دینی مدارس کے مولویوں کو تنگ کرنے کا وقت شروع ہوچکا ہے، اکثر دینی مدارس مخیر حضرات کے تعاون سے چلتے ہیں۔ زکوٰۃ، صدقات، عطیات یا پھر بکرا عید کے موقع پر جمع کی جانے والی جانوروں کی کھالیں بیچ کر وہ اپنے سال بھر کے بجٹ کو کھینچ کھانچ کر برابر کرنے کی کوششیں کرتے ہیں لیکن نائن الیون کے بعد سے پاکستان کے یکے بعد دیگرے بننے والے حکمرانوں نے دینی مدارس کے حجم کو سکیڑنے اور دینی طلباء وطالبات کی معیشت کو تنگ کرنے کے لئے نت نئے حربے استعمال کرنے شروع کر رکھے ہیں، پاکستان میں لاتعداد سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں کے پھیلے ہوئے جال کے مقابلے میں دینی مدارس کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں اور حکومتیں قومی خزانے میں سے ایک پائی بھی دینی مدارس پر خرچ نہیں کرتیں، حکمران حکومتی خرچے پر سکھوں کے لئے ’’گوردوارے‘‘ ہندوئوں کے لئے ’’مندر‘‘ عیسائیوں کے لئے ’’گرجا گھر‘‘ توہنسی خوشی تعمیر کرتے ہیں، مگر مساجد یا دینی مدارس کا ماہانہ بجلی کا بل بھی معاف کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے، ستم در ستم یہ کہ مسجدوں کو بھیجے جانے والے بجلی کے بلات میں ’’مساجد‘‘ سے ٹی وی فیس بھی وصول کی جاتی ہے، جامعہ باب الرحمت گلشن حدید کراچی کا ایک ممتاز دینی، تبلیغی اور اصلاحی ادارہ ہے، بلاشبہ اس ’’جامعہ‘‘ کے تعلیمی، اصلاحی چشمے سے ہزاروں انسان فیضاب ہو کر ’’انسانیت‘‘ کی اصل روح سے متعارف ہوئے، اس بڑے جامعہ کے صدر، بزرگوارم رائو ذوالفقار کا بندہ ناچیز کو وائس میسج موصول ہوا کہ سندھ کے کسی ادارے نے جامعہ باب الرحمت کو نوٹس بھیجا ہے، یہ جان بوجھ کر تنگ کر رہے ہیں تاکہ جامعہ کی تبلیغی، تعلیمی اور اصلاحی سرگرمیوں میں رخنہ اندازی کی جاسکے، اس خاکسار نے انہیں جوابی مسیج میں عرض کیا کہ آپ وفاق المدارس کے اکابرین سے رابطہ کریں، کسی کا باپ بھی جامعہ باب الرحمت کی تبلیغ اور تعلیم کو نہیں روک سکتا ہے اور نہ جھٹلا سکتا ہے، یہ غالباً8 جون کی شام کی بات ہے، نوٹس کی پریشانی کا دبائو تھا یا پھر کچھ اور 8جون کی نماز عشاء کے بعد بزرگوارم رائو ذوالفقار کا خوفناک ایکسیڈنٹ ہوا، ان کے چہرے پر چوٹیں آئیں اور پائوں کی ہڈی فریکچر ہوگئی۔
اس خاکسار نے وفاق المدارس کے قائد شیخ الحدیث مولانا حنیف جالندھری کو اس صورتحال سے آگاہ کرنے کے لئے رابطے کی تین بار کوشش کی مگر شائد زندگی میں پہلی بار تادم تحریر ان سے رابطہ نہ ہوسکا، اب بڑھتے ہیں اس خبر کی طرف کہ جو دینی مدارس اور جامعات میں بے چینی کا سبب بن رہی ہے۔
اخبارات میں چھیننے والی خبر کے مطابق، حکومت سندھ نے مدارس میں زیر تعلیم غیر ملکی طلبہ کو ڈی پورٹ کرنے، مدارس کی رجسٹریشن، مدارس کو ہونے والی فنڈنگ کی چھان بین اور مدارس کے مہتیمین کی تحقیقات کرانے سے متعلق حکم نامہ سندھ پولیس کو ارسال کر دیا ہے، تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ داخلہ کی جانب سے آئی جی سندھ پولیس کو ارسال مراسلے میں کہا گیا ہے کہ صوبائی وزیر داخلہ نے 31ایپکس کمیٹی اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد نہ ہونے پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ مدارس میں زیر تعلیم غیر ملکی طلبہ کو ڈی پورٹ کیا جائے گا مشترکہ ٹیم اس فیصلے پر عملدرآمد کی ذمہ دار ہوگی، سوال یہ ہے کہ اگر غیر ملکی مسلمان طلباء قرآن و حدیث کے علوم حاصل کرنے کے لئے اگر پاکستان کے دینی مدارس کو ترجیح دیتے ہیں تو حکمرانوں یا اسٹیبلشمنٹ کے پیٹ میں مروڑ کیوں اٹھتے ہیں؟ پاکستان کے انگلش تعلیمی اداروں میں اتنا ’’تپڑ‘‘ ہے نہیں کہ باہر کی دنیا میں رہنے والے طلباء ہماری یونیورسٹیوں اور کالجز میں تعلیم حاصل کرنے کو ترجیح دیں، بلکہ الٹا پاکستانی طلباء و طالبات کو اعلیٰ انگلش تعلیم کے حصول کے لئے لندن اور امریکہ کی یونیورسٹیوں کو منتخب کرنا پڑتا ہے اور وہاں دھکے کھانے اور خاک چھاننا پڑتی ہے، اگر پاکستانی دینی مدارس دنیا کے مختلف ممالک کے مسلمان طلباء کے دینی تعلیم، تبلیغی اور اصلاحی معیار پر پورا اترتے ہیں تو پاکستانی قوم کے لئے کسی خوشخبری سے کم نہیں، مگر سندھ حکومت دینی مدارس میں قرآن و سنت کی تعلیم دینے اور تعلیم حاصل کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا ارادہ رکھتی ہے، دینی مدارس کو کبھی رجسٹریشن کے نام پر اور کبھی بنک اکائونٹس کھلوانے کی آڑ میں، کبھی غیر ملکی طلباء کے نام پر اور کبھی کھالیں جمع کرنے کے لئے این او سی کی آڑ میں خوب، خوب تنگ کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں، دوسری طرف ان حکمرانوں کی وزارت تعلیم اور دیگر اداروں کی عین ناک کے نیچے لا رڈمیکالے کے نصاب تعلیم کے محافظ سکولوں، کالجوں اور نیورسٹیوں کے لاکھوں طلباء و طالبات، منشیات نوشی کے عادی بن چکے’’سوکالڈ سائنسدان‘‘ پرویز ھود بھائی اور انٹی فرزانہ باری کی قائداعظم یونیورسٹی کی سائنسی ایجادات وہاں کے طلباء و طالبات کا ہولی، دیوالی منانا، ایک دوسرے کے چہروں اور کپڑوں پر ہولی، دیوالی کے رنگ پھینکا، مادر پدر آزاد کلچر کو پروان چڑھانا یا پھر قومی اداروں کے خلاف قوم پرست طلباء کی خاص ذہن سازی کرنے تک محددو ہو کر رہ گئی ہیں۔
قائداعظم یونیورسٹی کی مندرجہ بالا سائنسی ایجادات نے دنیا بھر میں پاکستان میں رائج لارڈ میکالے کے نظام تعلیم کو جس طرح سے بے نقاب کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے، ہمارے اسٹیبلشمنٹی حکمران اور سیاست دان بھی نجانے کس مٹی کے بنے ہوئے ہیں، دینی مدارس کے اکابرین کو تو حکم دیا جاتا ہے کہ مدارس میں باطل فرقوں کے خلاف بھی صرف پڑھنے کی حد تک بھی تعلیم نہ دو، اور د وسری طرف یونیورسٹیوں اور کالجوں میں حکومت کی ناک کے نیچے تعلیم کے نام پر گوئیے، ناچے اور بھانڈ میراثی تیار کئے جاتے ہیں، قائداعظم یونیورسٹی کے سائنسی کارناموں میں مسلمان طلباء و طالبات کا ہر سال ہولی اور دیوالی منانے کا سائنسی کارنامہ سب سے نمایاں رہے گا۔
آنجہانی قادیانی سائنسدان عبدالسلام کے بعد پرویز ھود بھائی کو یہ سائنسی کارنامہ مبارک ہو، وفاق المدارس کے قائد مولانا قاری حنیف جالندھری جب سے ’’دل‘‘ والوں کے کلب میں شامل ہوئے ہیں، اہل ’’دل‘‘ پریشان ہیں، اللہ انہیں شفاء کاملہ عاجلہ مستمرہ عطا فرمائے، امین، سندھ حکومت کی طرف سے دینی مدارس کو دی جانے والی دھمکی کے خلاف جمعیت علماء اسلام کراچی کے طاقتور رہنما قاری محمد عثمان نے قربانی کی کھالوں کے حوالے سے صوبائی حکومت کی پابندیوں کے یکطرفہ اعلان کو پوری جرات کے ساتھ مسترد کرنے کا اعلان کر دیاہے، حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ ہوش کے ناخن لیں اور دینی مدارس کو غیروں کے ایماء پر تنگ کرنے سے باز آجائیں۔