(گزشتہ سے پیوستہ)
پیغمبر رحمتﷺ ارشاد فرماتے ہیں….. جس نے بیت اللہ کا حج کیا اور کوئی بے حیائی اور گناہ کی بات نہ کی تو وہ ایسے ہوگا جیسا کہ اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا یعنی کہ اللہ رب العزت اس کے تمام گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں۔ حضرت عطا فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے جس دن عرفہ روانہ ہونا تھا تو صبح کی نماز منیٰ میں ادا فرمائی۔ پھر عرفات تشریف لے گئے….. آپؐ کی سواری پر جو کپڑا بچھا ہوا تھا اسے صرف چار درہم میں خریدا گیا تھا….. آپؐ دعا فرما رہے تھے۔ اے اللہ اس حج کو حج مبرور و مقبول بنا دیجئے‘ جس میں کوئی ریاء اور شہرت نہ ہو….. عبداللہ بن حارث فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ ایک سواری پر سوار ہوئے….. اس نے ہلنا جلنا شروع کر دیا۔ آپؐ نے اللہ کیلئے تواضع فرمائی‘ اور فرمایا لبیک عیش تو بس آخرت کا عیش ہے…. حاجیوں کے لئے یہ بات نہایت ضروری ہے کہ وہ ساتھ ساتھ اپنا محاسبہ بھی کرتے رہیں….. کہ کہیں ان کے اعمال میں دکھلاوا اور ریاکاری شامل نہ ہو جائے۔ اس لئے کہ ریا کاری اور دکھلاوا وہ موذی مرض ہے کہ جو نیکیوں کو جلا کر خاکستر کر دیتا ہے….. ایک تابعی فرماتے ہیں کہ بعض احرام باندھنے والے یہ کہتے ہیں کہ لبیک اللھم لبیک پس اللہ تعالیٰ ان کے جواب میں فرماتے ہیں لالبیک ولا سعدیک ھذا مردود علیک….. ان سے پوچھا گیا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے….. جواب دیا کہ شاید وہ لوگ اپنی اونٹنی کو پانچ سو درہم اور کجاوے کو دو سو درہم میں خریدتے ہیں پھر جب وہ اپنی اونٹنی پر سوار ہوتے ہیں اور سر کو کنگھی کرتے ہیں اور اپنے دائیں بائیں دیکھتے ہوئے اکڑ کر چلتے ہیں تو ان تمام چیزوں میں تفاخر اور اترانا پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کے حج کو رد کر دیا جاتا ہے اسی وجہ سے حاجی کیلئے مستحب ہے کہ وہ بکھرے بالوں والا اور غبار آلود ہو‘ یوم عرفہ کو اللہ تبارک وتعالیٰ فرشتوں کے سامنے اپنے بندوں پر فخر کرتے ہوئے فرماتے ہیں میرے بندوں کو دیکھو کہ میرے پاس بکھرے بال‘ غبار آلود پسینے میں تر آتے ہیں….. تم گواہ رہو کہ میں نے ان کی معفرت کر دی‘ حضرت عمر فاروقؓ مکہ کے راستے میں یہ کہتے ہوئے جارہے تھے کہ تم بکھرے بالوں والے ہو‘ تم غبار آلود ہو‘ نفل ادا کر رہے ہو اور قربانیاں کر رہے ہو‘ ان تمام اعمال سے تمہاری غرض دنیا حاصل کرنا نہیں ہے….. پاک ہے وہ ذات جس نے بیت اللہ‘ مسجد حرام کو لوگوں کے لئے جائے ثواب اور باعث امن بنایا۔ لوگ آتے ہیں اور جاتے ہیں اور اپنے مطلب حاصل کرتے ہیں‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس گھر کی نسبت اپنی ذات کی طرف فرمائی ہے اور اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا ہے:
