(گزشتہ سے پیوستہ)
آج جب فرزندان توحید بیک زبان ہو کر یہ ترانہ پڑھ رہے ہوں گئے تو ان کی آنکھوں سے آنسوئوں کی جھڑی لگی ہوگی‘ ان پر ایک وارفتگی کا عالم طاری ہوگا۔ وہ رو رو کر اپنے رب کو منا رہے ہوں گئے ….. کیوں‘ اس لئے کہ یہی وہ دستور ہے جس پر انسانیت کی بنیاد رکھی گئی تھی‘ یہی وہ منشور ہے جس پر عمل پیرا ہونے کی اولاد آڈم کو تلقین کی گئی….. یہی وہ قانون ہے جس پر نظام کائنات استوار ہے‘ یہی وہ لائحہ عمل ہے جس پر چل کر انسان کامیابی کی منازل پاسکتاہے‘ یہی وہ اعلان ہے جو ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہ السلام نے کیا تھا‘ یہی وہ جذبہ ہے جو ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہ کرامؓ کی مقدس جماعت میں موجود تھا‘ یہی وہ فکر ہے کہ جو انسان کو پستیوں سے نکال کر اوج ثریا کی بلندیوں تک پہنچا دیتی ہے….. یہی وہ مذہب ہے جو ہر امت کو عطا فرمایا گیا۔ یہی وہ مقدس پیغام ہے کہ جو صادق المصدوق پیغمبرﷺ حراء سے لیکر سوئے قوم آئے اور اس پیغام حق کو سنانے کے جرم میں پیغمبر رحمتﷺ کو مشرکین مکہ نے کبھی پتھر مار مار کر لہولہان کر دیا….. کبھی آپؐ کے جسم اطھر پر کوڑا کرکٹ پھینکا گیا‘ کبھی آپؐ کی گردن مبارک پر گندی اوجھڑی رکھ دی گئی….. کبھی آپؐ کے راستے میں کانٹے بچھائے گئے‘ کبھی آپؐ کے کاشانہ نبوتؐ کو ننگی تلواروں سے مسلح کافروں نے گھیر کر آپؐ کو شہید کرنے کی ناپاک کوششیں کیں اور کبھی آپؐ کے یاسرؓ کو مارا گیا‘ آپ کے عمارؓ کو تڑپایا گیا‘ آپ کے بلالؓ کو جلتے کوئلوں پر گھسیٹا گیا….. آپ کے حارثؓ کو مار مار کر شہید کر ڈالا گیا….. آپؐ کے خبابؓ کو نوکیلے پتھروں پر گھسیٹا گیا‘ کبھی آپ کی نام لیوا سیدہ سمیہ ؓ کی ٹانگیں توڑ دی گئیں….. اور کبھی سیدہ زنیرہؓ کی آنکھیں نکال دی گئیں یہی وہ اٹل فیصلہ ہے جسے ماننے والا مسلمان اور نہ ماننے والا کافر کہلایا….. یہی وہ صدا ہے جو چودہ سو سال سے اسی طرح بلند ہو رہی ہے اور اس صدا کو چودہ سو سال میں اربوں مسلمان دل کی گہرائیوں سے بلند کر چکے ہیں….. کوئی یہ مت سمجھے کہ وہاں تو صرف تیس لاکھ حاجی پہنچتے ہیں‘ رب کعبہ کی قسم! دنیا کا کوئی مسلمان ایسا نہیں ہے جو وہاں جانے کے لئے تڑپتا نہ ہو‘ آب زم زم کے لئے ترستا نہ ہو….. کیونکہ محبت کرنے والوں کے دل اپنے محبوب کے گھر کے ساتھ معلق رہتے ہیں‘ جب بھی ان کے سامنے بیت اللہ کا ذکر کیا جائے تو تڑپ جاتے ہیں اور جب وہ بیت اللہ سے دوری کا سوچتے ہیں تو ان کے آنسو بہہ جاتے ہیں‘ عربی کا شاعر روتے ہوئے کہتا ہے ۔
ترجمہ: ’’ریت کا ذکر نہیں کیا جاتا مگر پردیسی تڑپ جاتا ہے کہ اس کا وطن ریگستان ہے‘ میرا دل البان (درختوں) کی طرف پہنچنے کو چاہتا ہے مگر میں ان (درختوں) سے دور ہوں‘ اب یہاں ایسا کون ہے کہ جس کے گھر البان ہے۔‘‘
کتابوں میں لکھا ہے کہ ایک صالح مرد نے حاجیوں کے قافلے کو نکلتے دیکھا تو وہ کھڑے ہو کر رونے لگے اور کہنے لگے ہائے کمزوری‘ پھر اس بات پر انہوں نے یہ شعر پڑھا…..’’میں نے کہا مجھے اپنے اور میرے پیروکاروں کو اپنی سواریوں کے پیچھے بٹھا لو تاکہ میں تمہاری خدمت کروں جیسا کہ ایک غلام کرتا ہے۔‘‘
پھر انہوں نے آہ بھر کر کہا کہ یہ حسرت ہے اس شخص کی جو بیت اللہ پہنچنے سے رہ گیا….. تو اس شخص کی حسرت کا کیا حال ہوگا جو رب البیت کے پاس پہنچنے سے رہ جائے….. جو شخص و اصلین کو دیکھتا ہے اور خود اس مقام تک پہنچنے سے قاصر ہے تو اس کو چاہیے کہ افسوس کرے اور جو پیچھے رہ جانے والا شخص قافلے والوں کو دیکھتا ہے کہ وہ سب محبوب کے دربار میں جارہے ہیں تو اسے لائق ہے کہ غم کرے اور عربی کے شاعر نے دریار حبیبؐ نہ جانے کے غم کو یوں بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔
ترجمہ: ’’اے سرخ بالوں والے سفید اونٹوں کو چلانے والے ذرا نرمی کر اور میری بات کو غور سے سن! کہ میری جانب سے وہاں سلام پہنچا دینا‘ ان کے پاس میرا تذکرہ کر دینا شاید وہ تمہاری بات سنیں اور میرے سوال پر غور کریں….. ان سے کہہ دینا کہ تمہارا فلاں عاشق تمہاری طرف آنے سے رکا پڑا ہے اور ہر طرح اس کا دل آنے کو تڑپ رہا ہے….. وہ کہہ رہا ہے کہ میں نے تو ارادہ کیا تھا کہ آپؐ کی زیارت کروں گا….. قافلے والوں کے پاس آنے سے میری محرومی نے بٹھا دیا….. میں نے ارادہ کیا کہ آپؐ کے پاس پہنچ جائوں مگر کامیاب نہ ہوسکا۔‘‘
آخر سفر حج پر جانے کی دوڑ کیوں لگی ہوئی ہے‘ ہر مسلمان کی تمنا کیوں ہوتی ہے کہ وہ مکہ اور مدینہ کی زیارتوں سے مستفید ہو جائے‘ گرمی‘ سردی‘ موسم کی سختیوں‘ سفر کی صعوبتوں اور اخراجات میں اضافے کے باوجود مسلمان مردوزن اس لئے حجاز کی مشبکور فضائوں میں امڈتے چلے آتے ہیں‘ کہ انہیں اس کا حکم ان کے خالق و مالک نے دے رکھا ہے‘ حج اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے اور سفر حج کا بہترین توشہ ’’تقویٰ‘‘ قرار دیا گیا ہے۔
(جاری ہے)