Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

اخلاق کا عظیم مقام

اتباع،محبت کی سب سےبڑی علامت اورمحبت کی ترقی میں قومی تاثیر رکھتی ہے ، اتباع کا محبت کی علامت ہونا تو عیاں اورظاہر ہے، کیونکہ محبت کرنے والا ہمیشہ اپنے محبوب کی موافقت کرتا ہے، وگرنہ وہ اپنے دعویٰ محبت میں جھوٹا ثابت ہو گا اور اتباع محبت میں موثر ہے تو اس لئے کہ مومن رسول اللہﷺ کی لائی ہوئی تعلیمات کے جمال اور کمال کو عملی طورپر محسوس کرتاہےاورتجربہ سےاس میں ایک ذوق پیداہوجاتاہے،اس سے رسول اللہﷺ کی محبت میں اضافہ ، اس کے نتیجے میں اللہ تعالی اور رسول اللہﷺ کا اسے قرب اور محبوبیت حاصل ہوتی ہے۔اللہ کے ساتھ سچی محبت کے دعویٰ کو پرکھنے کےلئے اللہ نے اپنے نبی ﷺ کے اتباع کو معیار بنایا ہے۔ ارشاد باری ہے۔ ترجمہ : ’’آپ ان سے کہہ دیں ، اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو ، اللہ تم سے محبت کرے گا‘‘۔(آل عمران :31) قرآن کریم سے محبت: قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، حضرت محمدﷺ کی نبوت کا ثبوت اسی سے ہے، آپﷺ نے قرآن کریم کے ذریعے مخلوق کو حق کی راہ بتائی ہے اور اس کے بتائے ہوئے اخلاق کو پورا پورا اپنایا ہے ، یہاں تک کہ آپﷺ مخلوق میں سب سے اعلیٰ اخلاق پر فائز ہو گئے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے۔ ترجمہ : بے شک آپ اخلاق کے عظیم مقام پر ہیں۔(القلم : 4 ) اب آپ قرآن کریم کے ساتھ اپنے دل کی محبت کا امتحان لیجئے، اوراس کے سننے سے جو آپ کو لذت حاصل ہوتی ہے، اس کاامتحان لیجئے، کہ کیا قرآن کریم سننے کی لذت گانےباجے سننے کی لذت سے زیادہ ہے؟ اگر معاملہ ایساہی ہے تو آپ سمجھ لیجئے کہ آپ قرآن کریم کی محبت میں سچے ہیں، کیونکہ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ جب کوئی شخص کسی سے محبت کرتا ہے، اس کےنزدیک تو اس کی باتیں،اس کا کلام ، سب سے زیادہ محبوب ہوتاہے،اورایسی محبت قرآن کریم سےکیوں نہ ہو، جبکہ وہ اپنے الفاظ اور معانی کے اعتبار سے حق کی تجلیات پر مشتمل ہیں، جس کے بیان کے جمال اور نظم کے کمال نے انسانوں اور جنوں کو اس کی مثل لانے سے عاجز کر دیاہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے روح سے تعبیر فرمایا ہے، ارشاد باری ہے۔ترجمہ:’’اور اسی طرح بھیجا ہم نے تیری طرف ایک فرشتہ اپنے حکم سے۔‘‘ (الزخرف ، آیتہ، 52 )
جس طرح روح اجساموں کے لئے حیات اور زندگی کا سبب ہے ، اسی طرح قرآن کریم تمام ارواح کی روح کی حیات اور زندگی کا سبب ہے ، لہٰذا ایک محب اپنے محبوب کے کلام سے کیسے سیر ہو سکتا ہے جبکہ وہ محبوب ہی اس کا مطلوب و مقصود ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کیا خوب فرمایا : ’’اگر ہمارے دل پاک و صاف ہوتے تو ہم اللہ تعالیٰ کے کلام سے کبھی سیر نہ ہوتے۔‘‘ آپﷺ کی سنت سے محبت ، اور آپ کی حدیث پڑھنا، محبت کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ محب اپنے محبوب کے ساتھ ہر چیز میں موافقت اور اتفاق کرے۔ لہٰذا نبی کریمﷺ سے محبت کا تقاضا ہے کہ آپ کی سنت اور طریقہ کی اتباع کی جائے اور جو شخص خود اس سنت کو معلو م کرنے پر قادر نہیں، اسے چاہیے کہ جو اس کا عالم ہے اس سے پوچھے، اسی طرح رسول اللہﷺ کے کلام کا حال ہے، جو ایسے محبوب کا کلام ہے جو افضل البشر ہے ، اور وہ سب سے بہتر کلام ہے جو کسی انسان کی زبان سے نکال ہے، یہ کلام معنی کے اعتبار سے خوبصورت اور الفاظ کے اعتبار سے نہایت عمدہ ہے ، اگر آپ اس درجہ تک نہیں پہنچ سکتے تو آپ اسے غور سے سنیں اور ایسی مجلس میں جائیں جہاں آپ ﷺ کی حدیث پڑھی جاتی ہو، اب آپ خود فیصلہ کریں کہ حدیث کی ان مجالس اور ان حلقوں سے آپ کی کیا نسبت ہے؟آپ ﷺ کی سیرت اور شمائل سے محبت: یہ محبت کا طبعی تقاضا ہے کہ محب اپنے محبوب کو پہچانے ، آپﷺ کی سیرت اور شمائل ہی آپﷺ کی ذات کی پہچان کرائیں گے۔ اور آپ کی سیرت اور شمائل کے اعتبار سے جتنا آپ کے علم میں اضافہ ہو گا اتنا ہی آپﷺ کے ساتھ آپ کی محبت میں اضافہ ہو گا ، کیونکہ آپﷺ کے کمالات کے علم کے بعد آپ کی معرفت میں اضافہ ہو گا۔ اور پھر آپ کو آپ ﷺ کی محبت میں کمال حاصل ہو گا اور آپﷺ کی روحانیت شریفہ آپ کے دل پر چھا جائے گی، پھر اللہ تعالیٰ، آپﷺ کی روحانیت شریفہ کو آپ کے لئے استاذ معلم ، شیخ اور مقتدی بنا دیں گے، جیسا کہ اللہ نے آپﷺ کو اپنا نبی اپنا رسول اور اپنا ہادی بنایا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایک مومن محب کے لئے ضروری ہے کہ وہ آپﷺ کی سیرت، آپ کے ابتدائی حالات، آپ پر وحی کے نزول کی کیفیت کا علم ، آپ ﷺ کی صفات ، اخلاق، حرکات و سکنات، آپ کے جاگنے اور سونے ، اپنے رب کی عبادت کرنے ، گھر والوں کے ساتھ حسن معاشرت، صحابہ کرام ؓکے ساتھ آپ کا کریمانہ معاملہ اور اس طرح کے دوسرے امور کو پہچانے اور ان کا علم حاصل کرے اور ایسا ہو جائے گویا وہ آپﷺ کے ساتھ آپ کے صحابہؓ میں سے ایک ہے۔آپ ﷺ کا ذکر خیر کثرت سے کرنا ،اور جب بھی آپ کا ذکر آئے آپ کی تعظیم کرنا۔
بعض بزرگوں کا قول ہے کہ ’’محبت نام ہے محبوب کو ہر وقت یاد کرنے کا‘‘اور تمام عقلا کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جو شخص کسی سے محبت کرتا ہے تو وہ اس کا ذکر بار بار کرتا ہے اور آپﷺ کے ذکر کے ساتھ آپ کی تعظیم میں یہ بھی شامل ہے کہ آپﷺ کے لئے ’’سیدنا‘‘ استعمال کیا جائے، اور آپ کے نام کے ذکر کرنے یا سننے کے وقت خشوع و خضوع کا اظہار کیا جائے اور یہ بہت سے صحابہ کرام ؓ اور ان کے بعد آنے والے حضرات سے ثابت ہے۔ آپ ﷺ سے ملنے کا انتہائی شوق، ہر محب اپنے محبوب سے ملنے کامشتاق ہوتا ہے، تو نبی کریمﷺ کے ساتھ محبت کرنے والے کا کیا حال ہو گا ، وہ چاہتا ہے کہ آپﷺ کو خواب میں دیکھے اور آخرت میں آپ کی ذات سے ملاقات ہو ، اسی لئے لوگوں نے یہاں تک کہہ دیاہے کہ ’’محبت تو محبوب کے اشتیاق کا نام ہے۔‘‘ اس سلسلہ میں ایک مشہور واقعہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا ہے کہ جب ان کو موت کا استحضار ہوا تو ان کی بیوی کی زبان سے پریشانی کی حالت میں یہ الفاظ نکلے ، ہائے میر ا گھر ویران ہو گیا، تو اس کے جواب میں حضرت بلال رضی اللہ نے فرمایا: ترجمہ : او میری خوشی، کل میں اپنے محبوبوں سے ملوں گا ، حضرت محمدﷺ اور آپ کے صحابہ سے‘‘

یہ بھی پڑھیں