پاکستان میں بڑھتی ہوئی فحاشی و عریانی میں میڈیا بالخصوص الیکٹرانک چینلز کے کردار کے حوالے سے عوام کی رائے کیا ہے،اس کا اندازاہ کراچی سٹی کورٹ کے سینئر وکیل ایڈووکیٹ منظور تنولی کے خط سے لگایا جا سکتا ہے،جو لکھتے ہیں کہ نوید مسعود ہاشمی صاحب ملک پاکستان کے اکثر میڈیا چینلز بلا شبہ فحاشی و عریانی فحش گوئی اور بے راہ روی پھیلانے میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں ، کوئی مزاحیہ پروگرام ہو یا ڈرامہ تو دور کی بات ہے، اب کوئی غیرت مند شخص اپنی بہو بیٹیوں کے ساتھ بیٹھ کر خبرنامہ تک نہیں سن سکتا۔عوام کو وہ دکھایا جا رہا ہے جو ہماری معاشرتی اخلاقی اور مذہبی اقدار سے سرے سے کوئی مطابقت ہی نہیں رکھتا، بلکہ اس کو تباہ و برباد کر رہا ہے۔ ناچ گانے عریانی فحاشی ننگا مذاق فحش گوئی کو اس طرح عام کر کے ذہنوں میں رچایا بسایا جا رہا ہے کہ آنے والے چند سالوں میں نوجوان نسل اس کو معیوب ہی نہیں سمجھے گی، بلکہ یہ عام سی بات یا عادات و اقدار کا حصہ بن جائیں گی ۔
پاکستان میںحیرت اس بات کی ہے کہ نہ تو وہ ملبوسات پاکستان میں بیچے خریدے جاتے ہیں اور نہ پہنے جاتے ہیں، تو اس واہیات لباس اور نیم عریاں عورتوں کو دکھانے کا کیا جواز ہے؟ اکثر ٹی وی چینلز پر لڑکے لڑکی کے افیئرز ناجائز تعلقات کے پروگرام دکھائے جا رہے ہیں جن میں ننگے سوالات کیے جاتے ہیں اور منفی ذہن سازی ہو رہی ہوتی ہے،میڈیا قصور کی مظلوم بچی زینب کے واقعے کی آڑ میں گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ دکھانا شروع ہو جاتا ہے ، شوز میں انعام دینے کی آڑ میں غیرمرد غیر عورت کے ساتھ گلے ملتا ہے، اس کو کلچر بنانے کی کوشش کی جاری ہے یہ سب وہ اپنے گھر میں کر لیں تو کوئی گلہ نہیں، لیکن ستم یہ ہے کہ ایسی نازیبا حرکت صرف ایک شخص کرتا ہے اور دکھایا چوبیس کروڑ عوام کو جا رہا ہے، جس کو 99 فیصد لوگ واہیات سمجھتے ہیں ،اب تو سوشل میڈیا سے بھی لغو گفتگو، ڈانس، فحش گوئی گند بھری جغت بازی ، گرل فرینڈ بوائے فرینڈ کلچر، بیہودہ مذاق کے کلپ ٹی وی چینل پر دکھائے جا رہے ہیں، لیکن کبھی کوئی تہذیب والی خبر دیکھنا ممکن نہیں رہی،دعا زہرا کیس کو ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بنا کر بریکنگ نیوز کے طور پر ہفتوں تک ٹی وی چینلز پر دکھایا جاتا رہا ،اس کی آڑ میں 18 سال سے کم عمری میں شادی کو ٹارگٹ کیا گیا اور ذہنوں پر منفی اثرات ڈالے گئے،ڈاکو، اگر باپ سے بیٹی کی شادی کی رقم چھین لیں تو میڈیا کو باپ کے آنسو نظر نہیں آتے، لیکن لڑکی، لڑکے کے افیئر بھاگ کر پسند کی شادی کو اچھال اچھال کر دکھایا جا رہا ہے۔پہلے یہ ننگ پن اور غلاظت سے بھرا فحش گوئی کا سلسلہ صرف تھیٹر تک محدود تھا اور چند لوگ اس گند کو بند جگہ پر دیکھتے تھے، لیکن پھرکمال مہارت سے اس گند کو ٹی وی چینلز کا حصہ بنا دیا اور ان کی دیکھا دیکھی اب ہر چینل پر فحش گوئی گندی جگت بازی ننگا مذاق ہی دکھایا جا رہا ہے۔خواتین کو آئیڈیل بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، پروگرام میں بلا کر ان کے لیے اس طرح کی تعریفی جملے بولے جاتے ہیں کہ’’آپ شہرت کی بلندی پر ہیں،آپ کے لاکھوں فین ہیں،جو آپ کو کامیابی ملی بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے ،اب دیکھا جائے تو ان خواتین کی مہارت صرف ناچ گانے، ٹھمکے لگانے ، اداکاری میں ہے تو کیا ناچ گانے اور ٹھمکے لگانا عزت شہرت اور کامیابی ہے؟ماہرہ خان اور وینا ملک کے ساتھ بیسیوں پروگرام کرنے والوں نے کیا کبھی عافیہ صدیقی کی بہن کو مدعو کیا؟کبھی عافیہ صدیقی کے لیے کوئی پروگرام کیا؟
