(گزشتہ سے پیوستہ)
آپؐ نے امت کو جس بات کی تعلیم دی اس کا بذات خود عملی نمونہ بن کر دکھایا۔ آپؐ نے لوگوں کو نماز کی تلقین فرمائی تو خود اپنا یہ حال تھا کہ اگر دوسرے پانچ وقت نماز پڑھتے تھے تو آپ آٹھ وقت نماز پڑھتے تھے جس میں چاشت‘ اشراق اور تہجد کی نمازیں شامل ہیں‘ آپؐ نے دوسروں کو نماز باجماعت کی تعلیم دی تو خود یہ عمل کرکے دکھایا کہ ساری زندگی تو نماز باجماعت کی پابندی فرماتے رہے۔ مرض وفات میں بھی آپؐ نے مسجد کی جماعت کو نہ چھوڑا اور دو آدمیوں کے سہارے مسجد میں تشریف لا کر نماز ادا کی۔
آپؐ نے مسلمانوں کو زکوٰۃ دینے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی تاکید فرمائی تو سب سے پہلے اس کا نمونہ خود پیش فرمایا۔ عام مسلمانوں پر مال کا چالیسواں حصہ فرض کے طور پر دینے کا حکم تھا لیکن آپؐ کا اپنا عمل یہ تھا کہ اپنی ضروریات کو نہایت سادہ طریقے سے پورا کرنے کے بعد اپنی ساری آمدنی ضرورت مند افراد میں تقسیم فرما دیتے تھے۔ آپؐ نے مسلمانوں کو زہدوقناعت کی تعلیم دی تو خود اس کا عملی نمونہ بن کر دکھایا۔ غزوہ خندق کے موقع پر بعض صحابہؓ نے بھوک کی شکایت کی اور پیٹ سے کپڑا ہٹا کر دکھایا جہاں پتھر بندھا ہوا تھا۔ سرور دو عالمؐ نے جواب میں اپنے شکم مبارک سے کپڑا ہٹایا جس پر دو پتھر بندھے ہوئے تھے۔ اسی طرح اگر مساوات کی تعلیم دی تو ساری زندگی اس کا نمونہ بنے رہے۔ یہاں تک کہ خندق کی کھدائی میں بھی شریک رہے۔
رسول پاکؐ نے تعلیم میں دلچسپی پیدا کرنے اور طلباء کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لئے جہاں بہت سے طریقے اختیار فرماتے وہاں بعض اوقات مناسب اور پرکشش سوال سے بھی ابتداء فرماتے جن سے ان کی توجہ پوری طرح آپؐ کی جانب مبذول ہو جاتی تھی۔ حدیث میں اتدرون (کیا تم نہیں جانتے ایحبون (کیا تم پسند کرتے ہو) وغیرہ کلمات سے بات کا آغاز کرنے کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔
ہجرت سے پہلے کسی باقاعدہ درس گاہ کا ذکر نہیں ملتا البتہ منصب نبوت پر سرفراز ہونے کے بعد حضرت ارقمؓ کا گھر آپ کی تعلیمی اور تبلیغی سرگرمیوں کا مرکز تھا۔ ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں رسول اللہؐ نے سب سے پہلا کام مسجد نبویؐ کی تعمیر کا کیا۔ اس مسجد کے حصے میں سائبان اور چبوترہ (صفہ) بنایا۔ اس میں اساتذہ کا تقرر کیا گیا جو علم دین کے ساتھ ساتھ مختلف فنون کی تعلیم دیتے تھے۔ عبداللہ بن سعید بن العاصؓ جو کاتب تھے کو کتابت سکھانے پر مامور کیا گیا۔حضرت عبادہ بن صامت کو بھی کتابت اور تعلیم قرآن پر مقرر کیاگیا۔صفہ کی درسگاہ میں تعلیم پانے والے صحابہؓ کی تعداد بعض مئولفین نے چار سو لکھی ہے۔ ایک مملکت کے حاکم اعلیٰ کی حیثیت سے آپؐ کو مترجمین کو بھی ضرورت تھی۔ جو غیر زبانیں جانتے ہوں چنانچہ حضرت زیدؓ بن ثابت آپؐ کے ترجمان تھے وہ فارسی حبشی اور رومی زبانیں جانتے تھے انہوں نے آپؐ کے حکم پر عبرانی زبان بھی سیکھ لی۔ قرآن کریم اور احادیث نبویؐ میں علم دین کی تعلیم کو خواتین کے لئے بھی اسی قدر ضروری قرار دیا گیا ہے جس قدر وہ مردوں کے لئے ضروری ہے۔ آپؐ نے فرمایا ’’جو کوئی اپنی لونڈی کو عمدہ تعلیم و تربیت دے اور اس سے نکاح کرے اسے دگنا ثواب ملے گا۔‘‘ حضورؐ نے تعلیم کا یہ سلسلہ اپنے گھر سے شروع کیا تھا اور آپؐ ہی کی تعلیم کی بدولت حضرت عائشہؓ‘ حدیث‘ تفسیر‘ فقہ اور شعر و ادب میں بہت بڑی عالمہ ہوگئی تھیں اور انہوں نے حضورؐ کی وفات کے بعد بھی اپنے تعلیمی فیض کا سلسلہ جاری رکھا۔
رسول پاکؐ نے اہل عرب میں جب اپنی تعلیم کا آغاز کیا اس وقت وہ قوم دنیا میں حقیر تھی‘ کمزور و ناتواں تھی‘ بحیثیت اور بے وقار تھی‘ ان پڑھ اور جاہل تھی وہ زندگی گزارنے کے سلیقے اور تہذیب و تمدن سے ناآشنا تھی۔ قتل وغارت کی خوگر اور ظلم وتشدد کی آخری حدوں کو چھو رہی تھی اور انسانیت اور شرافت کی قدروں سے سراسر محروم تھی۔ حضورؐ نے تشریف لا کر اس قوم کی کایا پلٹ دی۔ ان کے دل و دماغ میں انقلاب پیدا کر دیا۔ ان کے اخلاق کی قدریں بدل گئیں۔
یہ معلم اعظمﷺ کا ہی کمال ہے کہ انہوں نے اس جاہل قوم کی اتنی بڑی تعداد کو زیور تعلیم سے مزین فرمایا کہ وہ آنے والی نسلوں کے لئے علم کے روشن ضیاء ثابت ہوئے۔ انہوں نے بہت جلد دنیا میں سیاسی‘ معاشرتی اور معاشی نطام میں برتری کے ساتھ ساتھ علمی میدان میں بھی اپنی عظمت کے جھنڈے گاڑ دئیے اور کئی صدیوں تک دنیا صرف مسلمانوں کے خزانہ علمی سے فیض یاب ہوتی رہی۔
اس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وہ دعا پوری ہوئی جو انہوں نے کعبہ کی تعمیر کے وقت اپنے رب سے مانگی تھی کہ اے ہمارے رب! ان لوگوں میں ایسا رسولؐ مبعوث فرما جو انہیں تیری آیات پڑھ کر سنائے۔ انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کے باطن کو پاک کرے-
(سورۃ البقرہ آیت 129)
آج بھی حضورؐ کی تعلیمات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے اور آپؐ کی دکھائی ہوئی راہوں پر چلنے کی حاجت ہے۔ آپؐ ہی کی بتائی ہوئی تعلیمات پر عمل کرکے ہم نہ صرف سچے مسلمان بن سکتے ہیں بلکہ دنیا میں بھی سرخرو ہوسکتے ہیں۔