Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

دوسروں سے پیچھے کیوں ہیں ہم

خود احتسابی کامیابی کی جانب پہلا قدم ہے۔ یہ ایک ایسی مشق ہے جو ذہن کی تطہیر اور تصیح کر تی ہے۔عالم لاشعور میں ہوئی خطائوں کی نشاندہی کر تی ہے ۔ شعوری طور پر غلط رستے پر چلنے سے روکتی ہے ۔ آپ کی ذات تجزیہ اور تنقید کی چھاننی سے گزرتی ہے ۔ یوں آپ کی خوبیاں اور خامیاں الگ الگ ہو جاتی ہیں ۔ اس طرح انسان آسانی سے اپنی عادت اور ذہنی کیفیت کو صحیح پیرائے میں پرکھ سکتا ہے ۔ یوں اس کی سوچ اور شخصیت میں انقلابی تغیر آتا ہے۔ تنگ نظری وسیع النظری میں بدل جاتی ہے ۔ قدامت پسندی رجعت پسندی میں بدل جاتی ہے ۔ منفی سوچ پہ مثبت رنگ اور اثر چڑھ جاتا ہے ۔ زاویہ فکر زندگی اور دنیا کو مختلف دکھاتا ہے ۔سچ اور جھوٹ میں تمیز کرنا آسان ہو جاتا ہے ۔ انسان کی سینس آف ججمنٹ درست ہو جاتی ہے ۔ انسان حقیقت پسند ہوجاتا ہے ۔ مزاج میں ٹھہرائو اور توازن آجاتا ہے ۔ قول و فعل میں تضاد کم ہو جاتا ہے ۔ بات میں مقصدیت ، وزن اور منطق کی تاثیر بھر جاتی ہے ۔ دوراندیشی، دانش اور محنت سے ہر طرح کے مسائل کو حل کرنے کی ترکیب ڈھونڈ لیتا ہے ۔ انا اور اکڑحصول مقصد کی سعی میں رکاوٹ نہیں بنتی ۔ بہتر اقتصادی حالت کیلئے کسی بھی کام میں عار محسوس نہیں کرتا ۔ کیونکہ اسے سمجھ آگئی ہے کہ ترقی یافتہ قوموں نے محنت کو عظمت جانا ہے ۔ جو حصول روزگار کے لئے کسی کام کو گھٹیا نہیں سمجھتے سوائے وہ جواخلاقیات سے ماورا ہوں ۔ بالا تمہید کی روشنی میں چلیں بحیثیت قوم اپنا احتساب کرتے ہیں ۔ پھر دیکھتے ہیں کن وجوہات کے سبب بہترین وسائل اور صلاحیتوں کے باوجود ترقی کی راہ میں ہم پیچھے رہ گئے ہیں۔ مشاہدے کا نچوڑ ہے کہ ہم نے محنت سے بالکل ہاتھ کھینچ رکھا ہے ۔جس کے باعث زراعت اور نہ صنعت میں ترقی کر سکے ہیں۔ پل میں امیر ہونے کی تڑپ شارٹ کٹ کی طرف کھینچ رہی ہے ۔ ڈالر اور یورو کی چمک بیرون ملک کھینچ رہی ہے ۔ کئی کئی سال ویزے کے انتظار میں بے کار زندگی گزار دیتے ہیں ۔ روشن مستقبل کے لئے روائتی اور نہ تکنیکی تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔خاندان کے اخراجاتی بوجھ میں اضافی بٹہ بنے رہتے ہیں ۔ نتیجتاً کمانے والے کم اور کھانے والے زیادہ ہوتے ہیں۔ جبکہ ترقی یافتہ ملکوں میں اس کے برعکس ہوتا ہے ۔ وہاں ہر بالغ اور عاقل کسب روزگار کرتاہے۔ کوئی فضول وقت کا ضیاع نہیں کرتا ۔ ہمارے ہاں وقت کا ضیاع اور ناقدری محبوب مشغلہ بن چکا ہے ۔صبح دیر سے اٹھتے ہیں اور رات دیر تک جاگتے ہیں ۔توانائی کے بحران کے باوجود بے جا تصرف کرتے ہیں ۔ کاہلی اور تنگ نظری کمبل کی طرح ہم سے لپٹی ہوئی ہے ۔ ہمیں دوسروں سے کام کروانے کی عادت ہے ۔ چھوٹے چھوٹے گھر کے کاموں کے لئے خدمتگار رکھنے کی لت پال رکھی ہے ۔ ترقی کی بلندیوں پہ پہنچی قوموں میں ایسا تصور تک نہیں وہاں تو واش روم کی صفائی سے لے کر کھانا پکوائی تک خود کرنے کا رواج ہے ۔ ملازم یا ملازمہ والی عیاشی ادھر بلکل نہیں ۔ یہ ایک فطری امر ہے کہ جو اپنے ہاتھ سے کام کرنے کے عادی ہوتے ہیں ان میں جھوٹی انا اور نفسیاتی کمپلیکس نہیں ہوتا ۔ جبکہ ہمارے ہاں جھوٹی انا اور پھوں پھاں کوعلامت عظمت سمجھ رکھا ہے ۔بھوکے مر جائیں گے لیکن چھوٹے لیول پہ کاروبار نہیں کریں ۔ان کے اذہان میں ٹھہر گیا ہے کہ ٹائر پنکچر لگانا، ریڑھی لگانا ، ٹیکسی چلانا ، سبزی فروٹ بیچنا ، راج مستری کا کام ، آٹو ورکشاپ میں کام ، کارخانوں میں مزدوری ، چوکیدار ، چپڑاسی اور بہت سارے ایسے کام ان کے شایان شان نہیں لہٰذا وہ ان سے گریز کرتے ہیں۔ اس نفسیاتی کمپلیکس کے سبب کئی کئی سال وہ نکمے گزار دیتے ہیں ۔ ذاتی کے ساتھ قومی معیشت کو بھی کمزور کرتے رہتے ہیں ۔ نکما پن بہت سارے مالی و نفسیاتی خرابیوں کے ساتھ احساس ذمہ داری بھی چھین لیتا ہے ۔ جب ایسی بیماری معاشرے کی اکثریت کو لگ جائے تو اس پہ جمود طاری ہو جاتا ہے ۔ ترقی اور خوشحالی کے راستے بلاک ہو جاتے ہیں ۔آپ اپنے معاشرے کا بغور مطالعہ کریں اور جائزہ لیں تو آپ کو متذکرہ بالا سب خامیاں نظر آئیں گی ۔ جن میں سب سے نمایاں اورحاوی احساس کمتری یا برتری ہے ۔ یہ وہ فیکٹر ہے جو ہماری معاشی حالت کو سدھرنے نہیں دے رہا ۔ جب کہ خوشحال قومیں ایسی بیماریوں سے بچ کر عروج کو پہنچی ہیں ۔
کچھ عرصہ قبل میں آسٹریلیا گیا ۔ تین ماہ کے قیام کے دوران بہت کچھ دیکھنے اور سیکھنے کو ملا۔ گریٹ اوشن روڈ ، ملبورن، کینبرا ، برسبین، گولڈ کوسٹ اور آرماڈیل جیسے علاقوں میں جانے کا اتفاق ہوا ۔ اس کے علاوہ بہت سارے دورافتادہ مقامات کو بھی قریب سے دیکھا ۔ ہر طرف ترقی اور خوشحالی کے پھول کھلے نظر آئے ۔ قدرتی حسن کے ساتھ انسانی تخلیقات کے رنگ بھی قابل دید تھے۔ رشک سے مغلوب ذہن پر وطن عزیز کا نقشہ بار بار ابھر آتا تھا ۔ آخر ہم ترقی اور خوشحالی کے اس مقام تک کیوں نہیں پہنچے۔ ہمارے پاس بہترین افرادی قوت ہے ۔ اعلی ذہن اور ہر طرح کے قدرتی وسائل کی بہتات ہے ۔ سوچ بچار کے بعد دو بڑی وجوہات کی سمجھ آئی ہے نفسیاتی کمپلیکس(احساس برتری و کمتری ) اور وقت کی ناقدری ۔ سب سے زیادہ نقصان ہمیں نفسیاتی کمپلیکس نے پہنچایا ہے ۔صرف نکما اور بے روزگار ہی نہیں بنایا بلکہ باہمی جذبہ اخوت اور مساوات کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے ۔ ترقی یافتہ ملکوں میں بندہ کتنا ہی امیر کیوں نہ ہو ، جب پٹرول پمپ پہ جائے گا تو گاڑی سے اتر کر خود پٹرول بھرے گا ۔ ہماری طرح کسی چھوٹے کو اس کام کے لئے نہیں پکارے گا ۔ پارک یا عوامی جگہ پر بکھرے کچرے کو اٹھا کر کوڑا دان میں بڑے فخر سے پھینکے گا ۔ ہماری طرح خاکروب کا انتظار نہیں کرے گا ۔ شاپنگ مال پہ جا کر نہ صرف چیزیں خود اکٹھی کرے گا ، بلکہ بل بھی خود بنا کر ادا کرے گا اور گاڑی تک سامان والی ٹرالی بھی لے کر جائیگا۔ وہ کسی مددگار کی طرف ہر گز نہیں دیکھے گا ۔
بالاچند مثالوں سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ بیروزگاری ،نکما پن اور ہماری غربت کا اک بڑا سبب نفسیاتی کمپلیکس بھی ہے ۔ جس کا ماخذ طبقاتی ناہمواری اور پیشہ ورانہ تفریق کی دقیانوسی سوچ ہے ۔ جس نے انسانوں کے ساتھ کاموں کو بھی اعلیٰ اور گھٹیا پن کے درجوں میں منقسم کر رکھا ہے۔ جس کے باعث ہم بہت سارے کاموں سے گریز کرتے ہیں ۔ بھوکے مر جائیں گے لیکن جھوٹی انا اور نفسیاتی کمپلیکس پہ سمجھوتہ نہیں کریں ۔ جس سے آبادی کا اک بڑا حصہ نہ صرف خود ساختہ بیروزگاری سے دوچار ہوتا ہے بلکہ ملکی معیشت پر بھی بوجھ بنتا ہے۔ اس طبقہ کی کل آبادی کے بہت بڑی شرح ہے جو اسی مناسبت سے ملکی معیشت پر بھی اثرانداز ہوتی ہے ۔ جب تک ہم ترقی یافتہ قوموں والا مزاج نہیں اپناتے، دلوں میں وسعت پیدا نہیں کرتے اور نفسیاتی کمپلیکس کی بیماری سے جان نہیں چھڑاتے معاشی بدحالی کی دلدل سے نکلنا ناممکن ہے۔ الکاسب حبیب اللہ اور سب سے افضل وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی و پرہیزگار ہے جیسے قرآنی فرمودات کے مطابق سوچ نہیں بدلتے ، ترقی اور خوشحالی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا ۔ جتنا جلد اسکا ادراک اور احساس کرلیں اتنا ہی بہتر ہے ۔

یہ بھی پڑھیں