’’اور پاک رکھ میرا گھر طواف کرنے والوں کے واسطے‘ سیدنا عبدالرزاقؒ نے اپنی سند سے حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی نے ان سے حج کے بارے میں پوچھا تو فرمایا….. حاجی اپنی قوم کے چار سو گھروں کی شفاعت کر سکے گا اور جس اونٹ پر اس نے حج کیا ہے اس اونٹ کے اوپر چالیس پیڑیوں تک اسی اونٹ کی مائوں کو برکت عطا فرما دی جاتی ہے….. اور اپنے گناہوں سے وہ ایسے نکل آتا ہے جیسا کہ وہ اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے کے دن تھا ایک آدمی کہنے لگا اے ابو موسیٰ ؓ میں حج کا ارادہ کرتا ہوں لیکن بوڑھا اور کمزور ہوگیا ہوں‘ تو کیا کوئی ایسی چیز ہے جو حج کا بدلہ ہوسکے اس کے جواب میں انہوں نے فرمایا کہ کیا تیرے اندر اتنی گنجائش ہے کہ تو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ستر غلام یا لونڈیوں کو آزاد کر دے….. پھر فرمایا کہ احرام سے نکلنے اور کوچ کرنے کا میں کوئی بدل نہیں پاتا….. ان سے کسی نے دریافت کیا کہ حضرت فرض حج ادا کرنے کے بعد حج افضل ہے یا صدقہ….. آپ نے فرمایا کہ احرام اتارنا اور وحیل یعنی کوچ کرنا کہاں گیا‘ شب بیدار رہنا اور تھکنا کہاں ہوگا؟ بیت اللہ کا طواف بھی تو ہے پھر وہاں کی نمازیں‘ عرفہ کا وقوف اور شیطان پر کنکریاں پھینکنا اتنی ساری عبادتیں صدقے میں تو نہیں ہیں‘ گویا کہ صدقے سے حج ہی افضل ہے…..
آج انسانوں کا سمندر جو خراماں خراماں اپنے رب کو راضی کرنے کے لئے بیت اللہ میں جمع ہے وہ اس بات کا اظہار ہے کہ مسلمان کسی رنگ‘ کسی نسل‘ کسی خطے‘ کسی قبیلے‘ کسی کنبے‘ کسی زبان اور کسی علاقے کا بھی کیوں نہ ہو وہ سب بیت اللہ کے میناروں کے سائے میں سب ایک ہیں….. مسلمان امت بکھرے ہوئے ریوڑ کا نام نہیں بلکہ مضبوط اور متحد ایک ’’جسم‘‘ کا نام ہے….. مسلمانوں کو یہود و نصاریٰ فرقوں‘ لسانی‘ صوبائی تعصبات‘ گروہی اور سیاسی نعروں کی بنیاد پر تقسیم کرنے کے جتنے مرضی منصوبے بنالیں‘ جتنی مرضی سازشیں کرلیں‘ لیکن یہود و نصاریٰ کی یہ سازشیں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتیں۔ آج کے دن بیت اللہ کے گرد جمع ہونے والوں میں نہ کوئی فرقہ واریت ہے‘ نہ لسانی اور صوبائی گروہ بندی‘ نہ کوئی سیاسی تقسیم ہے‘ اور نہ ہی سرحدات کی تقسیم… بلکہ آج ساری کائنات کے مسلمان ایک ہی لباس میں ایک ہی طرف منہ کرکے ترانے گا رے ہیں۔
لبیک اللھم لبیک
اے اللہ ہم حاضر ہوں‘ ہماری جان و مال‘ ہماری دولت‘ ہمارے گھر بار‘ ہماری آل اولاد سب کچھ حاضر ہے آپ کے نام کی سربلندی کیلئے ‘ آپ کے دین کی حفاظت کیلئے ‘ آپ کے پیغمبرﷺ کی اطاعت کیلئے آپ کے بندوں کی خدمت کے لئے اے اللہ ہم حاضر ہیں۔