ہر چیز اپنے اصل کی طرف لوٹا کرتی ہے‘ کل شیئی یرجع الی اصلہ۔ یہ عرب حکماء کا فرمان ہے اور MBS جنہیں عوامی سطح پر مسٹرایوری تھنگ MR EVERY THING کہا جاتا ہے کے بارے میں میرا وجدان اکثر یہ کہتا ہے کہ وہ لازماً اپنی سعودیت کی ’’اصلیت‘‘ کی طرف ہی لوٹیں گے۔ ماضی میں جو کچھ لبرل اور سیکولر سا ہوگیا سو ہوگیا۔ جس طرح انہوں نے ابراہیم رئیسی کے ایران‘ آیت اللہ خامنہ ای کے پراکسیز والے ‘ یمنی حوثیوں کے سرپرست ہونے کی کہانی رکھنے والے ایران سے چین کی وساطت سے مفاہمت کرلی تھی‘ جس طرح حال ہی میں انہوں نے عارضی ایرانی صدر محمد مخبر کی دعوت پر دورہ ایران کو قبول کرلیا تھا‘ اسی طرح انہوں نے الامام الشیخ ماہر بن حمد المعیقلی کو خطبہ حج ارشاد کرنے کا فریضہ سونپ کر دنیا کو حیران کر دیا ہے کیونکہ امام ماہر بن حمد المعیقلی رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد بن عیسیٰ کی طرح کے بہت زیادہ جدید معاصرانہ افکار کی بجائے خاصے متوازن‘ معتدل‘ تدبر و فراست پر مبنی افکار ‘ آنکھ‘ کان‘ دماغ رکھتے ہیں۔ آپ مجھ سے سوال کرسکتے ہیں کہ میں امام ماہر بن حمد المعیقلی کے بارے میں یہ سب کچھ کس بنیاد پر لکھ رہا ہوں؟
شاہ عبد اللہ کا آخری عہد تھا‘ شائد 2012ء کہ اسلام آباد سے شاہ عبد اللہ کی دعوت پر الدعوۃ و الارشاد وزارت سعودیہ نے چند اہل علم‘ اہل دانش ‘ اہل قلم‘ مفتیان کو ‘ علماء و شیوخ کو عمرہ کی سعادت کے حوالے سے مدعو کیا تھا ان میں یہ خاکسار بھی شامل تھا۔ ہمیں عمرہ کی ادائیگی کے بعد امام کعبہ سے ملنا تھا۔ مغرب کی نماز پڑھ چکے ‘ جس کی امامت القاری الشیخ ماہر بن حمد المعیقلی نے کروائی تھی۔ خاکسار ان کی تلاوت اور حسن قرات سے بہت متاثر ہوتا رہا تھا۔ انہی امام کعبہ سے ہمارے وفد کی ملاقات نماز مغرب سے نماز عشاء تک مسجد حرام میں واقع ایک حجرے میں ہوئی تھی۔
امام کعبہ امام ماہر نے سب سے پہلے دو رکعت سنت ادا کرنے کی اجازت طلب کی ‘ بعد میں انہوں نے اپنا تعارف کروایا‘ نام بتایا کہ ان کا تعلق جامعہ ام القریٰ سے بھی ہے۔ وہ امام کعبہ بھی ہیں انہوں نے جامعہ ام القریٰ سے فقہہ امام شافعی میں اپنی پی ایچ ڈی کی تعلیم کے بارے میں بھی بتایا۔ یاد رہے امام شافعی کا تعلق مکہ مکرمہ سے تھا اور ان کے پیروکاروں کی تعداد حجاز کی طرح یمن میں بھی بہت زیادہ ہے۔ آج بھی شوافع اہل سنت یمن میں اکثریت رکھتے ہیں جبکہ حوثی محض ایک قبیلہ ہے جبکہ زیدی فقہہ والے جو اہل سنت و الجماعت سے بہت قریب تر ہیں اور جنہیں ماضی بعید میں اثنا عشری مجتہدین شیعہ ہی نہیں مانا کرتے تھے‘ یہ زیدی فقہہ والے شائد20 فیصد یمن میں ہوں گے۔ یمن میں زیدی بادشاہت رہی ہے جنہیں شوافع اہل سنت عوام کی حمایت بھی حاصل تھی۔ 1962 ء میں البتہ یمن سرحدوں پر مسئلہ ہوا اور پھر سوویت یونین آف رشیاء نے جنرل جمال عبدالناصر کی وساطت سے ‘ جنرل عبد اللہ السلال کے ذریعے بغاوت کرکے مصر کی طرح‘ شام کی طرح‘ لیبیا کی طرح‘ عراق کی طرح‘ سرخ کمیونسٹ یمن قائم کیا تھا‘ یہ شاہ فیصل کا زمانہ تھا‘ یمن کے حوالے سے فی الحال اتنا ہی کافی ہے۔ 1962 ء ہی میں جنرل ایوب کے زمانے میں سعودی پاک عسکری تعلقات کا قیام اور پاکستان نے سعودیہ کی یمن سرحدوں کے حوالے سے خاصی مدد بھی کی تھی۔1962 ء سے ہی ایران نے بھی یمن میں دلچسپی لینا شروع کی تھی۔
