رسول پاک ﷺ کی سیرت پاک کے دوسرے تمام پہلوئوں کی طرح آپؐ کا معلم ہونا بھی خاص اہمیت خاص رکھتا ہے‘ آپﷺ پوری انسانیت کیلئے ایک عظیم اور مثالی معلم بن کر تشریف لائے‘ ایسے معلم جن کی تعلیم وتربیت نے صرف تئیس برس کی مختصر مدت میں نہ صرف پورے جزیرئہ عرب کی کایا پلٹ دی بلکہ پوری دنیا کیلئے رشد و ہدایت کی وہ ابدی شمعیں بھی روشن کر دیں جو رہتی دنیا تک انسانیت کو عدل و انصاف ‘ امن و سکون اور عافیت و اطمینان کی راہ دکھاتی رہیں گی‘ دراصل رسول پاکؐ کو یہ منصب خود اللہ تعالیٰ کی طر ف سے عطا ہوا تھا۔
سورۃ البقرہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا مذکور ہے۔ ترجمہ : اے ہمارے پروردگار ان لوگوں میں خود انہیں کے اندر سے ایک رسول مبعوث فرما جو انہیں تیری آیات پڑھ کر سنائے۔ انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور انہیں پاک کرے (البقرۃ : 129 )
اسی طرح ایک اور آیت میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ‘ترجمہ: ’’وہی ہے جس نے امیوں کے درمیان خود انہی میں سے ایک رسول مبعوث کیا جو ان کو اس کی کتاب پڑھ کر سناتا ہے اور ان کا تزکیہ کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔‘‘
قرآن پاک کی یہ آیات نبی کریمؐ کو بطور معلم متعارف کرواتی ہیں۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول پاکؐ نے فرمایا علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔
رسول اللہؐ نے نفع بخش علم کو ایک ایسی مثنی قرار دیا جس کا اجر موت کے بعد بھی منقطع نہیں ہوتا۔ آپؐ نے فرمایا جب انسان مرتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے مگر تین چیزیں باقی رہتی ہیں ۔
-1صدقہ جاریہ-2ایسا علم جس سے بعد کے لوگ فائدہ اٹھائیں-3اولاد صالح جو اس کے لئے دعا کرے۔
ایک معلم کے لئے سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ رسول کریمؐ خود بھی معلم تھے آپؐ نے فرمایا انما بعثت معلما‘ یعنی مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔
کتب احادیث میں حضور پاکؐ کی زندگی کا ایک واقعہ مذکور ہے جس سے آپؐ کا علم میں شغف واضح ہوتا ہے۔ ’’حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضورؐ مسجد میں منعقدہ دو مجلسوں میں سے گزرے۔ ان دونوں میں سے ایک عبادت اور دعا میں مصروف تھی۔ دوسری تعلیم و تعلم میں۔ آپؐ اس مجلس میں بیٹھ گئے جو تعلیمی مذاکرہ میں مصروف تھی۔ آپؐ نے فرمایا میں بھی معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔
آپؐ کی تعلیم کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ آپؐ نے ابتداء ہی سے لوگوں کی تربیت کے لئے ایک مرکز کی ضرورت محسوس کی جہاں لوگ جمع ہوں اور اجتماعی طور پر ان کی تہذیب و اصلاح کا کام ہوسکے۔ جب تک دعوت کا سلسلہ مخفی تھا آپؐ نے حضرت ارقمؓ کے گھر کو مرکز قرار دیا تھا۔ یہاں تمام اولین رفقاء جمع ہوتے‘ کتاب اللہ کی تلاوت ہوتی‘ اسے یاد کرتے اور بنیادی مسائل کے معاملے میں حضورؐ سے رہنمائی حاصل کرتے۔ پھر آپؐ کا اپنا گھر بھی مسلمانوں کا مرکز بن گیا جہاں صحابہؓ جمع ہو کر اپنے عظیم معلم سے رہنمائی حاصل کرکے اپنے کام کاج میں مشغول ہو جاتے۔ حضورؐ کتابت سیکھنے کو تعلیم میں فوقیت دیتے تھے۔ کتابت کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ حضورؐ نے ہجرت جیسے پرخطر سفر میں بھی سامان کتابت کو ساتھ رکھنا ضروری سمجھا تھا۔ اس کے علاوہ بدر کے قیدیوں میں سے کچھ پڑھے لکھے قیدیوں کا مزید یہ قرار پایا کہ ہر ایک دس دس مسلمان بچوں کو پڑھنا لکھنا سکھا دے۔ حضورؐ کی تعلیم کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ آپ اسے اس طرح جاری رکھتے کہ متعلم اکتاہٹ محسوس نہ کرے جب تک تعلیم اپنی خوشی سے حاصل نہ کی جائے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوتے۔ اس لئے آپؐ دوران تعلیم کوئی ہلکی پھلکی پرمزاح بات کہہ دیتے جس سے دلچسپی برقرار رہتی۔
آپؐ کی تعلیم کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ آپ مخاطب کے ذہنی معیار کو ہمیشہ مدنظر رکھتے۔ آپؐ کا بڑا مقصد یہی تھا کہ لوگ آپؐ کی بات سمجھ جائیں۔ آپؐ کے پاس بدوی اور شہری‘ ان پڑھ اور تجربہ کار کم عقل اور ذہین دونوںطرح کے لوگ آتے تھے آپؐ ہر ایک سے اس کی سمجھ کے مطابق سلوک کرتے۔ بطور معلم آپؐ کی ایک خوبی آپؐ کا انکسار اور تواضع بھی ہے۔ اگرچہ آپؐ کو اللہ تعالیٰ سے ہمکلام ہونے کا شرف حاصل تھا اور آپؐ کو اللہ تعالیٰ سے حقیقی علم عطا ہوا تھا اس کے باوجود آپؐ نے کبھی غرور نہ کیا اور تواضع کو نہیں چھوڑا۔
(جاری ہے)