(گزشتہ سےپیوستہ)
میں یہ بات عرض کر رہا ہوں کہ موجودہ حالات میں ہم کیا کر سکتے ہیں؟ پہلا کام تو حکومتوں کا ہے کہ حکمران مل بیٹھ کر سوچیں کہ ہم کیا کر سکتے ہیں؟ پاکستان میں ہماری اس تحریک اور دینی مہم کی قیادت شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم فرما رہے ہیں، ہم ان کے ساتھ ہیں، ان کے کارکن ہیں۔ انہوں نے دو باتیں کہی ہیں، میں بھی وہی عرض کرنا چاہوں گا۔
ایک بات یہ ہے، انہوں نے کل بھی کہا ہے کہ کم از کم مسلمان حکمران مل بیٹھ کر سوچیں تو سہی کہ ہمارے بھائی مر رہے ہیں ہم نے کیا کرنا ہے؟ ہم نے کچھ کرنا بھی ہے یا نہیں ، اگر کرنا ہے تو کیا کرنا ہے؟ اگر باہم مل بیٹھیں گے تو کوئی نہ کوئی راستہ نکل آئے گا ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائیں، ہماری بے حسی کا عالم یہ ہے کہ ہم اکٹھے بیٹھنے کو تیار نہیں ہیں۔
دوسری گزارش ہے کہ پاکستان کی بطور خاص ذمہ داری بنتی ہے۔ کیونکہ ہم پہلے بھی بہت سے ایسے معاملات میں شریک رہے ہیں۔ ہم دنیا کے کون سے بڑے جھگڑے میں فریق نہیں بنے؟ ہماری فوجیں کہاں کہاں نہیں گئیں؟ صومالیہ ،عراق اور بوسنیا ہر جگہ ہم جاتے رہے ہیں اور ہماری شرکت رہی ہے تو یہاں کیوں نہیں جا رہے؟ اس لیے حکمرانوں سے یہ گزارش ہے کہ ہمارا تو مزاج ہے کہ ہم ہر جگہ لڑتے ہیں، مگر یہاں کیوں قدم رکے ہوئے ہیں؟
فلسطینی بھائیوں کے حوالے سے حکومتوں کی یہ دو ذمہ داریاں ہیں۔ ایک یہ کہ ان کا ساتھ دیں اور اس سے پہلے یہ ہے کہ کم از کم مل بیٹھ کر سوچیں کہ ہم کیا کر سکتے ہیں۔ جو کر سکتے ہیں وہی کریں ،لیکن سوچیں تو سہی کہ کیا کر سکتے ہیں۔
اس کے بعد دوسرے نمبر پر ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم فلسطین کے حق میں آواز بلند کرتے رہیں۔ دیکھیں، دنیا بھر میں عوام ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کر رہے ہیں، امریکہ اور برطانیہ کے عوام جلوس نکال رہے ہیں، یورپ کے ملکوں کے لوگ ان کی حمایت میں سڑکوں پر آئے ہیں، لیکن ہم کیوں نہیں سامنے آتے؟ آج کی دنیا میں رائے عامہ کی حمایت بڑی مضبوط حمایت ہوتی ہے، سٹریٹ پاور آج کی دنیا کا بڑا بہت بڑا سیاسی ہتھیار ہوتا ہے۔ آج مغرب اور مشرق میں، امریکہ اور یورپ میں بڑے بڑے شہروں میں جلوس نکل رہے ہیں۔ ہمیں بھی یہ آواز بلند کر کے اپنے جذبات کا اظہار کرنا چاہیے اور دنیا کو بتانا چاہیے کہ ہم فلسطینیوں کے ساتھ ہیں۔ اگر امریکہ کی یونیورسٹیوں کے طلبہ یہ اعلان کر سکتے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ ہیں تو ہمیں یہ اظہار کرنے میں کیا تکلیف ہوتی ہے؟ اس لیے رائے عامہ کی حمایت کی مہم اور میڈیا کی مہم کو جتنا زیادہ ہم تیز کر سکتے ہیں، ہمیں کرنا چاہیے اور اس میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔
موجودہ حالات میں مسلمانوں کی تیسری ذمہ داری عرض کرنا چاہوں گا۔ لڑائیوں میں سیاسی لڑائی بھی ہوتی ہے، ہتھیاروں کی لڑائی بھی ہوتی ہے اور معاشی لڑائی بھی ہوتی ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں معاشی جنگیں ہوئی ہیں۔ خود حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا شعب ابی طالب میں تین سال محاصرہ اور بائیکاٹ رہا ہے اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی معاشی لڑائی لڑی ہے۔ بدر کی لڑائی یہیں سے شروع ہوئی تھی کہ قریش کا تجارتی قافلہ روکنے کے لیے نکلے تھے۔ قرآن مجید میں ہے ”واذ یعدکم اللہ احدی الطائفتین انھا لکم وتودون ان غیر ذات الشوکۃ تکون لکم ویرید اللہ ان یحق الحق بکلماتہ “ اللہ پاک فرماتے ہیں کہ جب تم مدینہ سے چلے تھے تو تمہارے ذہن میں دو قافلے تھے کہ ایک ابو جہل کا جنگی قافلہ اور ایک ابو سفیان کا تجارتی قافلہ۔ اللہ نے وعدہ کیا تھا کہ ایک تمہارے قابو میں دوں گا، تو تم تجارتی قافلہ کی طرف جانا چاہ رہے تھے، میں نے دوسری طرف بھیج دیا۔ تم یہ چاہتے تھے کہ تجارتی قافلہ ہاتھ میں آئے، تمہارا ٹارگٹ وہ تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے رخ جنگی قافلہ کی طرف موڑ دیا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو معاشی جنگ کے حوالے سے نکلے تھے کہ ان کی تجارت کے راستے میں رکاوٹ بننا ہے۔
عہد نبویؐ میں تجارتی بائیکاٹ کے کئی واقعات ملتے ہیں۔ مسلمانوں کا بائیکاٹ بھی ہوا اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں نے بھی کئی مواقع پر کفار کا بائیکاٹ کیا ہے۔ میں ایک چھوٹا سا واقعہ عرض کروں گا تاکہ سمجھ آئے کہ معاشی جنگ کیا ہوتی ہے؟
صلح حدیبیہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قریش کے ساتھ یہ معاہدہ ہوا تھا کہ ہم دس سال آپس میں جنگ نہیں کریں گے، دیگر شرطیں بھی تھیں۔ یمامہ میں بنو حنیفہ کے سردار ثمامہ بن اثال رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسلمان ہو گئے اور ایک موقع پر عمرہ کے لیے چلے گئے۔ مکہ پر کفار کا کنٹرول تھا۔ وہاں طواف کرتے انہیں کسی نے طعنہ دیا کہ ثمامہ مسلمان ہو گئے ہو؟ محمد (ﷺ) کے ساتھی بن گئے ہو؟ انہوں نے جواب دیا آرام سے بیٹھو ، تمہارے مکہ میں گندم یمامہ سے آتی ہے۔ یمامہ گندم کا علاقہ تھا، مکہ کی منڈیوں میں وہیں سے گندم آتی تھی۔ فرمایا اگر میرے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تو گندم کا ایک دانہ بھی مکہ نہیں آئے گا۔ بلکہ ثمامہ بن اثالؓ نے واپس جا کر مکہ کی گندم بند کر دی۔
(جاری ہے)