2013 ء سے پہلے سیاست دانوں کی گفتگو میں شائستگی تھی اور ہلکی بات سے پرہیز کیا کرتے تھے، لیکن آج واہیات پروگرام میں بیٹھ کر سیاستدان بھی واہیات مذاق فحش گوئی کا حصہ بنے ہوتے ہیں، جیسے سوال ہوتا ہے کہ آپ جہاز میں تینوں خواتین میں سے اپنے ساتھ کس لڑکی کو بٹھانا پسند کریں گے ایسے سوالات کا کیا مقصد ہے؟ بڑے بھاری معاوضے وصول کرنے والے اینکرز دو،دو دہائیوں سے پروگرام کر رہے ہیں لیکن آج تک ان پروگرامز کا کوئی حاصل وصول رزلٹ نہیں نکلا ، روزانہ لاحاصل گفتگو ہی ہوتی ہے جس کا کبھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا، بلکہ ان پروگرامز میں خبر بھی کم ہی ہوتی ہے بلکہ بحث ، مباحثہ اور دوسروں کی پگڑیاں اچھالنا زیادہ ہوتا ہے، یعنی ٹی وی چینلز پر صرف لا حاصل وقت ضائع کرنے والی گفتگو ہی دکھائی جائے گی۔ اگر اوسطا ًحساب لگایا جائے تو ہر پانچ منٹ میں میڈیا پر ایک ناچتی گاتی اچھل کود کرتی لڑکی دکھائی جا رہی ہے ،کوئی ڈرامہ ، پروگرام، مارننگ شو، حتی کہ خبرنامہ بھی ناچتی گا تی لڑکی کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ناچ گانے، لڑکے لڑکی کا افیئر ، بے باک گفتگو، بیہودہ گفتگو، کھلے عام میل ملاپ، مادر پدر آزادی کو عام کر کے معاشرے میں رچانے بسانے کی کوشش کی جا رہی ہیں، اس واقعہ یا بات کو بڑھا چڑھا کر دکھایا جا تا ہے جس سے نوجوان نسل کی مغربی طرز پر ذہن سازی ہو ۔ تاکہ اگلی ایک دو دہائیوں میں ہماری نوجوان نسل میں اچھے برے کی تمیز ہی ختم ہو جائے اور اس مغربی طرز کے کلچر کو وہ برا نہ سمجھیں اور یہ گند ہماری اقدار کا بھی حصہ بن جائے۔ایک ڈرامے میں اداکار نے وکیل کے بارے میں ایک ہلکی سی بات کر دی تو ’’وکلا بارز‘‘ نے اس کے خلاف نوٹیفکیشن جاری کیا جس پر انہوںنے معافی مانگی تو کیا جو لوگ روز ٹی وی پر بیٹھ کر دین اسلام، شعائیر اسلام، ہماری دینی، معاشرتی اور اخلاقی اقدار کا مذاق اڑاتے ہیں ان کو اس قبیح عمل کی کھلی چھوٹ ہے تو کیوں؟ ان کے لیے کوئی ضابطہ کار کیوں نہیں ہے؟
ہندوستان میں لوگ ناچ گانے کے ساتھ اپنی عبادت، مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں اور ننگے جسم والے بت بنا کر پوجتے ہیں، انڈین میڈیا اگر ناچ گانے یا ننگے جسم دکھائے تو دکھا سکتا ہے، لیکن ملک پاکستان میں 99 فیصد مسلمان رہتے ہیں کیا یہاں ناچ گانے، غیر مرد اور عورت کا گلے ملنا ناچ گانے والوں کو رول ماڈل یا آئیڈیل بنا کر پیش کرنا زیب دیتا ہے؟ٹی وی پر بیٹھے اینکر سیاست معیشت ،اسلام، دفاع، قانون سائنس، ٹیکنالوجی ،میڈیکل ہر موضوع پر تجزیہ کرتے ہیں اور سوال جواب کر رہے ہوتے ہیں،، کیا اینکر ہرفن مولا ہیں یا عقل کل ہیں کہ جو من میں آئے کہتے رہیں؟ اس بے لگام میڈیا کے لئے ہنگامی بنیادوں پر ضابطہ اخلاق کی ضرورت ہے ۔علامہ محمد اقبال ؒنے بجا فرمایا تھا کہ
اس بحث کا کچھ فیصلہ میں کر نہیں سکتا
گو خوب سمجھتا ہوں کہ یہ زہر ہے یہ قند
کیا فائدہ کچھ کہہ کے بنو اور بھی معتوب
پہلے بھی خفا مجھ سے ہیں تہذیب کے فرزند
اس راز کو عورت کی بصیرت ہی کرے فاش
مجبور ہیں معذور ہیں مردان خرد مند کیا
کیا چیز ہے آرائش و قیمت میں زیادہ
آزادی نسواںیا کے زمرد کا گلوبند