Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

نوائے حق ، قادیانیوں کے متعلق فیصلہ پر ملی مجلس شرعی کا موقف

(گزشتہ سے پیوستہ)
آئین و قانون میں تبدیلی کی ضرورت
i۔ ہم سمجھتے ہیں کہ علماء کرام اور عوام نے تحریک چلا کر 1974ء میں پارلیمنٹ سے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دلوایا۔ پھر تجربے نے ثابت کیا کہ قادیانیوں نے اس فیصلے کو قبول نہیں کیا اور وہ مسلسل خود کو اصلی مسلمان ظاہر کرتے اور مسلمانوں کو قادیانی بنانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اس بنا پر علماء کے مطالبے پر جنرل ضیاء الحق کو امتناعِ قادیانیت آرڈیننس 1984ء میں پاس کرنا پڑا ۔ اور 295B میں قادیانیوں کو مسلمانوں کی بعض اصطلاحات اور شعائر کا نام لے کر ذکر کرنا پڑا کہ وہ انہیں استعمال نہیں کر سکتے۔ اس کے باوجود ہمارا تجربہ یہ ہے کہ قادیانی بدستور التباس پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، لہٰذا ایسے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ کچھ چیزوں کے نام لے کر ان کا ذکر کرنے کی ضرورت ہے کہ قادیانیوں کو ان کے استعمال سے روک دیا جائے جن کی فہرست ہم یہاں دے رہے ہیں۔
ii۔ آئین میں تبدیلی کی ضرورت اس لیے بھی ہے کہ چیف جسٹس صاحب اور ان کی طرح کے کئی لوگ سمجھتے ہیں کہ قادیانیوں کے خلاف جو قانون سازی کی گئی ہے وہ اقوام متحدہ کے بنیادی حقوق کے چارٹر اور آئین پاکستان میں مذکور بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔
اس بات سے اگر صرفِ نظر بھی کر لیا جائے کہ آئینِ پاکستان میں دیے گئے بنیادی حقوق مغربی ممالک اور اقوام متحدہ کے بنیادی حقوق سے لیے گئے ہیں اور ان میں سے کئی قرآن و سنت کے خلاف ہیں، ہم کہتے ہیں کہ اس التباس سے بچنے کی موزوں صورت یہ ہے کہ آئین کے متعلقہ بنیادی حقوق میں جہاں شہری آزادیوں کا ذکر ہے، وہاں اسے قادیانیوں سے متعلق قوانین سے مشروط کر دیا جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے، اور ہم کہتے ہیں کہ یہ وجہ بہت اہم ہے، اور وہ یہ ہے کہ قادیانیوں کا مسئلہ غیر مسلموں (ہندوؤں اور عیسائیوں) جیسا نہیں ہے بلکہ وہ مرتد (اور اولادِ مرتد) ہیں اور انہوں نے اسلام ترک کیا ہے۔ لہٰذا ان پر ایسی پابندیوں کا اطلاق تقاضائے انصاف ہے جن سے وہ خود کو مسلمان نہ ظاہر کر سکیں اور انہیں مسلمانوں کو قادیانی بنانے کی اجازت نہ ہو۔
اس لیے ہم چیف جسٹس صاحب سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ حکومت کو آئین میں مذکورہ آئینی تبدیلی کے علاوہ 295B میں مندرجہ ذیل امور کو قانون میں شامل کرنے کی تجویز دیں:
۱۔ ’’احمدیوں‘‘ کو ’قادیانی غیر مسلم‘ اور ’لاہوری غیر مسلم‘ کہا جائے اور انہیں ’احمدی‘ نہ کہا جائے، کیونکہ احمدی اور محمدی تو عام مسلمان ہیں۔
۲۔ شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ رکھا جائے اور اس میں انہیں ’قادیانی غیر مسلم‘ اور ’لاہوری غیر مسلم‘ لکھا جائے۔
۳۔ قادیانی اور لاہوری غیر مسلموں کو مسلمانوں جیسے نام رکھنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
۴۔ وہ قرآن کو اپنی مذہبی کتاب نہیں کہہ سکتے اور نہ اس کی طباعت و اشاعت و تدریس کر سکتے ہیں کیونکہ یہ مسلمانوں کی مقدس مذہبی کتاب ہے نہ کہ ان کی۔ یہی معاملہ کتبِ حدیث کے ساتھ بھی ہونا چاہیے۔
۵۔ ان کے مرد و خواتین کا لباس اور ان کی وضع قطع (داڑھی ٹوپی وغیرہ) مخصوص ہونی چاہیے اور عام مسلمانوں جیسی نہیں ہونی چاہیے جیسا کہ عہدِ صحابہ میں تھا اور حضرت عمرؓ نے اس کا حکم دیا تھا۔
۶۔ وہ اسلام کے کسی رکن مثلاً‌ صلاۃ، صوم، زکوٰۃ، حج اور جمعہ، عیدین، قربانی کو اپنی عبادت کے طور پر اختیار نہیں کر سکتے۔
۷۔ وہ اسلام کی اصطلاحات، شعائر، اسماء اور کسی بھی ایسے امر/رسم کو اختیار اور استعمال نہیں کر سکتے جس سے وہ یہ التباس پیدا کر سکیں کہ وہ مسلمان ہیں، اور نہ انہیں کسی بھی شکل میں خود کو مسلمان کہلانے کی اجازت ہو۔ یہ اس لیے ضروری ہے جیسا کہ ہم نے پہلے کہا کہ وہ عام کفار یعنی ہندوؤں، عیسائیوں کی طرح نہیں ہیں بلکہ وہ مرتد ہیں اور ترکِ اسلام کے مجرم ہیں، لہٰذا ان کا مسلمانوں سے اور ان کے شعائر، مقدسات، عبادات، اصطلاحات، رسوم و رواج سے الگ اور متمیز ہونا ضروری ہے، تاکہ ان کی الگ شناخت ممکن ہو سکے۔

یہ بھی پڑھیں