ہم میں سے ہر ایک نے بھی امام ماہر سے اپنا تعارف کروایا۔ میں نے اپنا تعارف بطور کالم نگار وقف حرمین شریفین و آل سعود کے طور پر کروایا اس کے بعد اظہار تشکر کے طور پر بیت اللہ‘ حجر اسود‘ دروازہ مبارک‘ پوری دیوار کو ٹکٹی باندھے دیکھ کر مبہوت سا ہوگیا۔ گویا میں اب مجلس میں ذہنی طور پر موجود نہیں بلکہ بیت اللہ کے ساتھ وابستہ ہوچکا ہوں جبکہ دوسری طرف مجھ سے امام ماہر مخاطب تھے ‘ محی الدین ‘ محی الدین ‘ مفتی محمد زبیر کراچی والے نے مجھے ہاتھ سے پکڑ کر متوجہ کیا کہ امام کعبہ آپ سے ہمکلام ہیں۔ وہ مجھے دیکھ کر مسکرا رہے تھے اور میری کالم نگاری میں خیروبرکت کی دعا دے رہے تھے اور میری آنکھوں میں آنسو تھے۔شخصی تعارف کے بعد امام ماہر بن حمد نے ہمیں مختصر سا خطاب کیا کہ آج اسلام کو ‘ مسلمانوں بلکہ پورے عالم اسلام کو عہد فتنہ درپیش ہے۔ وہی عہد ابتلاء‘ عہد آزمائش‘ عہد مصائب و آلام و مسائل جو آپﷺ‘ صحابہ کرامؓ‘ اسلام کو مکہ مکرمہ کی نبوی حیثیت‘ وجود کو درپیش تھا۔ مکمل عہد ابتلاء‘ مکمل عہد فتنہ‘ مکمل بائیکاٹ کی مشکلات شعب ابی طالب میں مقید‘ محصور ہونے کی طرح… اس کا مقابلہ ‘ مزاحمت‘ تشدد‘ جنگ و جدل سے نہیں کرنا۔ بالکل غیر مسلح انداز میں ‘ عدم جہاد و عدم قتال سے‘ عدم تشدد سے کرنا ہے۔ صبر سے ‘ استقلال سے ‘ عزیمت سے ‘ یہ وقت فتنہ و آزمائش گزارنا ہے۔ یہی پیغام تھا ان کا ہمارے وفد کے ذریعے اہل پاکستان کو‘ مسلمانوں کو‘ عالم اسلام کو‘ واپسی پر میں نے اس حوالے سے کالم بھی لکھا تھا اور ان کی تلاوت قرآن کا سیٹ بھی لے آیا تھا جو اکثر زیر سماعت رہتا تھا۔
جب شیوخ‘ علماء کے حوالے سے خبریں آتی رہیں۔ کچھ غمزدہ کرتی خبریں‘ کچھ افواہیں ‘ بھی۔ میری نظر بار بار امام الشیخ القاری ماہر بن حمد المعیقلی کی طرف جاتی رہیں کہ وہ شاہ سلمان عہد کو‘ ولی عہد مقرن‘ ولی عہد محمد بن نایف سے ولی عہد محمد بن سلمان کی طرف انتقال اقتدار کے مراحل میں کیا کرتے ہیں؟ واللہ ‘ انہوں نے وہی کچھ کیا جس کا سبق ہمیں بیت اللہ سے متصل مسجد الحرام کے حجرے میں ہونے والی ملاقات میں پڑھایا تھا‘ اب انہیں امام حج مقرر ہونے پر طبیعت ماشاء اللہ بہت مسرور ہے۔ کیاMBS علماء وشیوخ کی طرف مراجعت کررہے ہیں؟ میں تو ایسا ہی سمجھتا ہوں۔ کئی کالموں میں درخواست کرتا رہا ہوں کہ دنیا تبدیل ہوگئی ہے۔ غزہ‘ لہولہان غزہ۔ فلسطین۔ حماس کے معاملات نے سعودیہ کے لئے ‘ عالم اسلام کے لئے‘MBS کے لئے‘ پاکستان کے لئے بہت کچھ تبدیل کر دیا ہے لہٰذاMBS معتدل‘ متوازن‘ متوسط سوچ و فکر کے شیوخ و علماء سے رابطے بحال کریں۔ امام ماہر بن حمد المعیقلی کو خطبہ حج کی ذمہ داری ملنا انشاء اللہ خیر کا راستہ بنے گی۔