بدنام زمانہ ٹرانس جینڈر ایکٹ کے خلاف کراچی کے علماء و مشائخ کا متحرک ہونا قابل ستائش ہے، پیر کے دن مقامی ہوٹل میں منعقدہ علماء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وفاق المدارس پاکستان کے سربراہ دارالعلوم کراچی کے مہتمم شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ ’’ٹرانس جینڈر ایکٹ کے حوالے سے علماء کو دھوکے میں رکھا گیا، قوم کو اس وقت بڑے فتنے کا شکار بنایا جارہا ہے،ٹرانس جینڈر ایکٹ کے فتنے کے خلاف جدوجہد کرنے والوں کی مکمل حمایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ حکمران ٹرانس جینڈر ایکٹ کے لئے کھولے جانے والے چور راستوں کو بند کر دیں، مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ہم اس موضوع پر کسی پروگرام میں یا کسی جلسے کی صورت میں بیٹھ کر بات کریں گے، ٹرانس جینڈر ایکٹ کی منظوری کے لئے دھوکا دہی سے کام لیا گیا، انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اور ادارے ایسے اقدامات کی روک تھام میں کردار ادا کریں، علماء کرام بھی اس حوالے سے عوام کو آگاہی فراہم کرنے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں۔
علماء و مشائخ کراچی کے تحت ٹرانس جینڈر ایکٹ کے خلاف ہونے والا علماء کنونشن بڑا مبارک ہے، مگر اس خاکسار کی رائے میں بات صرف ایک پنج ستارہ ہوٹل کے کنونشن تک محدود رکھنے سے بھی یہ مسئلہ حل ہونے والا نہیں ہے، بدنام زمانہ ٹرانس جینڈر ایکٹ کو دھوکا دے کر منظور کروانے والے مکروہ کرداروں کے خلاف سب سے پہلے تمام مسالک کے مفتیان عظام کا ایک متفقہ فتویٰ آنا بھی ضروری ہے اور پھر اس متفقہ فتوے کی روشنی میں ٹرانس جینڈر ایکٹ کی غلاظتوں وار ذلالتوں سے قوم کو آگاہی فراہم کرنے کے لئے مسجد ٹو مسجد پروگرام کروانا نہایت ضروری ہے، یاد رہے کہ بدنام زمانہ ٹرانس جینڈر ایکٹ کے پیچھے عالمی صہیونی، صلیبی اسٹیبلشمنٹ کے علاوہ پاکستان کی حکومتی مشینری کی پوری طاقت موجود ہے، پاکستان میں بے حیائی، عریانی و فحاشی کے سمندر میں جو طوفان برپا ہے، یہ ایسے ہی نہیں ہے، اس میں ڈالر، پائونڈز، آئی ایم ایف کے پیکجز اور نجانے کیا کیا انوالو ہے، ہمارے سیاست دانوں، حکومتوں اور اسٹیبلشمنٹ کا بھی اول و آخر واحد مقصد زیادہ سے زیادہ ڈالروں کا حصول ہے، اس لئے ان کے نزدیک ٹرانس جینڈر جیسے غلیظ اور مکروہ ’’ایکٹ‘‘ معمول کی بات ہے۔
روزنامہ اوصاف پاکستان کا واحد قومی اخبار ہے کہ جس کے ادارئیے اور یہ خاکسار اپنے کالموں کے ذریعے گزشتہ دو دہائیوں سے پاکستان میں بڑھتی ہوئی فحاشی و عریانی اور اس کے نقصانات کے حوالے سے عوام کو آگاہی فراہم کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ قاضی حسین احمد مرحوم اور جسٹس(ر) وجیہہ الدین کی جانب سے 2012ء میں سپریم کورٹ میں پاکستان میں بڑھتی ہوئی فحاشی کے خلاف دائر کی گئی ایک پٹیشن پر سپریم کورٹ نے پی ٹی اے کو حکم دیا تھا کہ وہ ایسی تمام ویب سائیٹس کو پاکستان میں بلاک، ان کے لنکس کو ڈائون کر دے جن ویب سائیٹس پر پورن اور فحش مواد کی تشہیر کی جارہی ہے، سپریم کورٹ کے اس حکم کے آج بارہ سال بعد کیا کوئی حکومتی یا عدالتی ’’ارسطو‘‘ بتا سکتا ہے کہ پی ٹی اے نے 2012ء میں سپریم کورٹ کے دئیے جانے والے حکم کی کس قدر تعمیل کی؟ کیا 2012ء کے مقابلے میں آج جون 2024ء میں فحاشی و عریانی بے حیائی، بے غیرتی اور ننگے پن میں سو فیصد اضافہ نہیں ہوچکا، بلکہ اب تو ہم جنس پرستی کی کالک بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے منہ پر تھوپنے کی کوششیں عروج پر پہنچ چکی ہیں، شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی ہوں یا کراچی کے علماء و مشائخ، بڑی معذرت کے ساتھ یہ بات لکھنے پر میں اپنے آپ کو مجبور پاتا ہوں، فحاشی و عریانی، بے حیائی و بے غیرتی اور ٹرانس جینڈر جیسے غلیظ ایکٹ کا راستہ، اب ’’ہومیو پیتھک‘‘ قسم کے سیمیناروں، میٹھی، میٹھی تقریروں، درخواست ٹائپ تحریروں اور جھکی آنکھوں سے کئے جانے والے مطالبوں سے نہیں روکا جاسکتا، جن غلاظتوں کے پیچھے حکومتی مشینری اور اس کے پیچھے آئی ایم ایف سے ڈالروں کے حصول کا لالچ ہو، ان غلاظتوں سے بچنے اور نئی نسل کو بچانے کے لئے پوری جرات و بہادری کے ساتھ میدان میں آنا پڑے گا۔
میرا صحافتی تجزیہ یہ ہے کہ ملک کو فحاشی و عریانی کے سمندر میں ڈبونے والے تمام ’’ٹولز‘‘ کو کھل کھیلنے کے لئے راستے کھول دئیے گئے ہیں، کیا علماء و مشائخ یہ بات نہیں جانتے کہ سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں گرلز فرینڈ، بوائے فرینڈ کے کلچر کو پروان چڑھایا جارہا ہے، کیا علماء و مشائخ، اس بات سے ناواقف ہیں کہ کراچی رضویہ سے یہودیوں کی خفیہ تنظیم ’’الومیناٹی‘‘ کا ایک کارندہ پکڑا گیا ہے، جو تین سو اور دو، دو سو ڈالروں کے عوض، اپنی بیوی اور بیٹیوں کی غیر اخلاقی ویڈیوز بنا کر انہیں بھیجا کرتا تھا، یہ خاکسار اس یہودی تنظیم کے خلاف سندھ ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کر چکا ہے، جس ملک میں یہودی تنظیم ’’الومیناٹی‘‘ فحاشی و عریانی اور گستاخانہ فتنے کی پشت پناہی کر رہی ہو، اس ملک کے مخلص دانشوروں، اینکروں، اینکرئیوں، کالم نگاروں، وکیلوں، علماء و مشائخ، تاجروں اور عوام الناس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ غفلت کی چادر اتار کر ان ’’فتنہ گروں‘‘ کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کے لئے اتنا مضبوط اور بلند آہنگ احتجاج کریں کہ ٹرانس جینڈر ایکٹ کو دھوکے سے منظور کرنے والوں کا پتہ پانی ہو جائے، ہم جنس پرست ٹولے نے پاکستان پر جس انداز میں یلغار کی ہے، صاف نظر آرہا ہے کہ پچھلی حکومت ہو یا موجودہ شہباز، زرداری حکومت یہ ہم جنس پرستوں کے سامنے سرنڈر ہوچکی ہے مگر علماء و مشائخ نے تو نئی نسل کے کروڑوں بچوں اور بچیوں کے اخلاق و کردار کو ہر قیمت پر بچانا ہے، بے حیائی، فحاشی، فحش گوئی اور ہم جنس پرستی کے فتنے کا راستہ روکنے کے لئے ’’ہومیو پیتھک‘‘ طریقہ علاج کو ترک کرکے سخت ترین جدوجہد یعنی جہادی طریقہ علاج کو اختیار کرنا پڑے گا۔