Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

اسرائیل فلسطین جنگ بندی معاہدہ اور بائیڈن کی ’’سرخ لکیریں‘‘

اگر کوئی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں غزہ(جس کی صفیں مذہبی آبادکاروں سے بھری ہوئی ہیں) میں روزانہ ہونے والے قتل عام کا زمہ دار ہے، تو وہ امریکی صدر جو بائیڈن ہیں۔7 اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد کے ابتدائی دنوں سے بائیڈن نے سوا دو ملین فلسطینیوں پر اجتماعی سزا کے اس وحشیانہ عمل کو ایک منصفانہ جنگ قرار دیا۔بائیڈن نے ہی اس الزام کی قیادت کی کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے ہی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں فوری جنگ بندی کے مطالبات کو سبوتاژ کیا۔ بائیڈن نے اسرائیل کے سمارٹ بموں اور میزائلوں کے ذخیرے کو بھر دیااوریہ ان کی نگرانی میں ہی ہوا ہے کہ امریکہ نے بین الاقوامی انصاف کی دو اعلیٰ ترین عدالتوں کے فیصلوں کو ردی کی ٹوکری کی نذر کرتے ہوئے کہا کہ ’’بین الاقوامی فوجداری عدالت کو ہم تسلیم نہیں کرتے‘‘۔ یہ امر حیران کن ہے کہ یہ واقعی بائیڈن بات کر رہے ہیں، سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نہیں۔ معلوم ہوا کہ مرنے والوں کی تعداد چالیس ہزار کے قریب پہنچ رہی ہے اور ہزاروں مزید لاشیں ملبے کے نیچے ہوسکتی ہیں۔ غزہ کے تمام ڈھانچے میں سے نصف سے زیادہ،اس کے ہسپتالوں، یونیورسٹیوں، سکولوں، پناہ گاہوں، سیوریج کے نظام اور زرعی اراضی کےسمیت تباہ ہو چکے ہیں۔ اسرائیل نے غزہ پر آٹھ ماہ میں اس سے زیادہ بم گرائے ہیں جتنے دوسری جنگ عظیم کے چھ سالوں میں لندن، ڈریسڈن اور ہیمبرگ پر گرائے گئے تھے۔امریکہ میں قائم قحط کے قبل از وقت وارننگ سسٹم نیٹ ورک فیوزنیٹ نے کہا کہ شمالی غزہ میں قحط کا آغاز ’’ممکن ہے، مگر امکان نہیں‘‘۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق، دس لاکھ سے زیادہ لوگوں کے موت کا سامنا کرنے کی توقع تھی۔
بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی جانب سے چلائی جانے والی مہم پر بریک لگانے کی دو کوششیں کی ہیں، ایک ایسا شخص جس کے متعلق امریکی صدر نے خود تجویز کیا کہ وہ ذاتی سیاسی مفاد کے لیے اس جنگ کو آگے بڑھا رہا ہے۔ پھر اس کی دھمکی تھی کہ اگر نیتن یاہو نے رفح میں اپنا آپریشن شروع کیا تو وہ بھاری بموں کی سپلائی بند کر دیں گے۔ نیتن یاہو نے بہرحال رفح کراسنگ پر قبضہ کرنے اور فلاڈیلفی کوریڈور پر دوبارہ قبضہ کرنے کے لیے آپریشن کو آگے بڑھایا۔ اس کی فوج مشرقی رفح میں ہے اور مغربی حصے پر مسلسل بمباری کر رہی ہے۔مئی کے اوائل میں بائیڈن نے اعلان کیا کہ رفح پر ’’بڑاحملہ‘‘ ایک سرخ لکیر ہوگی۔ پھردس لاکھ فلسطینیوں کے رفح سےجان بچا کر بھاگنے کے بعد اس دھمکی کا کیا ہوا؟ یہ پوچھے جانے پر کہ بائیڈن کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے سے پہلے اسرائیلی فضائی حملوں سے کتنی جلی ہوئی لاشیں مزید دیکھنا ہوں گی، وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی جواب میں ہڑبڑا گئے۔ ایسا لگتا ہے کہ بائیڈن عوامی دبائو کی وجہ سے نیتن یاہو کو ایسی دھمکیاں لگا رہے ہیں جبکہ حقیقت میں کچھ مختلف ہو رہا ہے‘‘۔ ورنہ امریکی صدر کی طرف سے لگائی گئی سرخ لکیر کی خلاف ورزی کیسے کی جاتی۔
