجازت دی جائے، اپنے اداروں میں بھی اور باہر بھی۔
دفعہ 298C
چیف جسٹس صاحب کو یہ نکتہ بھی پیش نظر رکھنا چاہیے تھا کہ حکومت پنجاب کے ادارے ’’قرآن بورڈ‘‘ نے اس قرآنی تفسیر ’’تفسیر صغیر‘‘ پر 2016ء سے اسے غیر قانونی قرار دے کر اس پر پابندی لگا رکھی ہے۔ کیونکہ اس میں قرآن حکیم کی تشریح قادیانی نقطۂ نظر سے اس طرح کی گئی ہے کہ اس کی طباعت اور تقسیم عام مسلمانوں کے لیے مضر اور اشتعال کا سبب بن سکتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود قادیانی نہ صرف اسے پاکستان میں چھپوا رہے ہیں اور تقسیم کر رہے ہیں بلکہ ساری دنیا میں اسے صحیح اسلامی تفسیر کہہ کر پھیلا رہے ہیں۔ ملزم اس کو تسلیم کرتا ہے کہ وہ اپنے گروہ کو اصل مسلمان ثابت کرنے کے لیے اس کتاب کی ترویج و تقسیم میں مصروف تھا جو 298C کے تحت جرم بنتا ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ ملزم نے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ میں کسی جگہ اس دفعہ کے خارج کیے جانے کا مطالبہ ہی نہیں کیا، لیکن فاضل چیف جسٹس نے اس خود ملزمان کو اس دفعہ سے خارج کر دیا ہے۔
دفعہ 295B
چیف جسٹس صاحب فرماتے ہیں کہ ملزم کے خلاف 295B کا الزام ثابت نہیں ہوتا اور اسے مقدمے سے خارج کر دیا۔ سوال یہ ہے کہ جب 295B میں Defilement کا لفظ موجود ہے جس کے معنی آکسفورڈ ڈکشنری کے مطابق یہ ہیں:
To make something dirty or no longer pure
اور اس کے مترادفات (Synonyms) ہیں: Spoil, Debase, Pollute, Degrade, Dishonour جبکہ یہی بات تو یہاں زیر بحث ہے کہ ملزمان نے قرآن کے متن، ترجمہ اور تفسیر کی ایسی طباعت و اشاعت کی ہے جس میں قرآنی مفاہیم میں تحریف اور زیادتی کی گئی ہے، تو اس پر 295B کا اطلاق کیوں نہیں ہوتا؟ اور چیف جسٹس صاحب نے کیونکر اس پر 295B کے اطلاق سے انکار کیا ہے؟
جس مواد پر حکومت پابندی لگا دے، اس کی طباعت و اشاعت دہشت گردی کے ضمن میں آتی ہے (دیکھیے دہشت گردی ایکٹ 1997ء کی دفعہ 8 اور 11W)۔ لیکن فاضل چیف جسٹس صاحب اس پر غور ہی نہیں فرما سکے اور ملزمان کو بری کر دیا۔
چیف جسٹس صاحب فرماتے ہیں کہ اس مقدمے پر کریمنل امینڈمنٹ ایکٹ 1932ء لاگو ہوتا ہے جس کے تحت اس جرم کی زیادہ سے زیادہ سزا 6 ماہ قید ہے (جبکہ ملزم اس سے زیادہ قید کاٹ چکا ہے لہٰذا اس کی ضمانت قبول کی جانی چاہیے تھی) ۔ جبکہ مذکورہ ایکٹ 64 سال پہلے پریس اینڈ پبلی کیشن ایکٹ 1960ء کے ذریعے ختم کر دیا گیا تھا۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں