(گزشتہ سےپیوستہ)
حرم کی حدود میں کچھ حصہ مِنٰی کا بھی ہے اور کچھ حصہ مزدلفہ کا بھی ہے۔ وہ کہتے تھے کہ عرفات تک وہ لوگ جائیں جو باہر سے آئے ہیں اور جو غیر قریش ہیں۔ اس لیے باقی لوگ تو عرفات چلے جاتے تھے لیکن قریش والے حرم کی حدود میں رہتے تھے۔ یہ ان کا ایک امتیاز اور برتری سمجھی جاتی تھی۔ بخاری کی روایت ہے کہ جبیر ابن مطعمؓ جو طائف کے رہنے والے تھے، ان کے والد مطعمؓ ابن عدی وہی ہیں جنہوں نے حضورؐ پر طائف میں پتھراؤ کے بعد راستے میں آپؐ کو پناہ دی تھی۔ جبیر ابن مطعمؓ کہتے ہیں کہ میرے اونٹ گم ہو گئے تھے، میں اونٹوں کی تلاش میں عرفات تک آیا تو لوگ حج کر رہے تھے۔ وہاں عرفات کے میدان میں ایک خیمے کے متعلق مجھے معلوم ہوا کہ وہ خیمہ حضرت محمد رسول اللہؐ کا ہے۔ جبیرؓ کہتے ہیں کہ مجھے بڑا تعجب ہوا کہ وہ تو قبیلہ قریش میں سے ہیں اور ہاشمی ہیں، وہ یہاں کیا کر رہے ہیں! ان کا مقام تو حرم کی حدود کے اندر تھا اور انہوں نے تو عرفات میں نہیں آنا تھا۔
چنانچہ یہ قریش کے امتیاز کی جو رسم تھی قرآن مجید نے اس کو توڑا اور قریش کو حکم دیا کہ ’’ثم افیضوا من حیث افاض الناس واستغفروا اللہ۔ ان اللہ غفور الرحیم‘‘ (البقرہ ۱۹۹) پھر تم بھی وہیں سے لوٹ کر (عرفات کا وقوف کر کے) واپس آؤ جہاں سے لوگ لوٹ کر آتے ہیں اور اللہ سے بخشش مانگو۔ بے شک اللہ معاف کرنے والا اور مہربان ہے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیجئے کہ اللہ رب العزت نے اس حوالے سے اونچ نیچ اور برتری کا تصور اور وی آئی پی سسٹم ختم کر دیا۔ لباس کے معاملے میں بھی ختم کیا اور عرفات کی حاضری کے معاملے میں بھی ختم کیا۔ چنانچہ نبی کریمؐ جو قبیلہ قریش میں تھے اور ہاشمی تھی، آپؐ خود عرفات تشریف لے گئے اور سارے صحابہ کرامؓ نے عرفات میں وقوف کر کے حج ادا کیا۔ اس طرح یہ بھی حج کے نظام میں ایک بڑی تبدیلی تھی۔
حضورؐ نے قرآن مجید کے حوالے سے حج کے نظام میں ایک تبدیلی مزید کی۔ ہوتا یوں تھا کہ جاہلیت کے زمانے میں مکہ اور اس کے گرد و نواح کے لوگ اپنے گھروں سے احرام باندھ کر آتے تھے تو وہ حج کے ختم ہونے تک اپنے گھروں میں واپس جانا معیوب سمجھتے تھے۔ لیکن انہیں اگر کسی مجبوری کے تحت اپنے گھروں کو جانا پڑ جاتا تو اس کے لیے انہوں نے ایک حل نکال رکھا تھا۔ وہ گھر کے مرکزی دروازے کے بجائے گھر کے پیچھے سے دیوار پھلانگ کر یا نقب لگا کر کسی طریقے سے گھر میں داخل ہوتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ ہم گھر کے جس دروازے سے احرام باندھ کر نکلے ہیں جب تک حج پورا نہیں ہو جاتا ہم اس دروازے سے گھر میں داخل نہیں ہوں گے۔ قرآن مجید نے اس سے بھی منع فرما دیا ’’ولیس البر بأن تأتوا البیوت من ظہورھا ولکن البر من اتقی وأتوا البیوت من أبوابہا، واتقوا اللہ لعلکم تفلحون‘‘ (البقرہ ۱۸۹) اور نیکی یہ نہیں ہے کہ تم گھروں میں ان کی پشت کی طرف سے آؤ، اور لیکن نیکی یہ ہے کہ جو کوئی اللہ سے ڈرے، اور تم گھروں میں ان کے دروازوں سے آؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ گھروں میں دروازوں سے داخل ہو، یہ دروازے اسی لیے ہیں۔ کوئی حرج کی بات نہیں ہے اور اس سے احرام یا حج پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اگر ضرورت پڑے تو اپنے گھروں میں جا سکتے ہو لیکن سیدھے دروازے سے داخل ہو کر۔
حضورؐ نے مکہ مکرمہ میں حاضری کے لیے جب احرام کی پابندی لگائی کہ حج یا عمرہ کے لیے احرام باندھ کر آؤ تو حرم کے چاروں طرف سے میقات کی حدود کا تعین کر دیا۔ یہ حدود جاہلیت کے زمانے میں نہیں تھیں۔ مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ، عراق والوں کے لیے ذات العرق، اہل نجد والوں کے لیے قرن، شام کی طرف سے آنے والوں کے لیے جحفہ، اور یمن وغیرہ کے علاقوں کی طرف سے یلملم۔ حضورؐ نے حج و عمرہ کے لیے احرام باندھ کر آنے کو لازم قرار دیا اور اس کے ساتھ یہ حدود متعین کیں کہ حرم کے اردگرد اِن جگہوں سے آگے تم احرام کے بغیر نہیں آسکتے۔ یہ حضورؐ نے میقات مقرر فرمائے اور اس کے ساتھ احرام کی پابندیاں اور احرام کے مسائل و احکام متعین کیے کہ خوشبو کا استعمال نہیں ہوگا، میاں بیوی کا باہمی تعلق نہیں ہوگا وغیرہ۔ ان کے علاوہ دیگر پابندیاں بھی عائد کیں جو حج و عمرہ کی کتابوں میں تفصیل سے مذکور ہیں۔ چنانچہ حضورؐ نے حج کے نظام میں یہ ایک بڑی تبدیلی کی جس سے حج ایک ڈسپلن اور سسٹم کے تحت چلنے لگا۔
جاہلیت کے زمانے کے حج میں یوں ہوتا تھا کہ لوگ عرفات سے دن کی روشنی میں ہی مزدلفہ کے لیے چل پڑتے تھے، جبکہ مزدلفہ سے صبح سورج نکلنے کے کافی عرصہ بعد منٰی جاتے تھے۔ حضورؐ نے اس سے منع فرمایا اور یہ متعین کیا کہ عرفات سے مزدلفہ کے لیے غروب آفتاب کے بعد نکلو اور دو نمازیں مزدلفہ میں اکٹھی پڑھو۔ اور پھر مزدلفہ سے منٰی جانے کے لیے طلوع آفتاب سے پہلے نکلو۔ حضورؐ نے اس پرانے طریقے سے منع فرما دیا کہ جس کے مطابق لوگ سورج غروب ہونے سے پہلے عرفات سے نکلتے تھے اور سورج طلوع ہونے کے بعد مزدلفہ سے نکلتے تھے۔ چنانچہ یہ اصلاح اور تبدیلی بھی حضورؐ نے فرمائی۔
ایک تبدیلی قرآن مجید نے مزید ذکر کی جو کہ دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک سہولت ہے ’’لیس علیکم جناح ان تبتغوا فضلا من ربکم‘‘ (البقرہ ۱۹۸) تم پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ (حج کے دِنوں میں) اپنے رب کا فضل (معاش) تلاش کرو۔ جاہلیت کے دور میں قبائل میں یہ بات عام تھی کہ لوگ جب حج کے لیے آتے تھے تو حج کے دوران کوئی خرید و فروخت اور بیع و تجارت وغیرہ نہیں کرتے تھے۔ حج کے ایام میں اور حج کے دوران یہ بیع شراء کو جائز نہیں سمجھتے تھے۔ لیکن حج سے فارغ ہو کر پھر بڑے بڑے میلے لگتے تھے، عکاظ کا میلہ لگتا تھا، ذوالمجنہ کا میلہ لگتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ کوئی حرج کی بات نہیں ہے، تجارت کو مقصد بنا کر مت جاؤ لیکن اگر کسی چیز کی خرید یا فروخت کی ضرورت پڑ جاتی ہے تو حج کے دوران اللہ کا فضل تلاش کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حج کے نظام کے متعلق یہ چند اصلاحات جو میرے مطالعہ میں آئیں وہ میں نے آپ حضرات کے سامنے قرآن و حدیث کے حوالے سے ذکر کی ہیں۔ حج کے حوالے سے ایک اور بات میں یہاں عرض کرنا چاہوں گا کہ حج کے شرعی تقاضوں کے علاوہ ایک اور تقاضہ بھی ہے، اور وہ ہے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ اطہر پر حاضری۔ اگرچہ یہ حج کے مناسک کا حصہ نہیں ہے، لیکن بہرحال یہ حج کے سفر کے تقاضوں میں سے ہے۔ حضورؐ کی ایک روایت کا مفہوم بھی یہ ہے کہ جو بیت اللہ کے لیے آئے وہ مجھ سے ملنے کے لیے بھی آئے۔ ایک مسلمان کے لیے یہ بات ویسے بھی قابل تصور نہیں ہے کہ وہ بیت اللہ میں تو جائے لیکن مسجد نبوی میں حاضری دیے بغیر اپنے ملک، اپنے گھر واپس آجائے۔ آج کے دور میں جو حج ہوتا ہے اس میں حاجی حضرات یہ دو تصور لے کر جاتے ہیں کہ بیت اللہ کا طواف کریں گے اور روضۂ رسول پر حاضری دیں گے۔ چنانچہ مسلمان دنیا بھر سے حج و عمرہ کے لیے جاتے ہیں اور وہ حج سے پہلے یا بعد میں مسجد نبوی میں حاضری دیتے ہیں، وہاں نمازیں پڑھتے ہیں، روضۂ اطہر کے سامنے صلوٰۃ و سلام کہتے ہیں، جو کہ بڑے ثواب و اجر کی بات ہے۔ کچھ لوگ تو روضۂ رسول پر حاضری کو باقاعدہ حج کا منسک ہی سمجھتے ہیں، جو کہ شرعی منسک تو نہیں ہے لیکن بہرحال آداب کے تقاضوں میں سے ہے۔ یہ بڑی خوش نصیبی کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو اپنے گھر اور حضورؐ کے روضۂ اطہر کی حاضری کی سعادت دیں۔
ہماری دعا ہے کہ جو حضرات حج کے لیے حرمین شریفین پہنچے ہوئے ہیں یا پہنچنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی حاضری اور حج قبول فرمائیں، اور ہمیں بلکہ سب مسلمانوں کو بار بار حاضری کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