امریکی صدر نےعوامی طور پر اعلان کیا کہ وہ ’’مکمل جنگ بندی‘‘ کے پیچھے واشنگٹن کا وزن ڈال رہے ہیں اور اسے حماس کو اسرائیلی پیشکش کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔چند ہفتے پہلےحماس نے سی آئی اے کے ڈائریکٹر بل برنزکی موجودگی میں اور مکمل منظوری کے ساتھ جنگ ​​بندی کی دستاویز پر دستخط کیے تھے لیکن اسرائیلی کابینہ اس سے ہٹ گئی اور امریکہ نے نرمی سے اس کی پیروی کرتے ہوئے دستخط شدہ معاہدے کو حماس کی ’’جوابی پیشکش‘‘ قرار دیا لہذا اگر بائیڈن نے ایک ہفتہ پہلے جو کہا تھا درحقیقت اس تجویز پر عمل درآمد کے لئے اپنا وزن ڈالا ہوتا تو یہ پیشرفت ہوتی؟ بائیڈن نے ایک ہفتہ پہلےکہا تھا کہ ’’میں جانتا ہوں کہ اسرائیل میں ایسے لوگ ہیں جو اس منصوبے سے اتفاق نہیں کریں گے اور جنگ کو غیر معینہ مدت تک جاری رکھنے کا مطالبہ کریں گے۔ کچھ حکومتی اتحاد میں بھی شامل ہیں۔‘‘ اور انہوں نے واضح کیا کہ ’’ وہ غزہ پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، وہ برسوں تک لڑتے رہنا چاہتے ہیں، اور یرغمال بنانا ان کی ترجیح نہیں ہے۔ ٹھیک ہے، میں نے اسرائیل کی قیادت پر زور دیا ہے کہ وہ کسی بھی طرح کے دبائو کے باوجود اس معاہدے کے ساتھ کھڑے ہوں اور اسرائیل کے لوگوں سےمیں کہتا ہوں کہ ایک قدم پیچھے ہٹیں اور سوچیں کہ اگر یہ لمحہ ضائع ہو گیا تو کیا ہوگا۔ ہم اس لمحے کو کھو نہیں سکتے۔ ’’مکمل فتح‘‘ کے نامعلوم تصور کے تعاقب میں غیر معینہ جنگ۔۔۔ نہ صرف غزہ میں اسرائیل کو جھنجھوڑ کر رکھ دے گی، معاشی، فوجی اور انسانی وسائل کو ختم کر دے گی بلکہ دنیا میں اسرائیل کی تنہائی کو مزید آگے بڑھائے گی‘‘۔
یہ الفاظ آٹھ ماہ پہلے بھی کہے جاسکتے تھے لیکن آخر کار اب کہے جا رہے ہیں۔بائیڈن کی تقریر نے جنگی کابینہ کو 48 گھنٹوں تک الجھن میں ڈالے رکھا۔ نیتن یاہو نے دو بظاہر متضاد بیانات جاری کیےاور پھر حقیقت سامنے آئی کہ تین مرحلوں پر مشتمل جنگ بندی معاہدے کی بائیڈن کی تفصیل اس دستاویز سے میل نہیں کھاتی جس پر کابینہ نے کئی اہم مقامات پر دستخط کیے تھے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ معاہدہ ’’مکمل جنگ بندی‘‘ کی پیشکش نہیں کرتا ہے۔بائیڈن نے اپنی تقریر میں کہا کہ یرغمالیوں اور قیدیوں کی رہائی کا پہلا مرحلہ ختم ہونے کے بعد جنگ بندی برقرار رہے گی جبکہ دوسرے مرحلے پر مذاکرات جاری رہیں گے۔ متن بالکل مختلف کہتا ہے۔ کلیدی سیکشن، پیراگراف 14، مکمل طور پر نقل کرنے کے قابل ہے: ’’اس پہلے مرحلے میں تمام طریقہ کار بشمول دونوں طرف سے فوجی کارروائیوں کو عارضی طور پر روکنا، امداد اور پناہ دینے کی کوششیں، افواج کا انخلا وغیرہ جاری رہیں گےجب تک اس معاہدے کے مرحلہ 2 کو نافذ کرنے کی شرائط پر بات چیت جاری ہے۔ اس معاہدے کے ضامن اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے کہ وہ بالواسطہ مذاکرات اس وقت تک جاری رکھیں جب تک کہ دونوں فریق اس معاہدے کے مرحلے 2 کو نافذ کرنے کی شرائط پر معاہدے تک پہنچنے کے قابل نہ ہو جائیں۔‘‘ اس میں سے کوئی بھی اسرائیل کو اس بات کا پابند نہیں کرتا کہ وہ مذاکرات کے ناکام ہونے کی صورت میں دوسرے مرحلے کو جاری رکھے اور اگر وہ ناکام ہو جاتے ہیں تو اسرائیل دوبارہ جنگ کی طرف جاتا ہے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں