جس روز پاکستان میں سالانہ بجٹ پیش ہوا میں کوپن ہیگن میں تھا۔وقتی فرق اور سیاحتی مصروفیات کے باعث بجٹ تقریر نہ سن سکا ۔ سوچا انٹرنیٹ پہ دستیاب پاکستانی اخبار سے تفصیلات جان لیتے ہیں ۔ اخبار کی شہ سرخیاں پڑھتے نظر ایک کالم پہ رک گئی جس میں ڈنمارک کا ذکر تھا ۔یعنی وہ ملک جہاں میں اس وقت موجود تھا ۔ لہٰذا اس بارے خبر سے متجسس ہونا فطری امر تھا۔ مزید برآں میں پہلے ہی ڈنمارک بارے معلومات اکٹھی کر رہا تھا۔وہاں کی تہذیب و تمدن اور ترقی کے سفر کو جاننے کی جستجو میں تھا۔ کالم میں کچھ ڈنمارک بارے حقائق تھے ۔ جنھیں پڑھ کر خوشگوار حیرت ہوئی ۔ میرے لئے ڈنمارک بارے رائے بنانا بھی مزید آسان ہو گیا ۔متذکرہ کالم میں جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے دو مسلم پروفیسرز کے تخلیق کردہ ایک انڈکس سسٹم کی جامع تفصیل تھی ۔ درج ذیل چار نکات پہ مبنی اس سسٹم کی کسوٹی پر دنیا کے تمام مسلم اورغیر مسلم ممالک کو پرکھا گیا تھا ۔
-1 قرآن و حدیث سے معاشی اصولوں کی مطابقت ۔-2 اسلامی قوانین اور گورننس کے اصول و ضوابط۔ -3 انسانی و سیاسی حقوق ۔-4 اسلامی اقدار کے مطابق دوسرے ممالک سے تعلقات کی نوعیت۔
اس سروے نما سسٹم کے مطابق ڈنمارک دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس نے تمام شرائط پوری کرکے پہلی پوزیشن حاصل کی ہے ۔ اتفاق سے میں یہ سطریں بھی ڈنمارک کے شہر کوپن ہیگن ہی میں بیٹھ کر لکھ رہا ہوں ۔ اس ملک کی تہذیب و تمدن کے مختلف رنگ اور پہلو ہیں ۔جن کا احاطہ کے لئے کالم کی تنگ دامنی عاجز ہے ۔ تاہم کچھ اہم اور سبق آموز حقائق پر روشنی ڈالنے کی عاجزانہ جسارت کرتے ہیں ۔
یہاں کی اک مشہور کہاوت ہے کہ ڈنمارک کسی کو غریب رہنے دیتا ہے نہ آسانی سے امیر ہونے دیتا ہے ۔امیر ہونے کی آرزو کسی خواب سے کم نہیں ۔جس کی تعبیر کیلئے محنت کے ساتھ کچھ منفرد کرنا پڑتا ہے۔ جس میں ٹیکسوں کے سخت ترین جال سے بچائو کی ترکیب وغیرہ شامل ہے۔ آپ جتنی بھی دولت اکٹھی کر لیں اس پر ساٹھ فیصد ٹیکس دینا ہی پڑتا ہے۔ جب کمائی ہوئی دولت کا محض چالیس فیصد آپ کے پاس بچے گا تو اس قدر مہنگے ملک میں آپ کا امیر ہونا کوئی آسان کام نہیں ۔بہت محنت طلب اور پیچیدہ معاملہ ہے ۔ اس کی بنیادی شرائط اور تقاضوں کو ہر کوئی پورا کر سکتا ہے نہ امارت کی مطلوبہ سطح پر پہنچ سکتا ہے ۔ امیر و متمول شہریوں سے جمع کردہ ٹیکس حکومت کم مراعات یافتہ شہریوں میں بانٹ دیتی ہے ۔جس کی بدولت کوئی چاہے بھی تو غریب نہیں رہ سکتا ہے ۔
اس قدر بھاری ٹیکسز کے باوجود لوگ یہاں خوشحال اور مطمئن ہیں ۔گورنمنٹ کے تمام نافذ کردہ ٹیکسز بخوشی ادا کرتے ہیں ۔کاروبار اور سرمایہ کاری کرنا بہت آسان ہے ۔لوگوں کی خاطر خواہ آمدن ہے۔ زندگی کی سب آسائشیں اور سہولتیں دستیاب ہیں ۔متمول اور آسودہ حال ہونے کے باوجود فضول خرچی اور وقت کے ضیاع سے لوگ اجتناب کرتے ہیں ۔ نظم و ضبط صرف دفتروں تک محدود نہیں سڑکوں اور گھروں میں بھی نظر آتا ہے ۔پابندی وقت ان کا قومی شعار ہے۔ صبح سات بجے کے بعد خال ہی کوئی کام والا فرد آپ کو بستر پہ ملے ۔ یہاں دن بڑا طویل ہوتا ہے ۔ شام کہیں ساڑھے دس بجے کے قریب جا کر ہوتی ہے ۔ پھر بھی مارکیٹیں چھ بجے بند ہو جاتی ہیں ۔ کاروبار بند کر کے لوگ گھروں کو لوٹ جاتے ہیں ۔ کنبے کے ہر بالغ فرد کے پاس چھوٹی بڑی کار ہے ۔لیکن اکثر سائیکل کی سواری ہی پسند کرتے ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ سائیکل سواری کا رواج ڈنمارک میں ہے ۔ شاہرائوں پر گاڑیوں سے زیادہ سائیکلیں دوڑتی نظر آتی ہیں ۔وزیراعظم کی سطح کی شخصیات بھی سائیکل بڑے فخر سے استعمال کرتی ہیں ۔ جس سے صرف پٹرول کی بچت ہی نہیں بلکہ جسمانی طور پہ بھی لوگ خود کو فٹ رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ شہر کی فضا بھی آلودہ ہونے سے بچتی ہے ۔ سب سے بڑھ کے انسانی نفسیات پر اس کا بڑا مثبت اثر ہوتا ہے ۔ہمارے ہاں کی طرح سائیکل غریب کی سواری سمجھا جاتا ہے اور نہ اس کے استعمال سے احساس کمتری ہوتا ہے ۔
احساس کمتری یا برتری کامرض ویسے بھی ان ملکوں میں ہوتا ہے جہاں طبقاتی تفریق ہوتی ہے ۔ یہاں کوئی بڑا نواب ہے نہ مزارع ۔ نہ خاص اور عام کا کوئی تصور ہے۔ صنعت وحرفت اور محنت کا کوئی بھی شعبہ کم تر نہیں گرداناجاتا ۔ ان سے جڑے افراد کا رتبہ بلند یا پست نہیں سمجھا جاتا ۔ اسی لئے یہ لوگ سادہ اور بچت سے عبارت لائف سٹائل اپنانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے ۔ گھروں میں دستیاب پانی بڑا مہنگا ہوتا ہے ۔اس کا بل بھی زیادہ آتا ہے ۔ اس کی بچت بارے سرکاری ہدایات بھی موجودہیں ۔جن کے پیش نظر کارخانوں میں سینٹری کا سامان ایسا ڈیزائن کیا جاتا ہے جس سے آبی بچت میں آسانی ہو ۔خاص طور پر واش روم میں لگے شاور اور ٹوٹیوں کے ساتھ خاص سٹاپر لگائے جاتے ہیں جن سے چند سیکنڈ چلنے کے بعد پانی خود بخود رک جاتا ہے ۔ پانی کی بچت کی قومی عادت کا یہ عالم ہے کہ جگہ جگہ بارش کا پانی جمع کرنے کے لئے جوہڑ بنے ہوئے ہیں، جو فصلوں اور پودوں کی آبیاری کے لئے استعمال ہوتے ہیں ۔ جس کی بدولت سبزہ اور ہریالی ہر طرف نظر آتی ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی اور سائنسی ایجادات کے تصرف کے باعث دنیا میں انرجی کے مسائل بڑھ رہے ہیں ۔ ڈنمارک میں ایسے مسائل کا بڑی خوبصورتی سے آسان اور قابل عمل حل ڈھونڈ رکھا ہے ۔ گھروں میں قدرتی روشنی کے لئے خاص طرز کی کھڑکیاں اور دروازے نصب کیے جاتے ہیں ۔ دن کے وقت آپ کو بجلی کے بلب روشن کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہوتی ۔اس کے علاوہ بل بھی کم آتا ہے ۔ ڈنمارک کے متعلق چند اچھی چیزیں شئیر کرنے کا مقصد قارئین کو یہ بتانا ہے کہ صرف بڑے بڑے منصوبوں سے ترقی یافتہ ملکوں نے یہ مقام حاصل نہیں کیا اس میں چھوٹے چھوٹے کاموں کا بھی بڑا حصہ ہے ۔ سنجیدگی اور نیک نیتی سے ہم بھی اگر ان پر توجہ دیں تو بہت سارے مسئلے حل ہو سکتے ہیں۔ ڈنمارک کے جن حقائق کا میں نے ذکر کیا ہے ہم بالکل اس کے برعکس کر رہے ہیں ۔ جس سے معاشی ترقی کے ساتھ ہماری نفسیاتی صحت بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے ۔
کاش ہم بحیثیت قوم ان حقائق کی طرف توجہ دے کر قومی و ذاتی زندگیوں کو مفلسی کی زنجیروں سے نجات دلا سکیں۔ قائد اعظم جیسا اک راہنما چاہئے جو خزاں کے پتوں کی طرح بکھرے لوگوں کو قوم کی لڑی میں پرو سکے ۔ ذاتی مثال سے سب کو اپنے نقش پا پہ چلنے کے لئے مائل و مرغوب کر سکے۔ ایسا ہوجائے تو مجھے پورا یقین ہے ہم دنیا کی اک بہترین قوم اور ملک بن سکتے ہیں ۔