دینی مدارس کو درپیش چیلنجوں پر گفتگو سے پہلے مدارس کے موجودہ معاشرتی کردار اور دائرہ کار پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے کیونکہ اس کے بعد ہی ہم ان چیلنجوں کا صحیح طور پر ادراک کر سکیں گے جو دینی مدارس کے اس موجودہ نظام اور نیٹ ورک کو درپیش ہیں۔
قرآن و سنت اور ان سے متعلقہ علوم کی حفاظت، ان کی تعلیم و تدریس کے تسلسل اور انہیں اگلی نسل تک صحیح حالت میں پہنچانے کے ساتھ ساتھ عام مسلمانوں کا وحی الٰہی اور آسمانی تعلیمات یعنی قرآن کریم اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے ساتھ رابطہ قائم کرنا ان مدارس کا بنیادی ہدف اور کردار ہے۔
مسلم معاشرے میں مسجد اور مکتب کا ادارہ قائم رکھنے کے لیے یہ مدارس رجال کار فراہم کر رہے ہیں۔ کسی جگہ بھی مسجد کا نظام چلانے اور دینی تعلیم کا مکتب قائم کرنے کے لیے مؤذن، امام، قاری، خطیب، مدرس اور مفتی حضرات کی درجہ بدرجہ ضرورت ہوتی ہے تو یہ افراد تعلیم یافتہ صورت میں ان مدارس سے فراہم ہوتے ہیں، ان کے سوا ان افراد کی تیاری اور فراہمی کا کام کسی اور جگہ نہیں ہوتا۔
یہ مدارس مسلمانوں کا نظریاتی اور ثقافتی حصار ہیں۔ عقیدے و ثقافت کے حوالے سے کہیں سے بھی حملہ ہو اور اسلامی عقائد اور ثقافت و روایات کے خلاف کسی جانب سے بھی آواز اٹھے یہ مدارس اس کے مقابلے میں سدِ راہ بنتے اور دفاع میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ مدارس کا یہی کردار آج کے عالمی استعمار کو کھٹکتا ہے اس لیے کہ مسلم معاشرے میں مغربی ثقافت کے نفوذ اور استعماری تسلط کے استحکام میں مدارس کا یہ رول سب سے بڑی رکاوٹ ہے اس لیے ان مدارس کی کردار کشی اور ان کے کردار کو ختم کرنے، محدود کرنے یا دیگر قومی شعبوں میں ضم کر کے تحلیل کر دینے کی مسلسل کوشش ہوتی رہتی ہے۔
اس پس منظر میں دینی مدارس کو آج کے حالات میں درپیش چیلنجوں کا جائزہ لیا جائے تو ان کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک چیلنج وہ ہے جو انہیں خارج سے درپیش ہے اور وہ دوعملی صورتوں میں ہے۔
پہلے نمبر پر ان کے وجود کے جداگانہ تشخص اور آزادانہ کردار کے تحفظ کا مسئلہ ہے۔ اس لیے کہ عالمی اور ملکی سطح پر مقتدر طبقات ایک مدت سے اس تگ و دو میں ہیں کہ ان مدارس کا وجود اپنی موجودہ کیفیت کے ساتھ قائم نہ رہے۔ یا تو ریاستی انتظام کے دائرے میں لا کر اجتماعی دھارے میں شامل کرنے کے خوبصورت لیبل کے ساتھ انہیں ان کے جداگانہ دینی تعلیمی تشخص سے محروم کر دیاجائے، اوریاجدیدعلوم بالخصوص سائنس اور ٹیکنالوجی کو نصاب میں شامل کرنے کے بہانے خالص دینی تعلیم کے نصاب کو تحلیل کر دیا جائے۔ اور اس کے ساتھ ہی ان کا یہ آزادانہ کردار بھی باقی نہ رہنے دیا جائے کہ وہ اپنے تعلیمی نظام و نصاب کے تعین کے ساتھ ساتھ مالیاتی اور انتظامی طور پر بھی مکمل حیثیت سے خودمختار ہیں اور کسی کی مداخلت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ مدارس کے اس جداگانہ تشخص اور مالیاتی و انتظامی خودمختاری کے کچھ نقصانات بھی ہوں گے جن سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مسلم معاشرے میں دینی مدارس کے کردار کے جن تین پہلوؤں کا ہم نے تذکرہ کیا ہے اس کردار کے مؤثر اور نفع بخش ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہی جداگانہ تشخص اور آزادانہ کردار ہے۔ اس سے محروم ہو کر دینی مدارس اپنا وہ کردار باقی نہیں رکھ سکیں گے جو گزشتہ ڈیڑھ سو برس سے ان کا امتیاز چلا آرہا ہے۔
خارجی طور پر دینی مدارس کو درپیش دوسرا بڑا چیلنج عالمی میڈیا اور ذرائع ابلاغ ہیں۔ ان کی کردارکشی کی مہم ہے جو منظم اور مربوط طور پر چلائی جا رہی ہے اور مدارس کی ایسی مکروہ تصویر دنیا کے سامنے پیش کی جا رہی ہے جو حقیقت کے منافی اور انتہائی نفرت انگیز ہے۔ انہیں قرون مظلمہ اور ظلم و تشدد کے اس تاریک دور کے پس منظر میں دنیا کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے جب یورپ میں بادشاہ اور جاگیردار کی حکمرانی تھی اور عام آدمی غلاموں سے بھی بدتر جانوروں جیسی زندگی بسر کر رہا تھا۔ بادشاہ اور جاگیردار کے اس ظلم و جبرمیں مذہبی ادارے اورشخصیات عام مظلوم لوگوں کا ساتھ دینے کی بجائے بادشاہ کے طرفدار اورجاگیردار کےپشت پناہ بنے ہوئے تھے۔ عالمی میڈیا دینی مدارس کی غلط تصویر پیش کر کے دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہا ہے کہ یہ دینی مدارس وہی تاریک دور واپس لاناچاہتے ہیں اور اس دور کی نمائندگی کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ بات قطعی طور پر غلط اور تاریخی حقائق کے منافی ہے۔ اس حوالے سے میں مغرب والوں سے عرض کیا کرتا ہوں کہ آپ لوگوں کو اگر مذہب سے دستبردار ہونا پڑا تو اس کی وجہ سمجھ میں آتی ہے کہ قرون مظلمہ میں بادشاہ اور جاگیردار کے وحشیانہ مظالم میں مذہب ان کا ساتھی تھا اور سرکردہ مذہبی شخصیات ان ظالموں کی پشت پناہ تھیں۔ اسی طرح جب سائنس نے ارتقاء اور پیشرفت کا آغاز کیا تو مذہب اس کے خلاف فریق بن گیا اور سائنس دانوں پر کفر و الحاد کے فتوے جاری کرنے شروع کر دیے۔
اس پس منظر میں مغرب کی مذہب سے دستبرداری سمجھ میں آتی ہے لیکن ہمارا پس منظر یہ نہیں ہے۔ ہمارے ہاں تو مذہب اور مذہبی شخصیات نے جبر و ظلم کا ساتھ دینے کی بجائے ہمیشہ دلیل اور حق کا ساتھ دیا ہے اور اس حوالے سے علماء کرام کی قربانیوں، شہادتوں اور قید و بند کی صعوبتوں سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ ہمارے ہاں مذہب اور مذہبی اداروں نے سائنس کی راہ میں کبھی مزاحمت کی دیوار کھڑی نہیں کی بلکہ یورپ کی موجودہ سائنسی ترقی اسی مسلم اسپین کے تعلیمی اداروں کی رہین منت ہے جس نے یورپ کو آزادی اور سائنسی ترقی و ارتقاء کا راستہ دکھایا مگر خود میدان جنگ میں شکست کھا کر پیشرفت کی صلاحیت سے محروم ہوگیا۔
(جاری ہے)