حج کیا ہے؟… حضرت اقدس مولانا منظور نعمانیؒ لکھتے ہیں کہ ’’ایک معین اور مقررہ وقت پر اللہ کے دیوانوں کی طرح اس کے دربار میں حاضر ہونا اور اس کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ادائوں اور طور طریقوں کی نقل کرکے ان کے سلسے اور مسلک سے اپنی وابستگی اور وفاداری کا ثبوت دینا اوراپنی استعداد کے بقدر ابراہیمی جذبات اور کیفیات سے حصہ لینا اور اپنے کو ان کے رنگ میں رنگنا۔
مزید وضاحت کیلئے کہا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ایک شان یہ ہے کہ وہ ذوالجلال والجبروت، احکم الحاکمین اور شہنشاہ کل ہے اور ہم اس کے عاجزو محتاج بندے اور مملوک ومحکوم ہیںاور دوسری شان اس کی یہ ہے کہ ان تمام صفات جمال سے بدرجہ اتم متصف ہے جس کی وجہ سے انسان کو کسی سے محبت ہوتی ہے اور اس لحاظ سے وہ …بلکہ صرف وہی… محبوب حقیقی ہے۔ اس کی پہلی حاکمانہ اور شاہانہ شان کا تقاضا یہ ہے کہ بندے اس کے حضور میں ادب ونیاز کی تصویر بن کر حاضر ہوں… ارکان اسلام میں پہلا عملی رکن نماز اسی کا خاص مرقع ہے اور اس میں یہی رنگ غالب ہے اور زکوٰۃ بھی اسی نسبت کے ایک دوسرے رخ کو ظاہرکرتی ہے… اوراس کی دوسری شان محبوبیت کا تقاضا یہ ہے کہ بندوں کا تعلق اس کے ساتھ محبت اور والہیت کا ہو۔ روزے میں بھی کس قدر یہ رنگ ہے، کھانا پینا چھوڑ دینا اور نفسانی خواہشات سے منہ موڑ لینا عشق ومحبت کی منزلوں میں سے ہے، مگر حج اس کا پورا پورامرقع ہے۔ سلے کپڑوں کی بجائے ایک کفن نما لباس پہن لینا، ننگے سر رہنا، حجامت نہ بنوانا، ناخن نہ تراشوانا، بالوں میں کنگھا نہ کرنا، تیل نہ لگانا، خوشبو کا استعمال نہ کرنا، میل کچیل سے جسم کی صفائی نہ کرنا، چیخ چیخ کے لبیک لبیک پکارنا، بیت اللہ کے گرد چکر لگانا، اس کے ایک گوشے میں لگے ہوئے سیاہ پتھر (حجراسود) کو چومنا اور اس کے درودیوار سے لپٹنا اور آہ وزاری کرنا، پھر صفا ومروہ کے پھیرے کرنا پھر مکہ شہر سے بھی نکل جانا اورمنیٰ اور کبھی عرفات اور کبھی مزدلفہ کے صحرائوں میں جا پڑنا، پھر جمرات پہ بار بار کنکریاں مارنا، یہ سارے اعمال وہی ہیں جو محبت کے دیوانوں سے سرزد ہوا کرتے ہیں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام گویا اس رسم عاشقی کے بانی ہیں… اللہ تعالیٰ کو ان کی یہ ادائیں اتنی پسند آئیں کہ اپنے دربار کی خاص الخاص حاضری حج وعمرہ کے ارکان ومناسک ان کو قرار دے دیا۔ انہی سب کے مجموعہ کا نام گویا حج ہے اوریہ اسلام کا آخری اور تکمیلی رکن ہے۔
حج کی فرضیت کا حکم راحج قول کے مطابق ۹ھ میں آیا اوراس کے اگلے سال ۱۰ھ میں اپنی وفات سے صرف تین مہینے پہلے رسول اللہﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بڑی تعداد کے ساتھ حج فرمایا، جو ’’حجۃ الوداع‘‘ کے نام سے مشہور ہے اور اسی حجۃ الوداع میں خاص عرفات کے میدان میں آپ پر یہ آیت نازل ہوئی:
اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ، الْاَیَۃِ… (المائدہ:۵:۳)
آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت کا اتمام کردیا۔
اس میں اس طرف ایک لطیف اشارہ ہے کہ حج اسلام کا تکمیلی رکن ہے۔
اگر بندہ کو صحیح اور مخلصانہ حج نصیب ہوجائے جس کودین وشریعت کی زبان میں ’’حج مبرور‘‘ کہتے ہیں اور ابراہیمی ؑ ومحمدیؐ نسبت کاکوئی ذرہ اس کو عطا ہوجائے تو گویا اس کو سعادت کا اعلیٰ مقام حاصل ہوگیا اور وہ نعمت عظمیٰ اس کے ہاتھ آگئی جس سے بڑی نعمت کا اس دنیا میں تصور بھی نہیں کیاجاتا۔اس کو حق ہے کہ تحدیث نعمت کے طور پر کہے اور مست ہوہوکر کہے
نازم بچشم خود کہ جمالِ تودیدہ است
افتم بہ پائے خود کہ بکویت رسیدہ است
ہر دم ہزاربوسہ زنم دست خویش را
کہ دامنت گرفتہ بسویم کشیدہ است
دنیا کے مختلف کونوں اور زمین کے مختلف گوشوں سے اصحاب جنوں کے قافلے عشق و محبت کی منازل طے کرکے حرم مقدس پہنچ چکے ہیں….. ان لوگوں میں بادشاہ‘ فقیر‘ وزیر‘ امیر‘ دولت مند و حاجت مند‘ غنی و گداگر ‘ شہریارو شہسوار‘ تاجدارو چوبدار‘ فرماں رواو بے نوا‘ نیاز مندو درد مند‘ تاجر و آجر‘ نادم و رند‘ عالم و عامی‘ کالے اور گورے‘ عربی و عجمی‘ مشرقی و مغربی‘ آقا و غلام‘ مردوزن‘ بچے‘ بوڑھے‘ توانا و ناتواں‘ طاقتور و ضعیف سبھی شامل ہیں….. مگر ان سب کے جسموں پہ ایک جیسا لباس ہے اور ایک ہی منزل ہے….. جس کی جانب یہ خوش قسمت لوگ کشاں کشاں بڑھتے چلے آتے ہیں اور ایک ہی ترانہ ہے جو ان کی زبانوں پر مچل رہا ہے۔
لبیک اللھم لبیک….. لبیک لاشریک لک لبیک….. ان الحمد والنعمۃ لک والملک لاشریک لک….. لبیک اللھم لبیک
’’اے اللہ ہم حاضر ہیں….. اے اللہ ہم حاضر ہیں….. آپ کا کوئی شریک نہیں اور ہم آپ کے دربار میں حاضر ہیں….. بے شک تمام ستائشیں آپ ہی کیلئے ہیں‘ سب نعمتیں آپ کی ہیں اور سارا جہاں آپ کا ہے….. آپ کا کوئی شریک نہیں….. اے اللہ ہم حاضر ہیں‘ اے اللہ ہم حاضر ہیں۔‘‘(جاری ہے)