Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

مہذب ملکوں کی کچھ قابل تقلید مثالیں

کچھ روز سے میں انگلینڈ اور یورپی ممالک کا تفریحی و مطالعاتی دورہ کر رہا ہوں ۔ سیاحت کے ساتھ ان ملکوں کی تاریخ اور راز ترقی جاننے کی بھی کوشش کرتا ہوں ۔ وطن عزیز کا ان سے تقابلی موازنہ بھی کرتا ہوں۔ ان تمام عوامل کا جائزہ لیتا ہوں جو ترقی کے لئے ضروری ہوتے ہیں ۔یقین مانیں مجھے وسائل ، ذہانت ، مہارت اور اہلیت کے حوالے سے اپنا ملک کہیں پیچھے نہیں لگتا ۔ نہ جانے کیوں ایسی ترقی اور خوشحالی ہم سے دور ہے ۔
انگلینڈ کے شہر گلاسگو، میں چند اوورسیز دوستوں نے میرے اعزاز میں عشائیہ دیا جس میں شامل سب لوگ اپنے اپنے شعبے کے بڑے نام تھے ۔مقامی سطح پر ان کا کامیاب کاروبار تھا اور ساتھ حالات حاضرہ اور سیاست سے بھی دلچسپی رکھتے تھے ۔انہیں اپنے آبائی وطن کے حالات سے بخوبی آگاہی تھی اور موجود سیاسی عدم استحکام سے فکر مند تھے ۔ وہ برسوں پہلے بہتر مستقبل کے لئے یہاں منتقل ہوئے تھے ۔انکی کامیابی کا راز انتھک محنت ،لگن ، قانون کی پاسداری جیسی مشترک اقدار میں تھا ۔ کامیابی کے حصول کی اور بھی کچھ شرائط اور اصول ہیں جن کو ضبط تحریر لانے کے لئے الگ کالم کی ضرورت ہے ۔ تاہم فی الوقت ہم صرف محنت کی اہمیت اور افادیت کو فوکس کریں گے ۔محنت ایسا عمل ہے جو تین بڑے اجزائے ترکیبی کا مرکب ہے ۔ مثلا وقت ، طاقت اور دلچسپی ۔ ان تینوں کو ذہانت اور توازن کے ساتھ بروئے کار لائیں تو محنت کی اصلی صورت بنتی ہے ۔ یہ تینوں عناصر یورپی ممالک کے باسیوں کے مزاج اور رواج کا جزو لا یفنک ہے ۔
وقت کی پابندی محنت کی طرف پہلا قدم ہے ۔ کام پہ صبح آٹھ بجے پہنچنا ہے تو پھر آندھی اور طوفان میں بھی وہ وقت مقررہ پر وہاں پہنچیں گے ۔ دئیے گئے ٹاسک کے مطلوبہ معیار اور بروقت تکمیل کے لئے ساری توانائیاں استعمال کریں گے ۔ محنت کو عبادت سمجھے کر کریں گے ۔ اس میں دلچسپی کا عالم ایسا کہ ساتھ بیٹھے دوسرے ورکرز سے بات تو کجا دیکھیں گے بھی نہیں۔ جب کوئی بھی قوم ایسا جذبہ اور اصول اپنا لیتی تو ترقی دوڑ کر اس سے بغلگیر ہو جاتی ہے ۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم محنت کرتے ہیں نہ اکڑ چھوڑتے ہیں ۔ برباد ہو جائیں گے پر خو نہیں بدلیں گے ۔ اس پہ طرفہ تماشہ کہ ہم اپنے گریبان میں جھانکتے ہیں نہ رویے کا جائزہ لیتے ہیں بس دھڑا دھڑ دوسروں کی انہی خامیوں پر تنقید کئے جاتے ہیں جو اپنے اندر اوتم درجہ ہوتی ہیں۔ ہم نے خود احتسابی اور خود اصلاحی نہ کرنے کی قسم کھا رکھی ہے ۔
میری اہلیہ اور میں چند روز قبل استنبول سے ترکش ائیرلائن کے ذریعے سکاٹ لینڈ کے شہرایڈنبرا پہنچے ۔ لینڈ کرنے کے بعد ہم ابھی جہاز ہی میں تھے کہ فضائی کمپنی کا ایک اہلکار ہمارے پاس آیا اور نام پوچھنے کے بعد بتایا کہ وہ میری اہلیہ کے لئے وہیل چئیر لے کر آیا ہے اور باہر کھڑا ہے ۔جہاز سے اترنے سے لے کر، امیگریشن کلیرنس ، بیگیج کولیکشن اور باہر پارکنگ تک تمام مراحل میں جس تعاون اور حسن اخلاق کا اس اہلکار نے مظاہرہ کیا انتہائی قابل ستائش اور مثالی تھا ۔ دوسروں لفظوں میں اس نے دل خوش کر دیا ۔ کسی بھی لمحے اس کے ماتھے پہ شکن اور نہ لہجے میں اکتاہٹ دیکھی ۔جب بھی بولا ہونٹوں پہ مسکراہٹ کے ساتھ بولا ۔ حتیٰ کے جب مجھے باہر استقبال کے لئے آئے اپنے عزیزوں سے رابطہ کرنا تھا تو اس نے فوراً بخوشی اپنے فون سے کال ملا کر ان سے بات کرا دی ۔ یاد رہے وہاں ٹپ دینے کا بھی کوئی رواج نہیں اس لئے اس کا بہترین حسن سلوک کسی لالچ کی بنیاد پر نہ تھا بلکہ اک مہذب اور ذمہ دار شہری ہونے کا عکاس تھا۔
اسی اثنا میرے ذہن کی سکرین پر اسلام آباد ائیرپورٹ پر پی آئی اے کے جہاز میں سوار ہوتے ہوتے پیش آنے والا واقعہ ابھر آیا ۔جیسے اوپر بتا چکا ہوں کہ میری اہلیہ وہیل چیئر مسافر تھی ۔ ہم استنبول جانے کے لئے سب سے آخر میں جہاز میں داخل ہوئے۔ ہمارے پاس دو ہینڈ کیریز تھے جنہیں جہاز کے اندر کیبن میں رکھنا تھا۔ ہم جب پہنچے تو کیبن پہلے ہی فل ہو چکے تھے ۔ ہمیں ہینڈ کیریز کھپانے کے لئے کوئی جگہ نہیں مل رہی تھی ۔میں نے فضائی میزبان خاتون کو مسئلہ بتایا تو بجائے حل بتانے کہ فٹ بولی کہ آپ کے ہینڈ کیریز بڑے سائز کے ہیں انہیں بک کروانا ہوگا ۔ اس جواب نے مجھے چونکا دیا۔ مجھے افسوس کا اک کرنٹ سا لگا کہ بجائے تعاون کرنے اور مسئلہ حل کرنے اس نے سردست صورت حال کا الزام اور ذمہ داری ہم پہ دھر دی ہے اور ساتھ سامان کی بکنگ کا کہہ کر اس کو مزید الجھا دیا ہے ۔
خیر میں بھی جلد نروس ہونے والا نہ تھا۔ مجھے کیریز کے سائز کا بخوبی علم تھا ۔ میں ان کے ساتھ کئی قومی و بین الاقوامی فضائی سفر کر چکا تھا اور کبھی بھی ان کے سائز پر کسی نے اعتراض نہیں کیا تھا۔ میں نے ائیر ہوسٹس سے پو چھا کہ آپ نے ہینڈ کیریز کے سائز پر اعتراض ان کے بڑے ہونے کی وجہ سے کیا ہے یا کیبن میں گنجائش کی کمی کو آڑ دی ہے ؟ ۔ اس پر وہ لاجواب سی ہو گئی ۔ خیر کچھ دیر بعد دونوں ہینڈ کیریز اس نے ہماری سیٹوں کے مخصوص کیبن کی بجائے کہیں اور ایڈجسٹ کرو ا دئیے ۔ اس پر میں نے بڑے ادب اور ناصحانہ لہجے میں ائیر ہوسٹس سے کہا کہ ادارے کی ساکھ اور نیک نامی کے لئے اپنے اطوار بدلیں ۔ جن ہینڈ کیریز کے سائز پر آپ کو اعتراض تھا اب وہی آرام سے انہی کیبن میں آ گئے ہیں ۔ اس پر وہ تھوڑی مسکرائی اور رائٹ سر کہہ کر آگے بڑھ گئی ۔ اس قصے کو سنانے کا محض مقصد ان چھوٹی چھوٹی باتوں کی اہمیت اجاگر کرنا تھا جو کسی بھی معاشرے یا ادارے کی اچھی یا بری شہرت کا سبب بنتی ہیں ۔ ان کا خیال کرنے والی قوموں کا قسمت بھی خیال کرتی ہے اور وہ خوشحالی اور خوشی میں نہال رہتے ہیں ۔
ڈنمارک میں آج میرا تیسرا روز ہے ۔ یہ بہت خوبصورت اور ترقی یافتہ ملک ہے ۔ ہر طرف ہریالی اور خوشحالی دکھائی دیتی ہے ۔ پچاس لاکھ کے لگ بھگ اس کی آبادی ہے ۔ عمارتیں بہت بلند اور عالیشان ہیں۔ سڑکوں کا جال بچھا ہوا ہے ۔ سویڈن کے ساتھ ڈنمارک کا زمینی ملاپ زیر سمندر سرنگ اور کچھ حصہ اور ہیڈ برج کے ذریعہ ہے ۔ فرانس اور لندن کے بیچ انگلش چینل میں ٹنل کے بعد چودہ کلومیٹر کی یہ سرنگ انجینئرنگ کا حیرت انگیز شاہکار ہے ۔ ڈنمارک میں پانی و بجلی کے بے جا تصرف پر پابندی ہے ۔ میں نے اپنے میزبان کے گھر واش روم میں دیکھا کہ ٹوٹی کھولنے کے بعد کچھ سیکنڈ بعد پانی خود بند ہوجاتا ہے ۔ ہماری طرح نہیں کہ شاور کھول کر گھنٹوں اس کے نیچے کھڑے رہو اور بے دردی سے پانی ضائع کرتے رہو ۔ وہاں پانی کا بے جا ضیاع پر کنٹرول کے لئے حکومتی احکام کے مطابق شاور اور ٹوٹیوں میں خود کار سٹاپر لگائے جاتے ہیں۔ جس سے ٹوٹی یا شاور آن کرنے کے بعد چند سیکنڈ پانی چلتا ہے پھر خود بخود رک جاتا ہے۔ اس سے نہ صرف پانی کی بچت بلکہ سماجی احساس کی عکاسی بھی ہوتی ہے ۔
سوال یہ ہے کہ ڈنمارک جیسے امیر ملک میں پانی کی بچت کی اتنی قدر کی جاتی ہے تو ہم ایسا کیوں نہیں کر سکتے۔ ہم بالکل کر سکتے ہیں صرف اپنی سوچ اور طرز زندگی کو بدلنا ہوگا ۔ خودغرضی کی روش چھوڑ کر اجتماعی فلاح کی ریت ڈالنی ہوگی ۔ ذات سے نکل کر قوم کی بھلائی اور بہتری کے تمام حربے اور حیلے دیانتداری کے ساتھ آزمانے اور اپنانے ہوں گے ۔ یورپ جیسا احساس ذمہ داری اور سماجی رویوں کو فالو کر کے ہم بہت سارے معاملات آسانی سے سدھار سکتے ہیں ۔ بس اک بار عزم کریں اور ہمت تو باندھیں ۔

یہ بھی پڑھیں