Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

شیخ العرب والعجم شاہ حکیم محمد اختر نور اللہ مرقدہ

2 جون2013 ء شیخ العرب و العجم عالم ربانی عارف باللہ حضرت والا مولانا شاہ حکیم محمد اختر نور اللہ مرقدہ کا یوم وصال ہے۔حضرت والا کو ہم سے بچھڑے گیارہ برس مکمل ہونے کو ہیں،لیکن قدم قدم پر آج بھی ان کی یاد ستاتی ہے‘ وہ مصلح امت،اور دلوں کو پاکیزگی بخشنے والے مرد قلندر تھے۔1990 ء سے لے کر جون 2013 ء تک اس خاکسار کو متعدد مرتبہ ان کی پاکیزہ مجالس میں شرکت کا موقع ملا‘ حضرت والا کی شفقتیں اور دعائیں اس خاکسار کا وہ خصوصی سرمایہ اور قیمتی اثاثہ ہیں،جس پر تحدیث بالنعمت کے طور پر ہمیشہ ناز رہے گا‘ حضرت شاہ حکیم محمد اختر نور اللہ مرقدہ دنیا میں’’بد نظری‘‘کے سب سے کامیاب معالج اور گمراہی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں بھٹکنے والوں کو روشنی کے نورانی جزیروں پر پہچانے والے تھے۔ آپ پاکستان بنانے کی تحریک کے ابتدائی معماروں میں شامل تھے‘ حضرت والا نے تمام اسلامی و جہادی تحریکوں کی سرپرستی فرمائی‘ ان کے وصال کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہم یتیم ہو گئے۔
اٹھا سائبان شفقت، بڑی تیز دھوپ دیکھی
نہیں دور دور چھائوں،کہاں اپنا سر چھپائیں؟
حضرت مولانا محمد شاہ حکیم اختر 1923 ء کو پرتاب گڑھ صوبہ یوپی میں محمد حسین رحمہ اللہ تعالیٰ کے گھر پیدا ہوئے‘آپ نے ابتدائی تعلیم پرتاب گڑھ میں ہی حاصل کی‘ آپ نے اسٹیٹ یونانی میڈیکل کالج الہ آباد سے طب یونانی کی تعلیم حاصل کی اور 1944 ء میں فارغ التحصیل ہوئے۔ آپ نے مدرسہ بیت العلوم سرائے میر سے درس نظامی کی تکمیل کی‘ آپ 1955 ء میں ہندوستان سے ہجرت کرکے کراچی تشریف لے آئے‘ آپ نے کراچی میں جامعہ اشرف المدارس کے نام سے ایک مدرسہ قائم فرمایا،جو اہل علم کی توجہات،تعلیم و تربیت اور تزکیہ نفوس کا ایک بڑا مرکز ثابت ہوا۔حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر کو طبی تعلیم مکمل کرنے کے بعد سب سے پہلے حضرت مولانا محمد احمد پر تاب گڑھی رحمہ اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق جوڑا‘ ان کے فیضان نظر سے حضرت والا کی ارشادی خصوصیت میں مزید اضافہ ہوا‘ اسی دوران انہوں نے شرح مثنوی لکھنی شروع کی‘ پھر حضرت مولانا عبد الغنی پھول پوری رحمہ اللہ تعالیٰ کی صحبت میں رہ کر خوب مجاہدے کئے اور 17 سال تک ان کی بے لوث خدمت کی‘ حضرت مولانا عبد الغنی پھول پوری رحمہ اللہ تعالیٰ کی رحلت کے بعد حضرت والا نے حضرت مولانا ابرار الحق ہردوئی رحمہ اللہ تعالیٰ سے اپنا اصلاحی تعلق قائم کیا‘ ان کی تربیت سے معرفت کا اونچا مقام حاصل کیا اور پھر ان سے اجازت و خلافت سے سرفراز ہوئے۔
حضرت والا ایک اچھے شاعر بھی تھے اور اپنی شاعری کو دینی جذبے کی تقویت کے لئے استعمال فرمایا کرتے تھے‘ آپ فرماتے تھے کہ شاعری میں میرا کوئی استاد نہیں ہے‘ جو کیفیت میں محسوس کرتا ہوں،اس متعلق خود ہی اشعار بن جاتے ہیں‘ حضرت والا الاختر ٹرسٹ کے بانی بھی تھے‘ الاختر ٹرسٹ ایک رفاہی ادارہ تھا،جو معاشرے کے نادر افراد کی کفالت اور معذور و بے سہارا لوگوں کی مدد کے لئے مصروف عمل رہا‘ الاختر ٹرسٹ کی وسیع تر محنت کو نہ صرف یہ کہ عوامی حلقوں میں سراہا جاتا تھا بلکہ حکومتی شخصیات اور بین الاقوامی ادارے بھی اس کے معترف تھے‘ 2005 ء میں آزاد کشمیر اور ہزارہ میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد الاختر ٹرسٹ کی رفاہی جدوجہد اور متاثرین زلزلہ کی آباد کاری کے لئے اس کی محنت کو پوری دنیا نے دیکھا‘ لیکن چونکہ الاختر ٹرسٹ قرآن و سنت کے احکام و تعلیمات کے دائرے میں مصروف عمل تھا،اس لئے سیکولر اور بین الاقوامی حلقوں کو ہمیشہ اس کی سرگرمیوں پر اعتراض رہا‘ چونکہ الاختر ٹرسٹ پر مذہبی چھاپ تھی اور اس کی موجودگی میں فلاحی اور رفاہی سرگرمیوں کے نام پر وطن عزیز پاکستان میں فحاشی، عریانیت اور لادینیت پھیلانے کی کوشش کرنے والی ملکی و غیر ملکی این جی اوز کو اپنے مقاصد میں کامیابی حاصل نہیں ہو رہی تھی،چنانچہ اسی لئے الاختر ٹرسٹ کو راستے سے ہٹانے کے لئے اس پر پابندی کو ضروری سمجھا گیا‘ چنانچہ یہودیوں اور امریکہ کے ایما پر اقوام متحدہ نے الاختر ٹرسٹ پر پابندی کی قرارداد منظور کی‘ جس کے بعد حکومت پاکستان نے الاختر ٹرسٹ کو کالعدم قرار دے کر ملک بھر میں اس کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی‘ اس کے بینک اکائونٹس سمیت تمام اثاثے منجمد کر دیئے‘ اس تمام تر صورتحال کے باوجود حضرت والا نے علم حق کو بلند رکھا اور وطن عزیز پاکستان سمیت پورے عالم اسلام کو اپنا فیض پہنچاتے رہے‘ سچی بات ہے کہ حضرت والا کا وجود ایک گھنے،سایہ دار درخت کی طرح تھا‘ جس کے سائے تلے بہت سارے لوگوں نے اپنا تھوڑا یا زیادہ وقت بڑے آرام اور اطمینان کے ساتھ گزارا‘ آپ کی خانقاہ میں ذکر و فکر کی مجالس،علمی اور روحانی بیانات اور شریعت اور طریقت کے اسباق جس طرح پڑھائے جاتے تھے،اس سے قرونِ اولی کے بزرگوں کی یاد تازہ ہو جاتی تھی‘ پتھر دل موم بن جاتے تھے‘ حضرت والا توحید و سنت کے علمبردار تھے اور شرک و بدعات کی بیخ کنی کے لئے تیغ بے نیام تھے‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی ذات میں عاجزی، انکساری، تواضع،حلم و بردباری، تقوی، طہارت، اخلاص اور للہیت کی صفات کو کوٹ کوٹ کر بھر دیا تھا‘ حضرت والا حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی بھی بھرپور پاسداری فرماتے تھے۔
حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر رحمہ اللہ تعالی کا وصال عیسوی اعتبار سے 2 جون 2013 ء کو ہوا‘ اس سے یہ مغالطہ نہ ہو کہ 2 جون چونکہ اتوار کو تھا اس لئے وصال اتوار کو ہوا‘ ہجری تاریخ کے اعتبار سے حضرت والا کا انتقال 22 رجب 1434 ہجری کو بعد نماز مغرب ہوا تھا،جو کہ پیر کا دن تھا‘حضرت والا کے فرزند ارجمند و جانشین حکیم الامہ حضرت مولانا محمد مظہر دامت برکاتہم نے بتایا کہ حضرت والا نے یہ تمنا ظاہر فرمائی تھی کہ ان کا انتقال پیر کے دن ہو‘ کیونکہ حضور سرور دو عالمﷺ کی وفات بھی پیر کے دن ہوئی تھی‘ اس کے بعد علالت کے آخری دنوں میں جب ذرہ ہوش آیا تو پوچھا کہ آج کون سا دن ہے؟جواب ملا کہ بدھ ہے تو خاموش ہو گئے۔پھر دو دن بعد پوچھا تو بتایا گیا کہ جمعہ ہے تو پھر خاموش ہو گئے۔بظاہر وہ پیر کے دن کے انتظار میں تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ تمنا اس طرح پوری فرمائی کہ ان کا انتقال اتوار اور پیر کی درمیانی شب ہوا۔

یہ بھی پڑھیں