Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

سیرۃ النبیﷺ اور غیر مسلموں کے حقوق

(گزشتہ سے پیوستہ)
کافروں کی تیسری قسم منافقین مدینہ کی تھی جن کے بارے میں قرآن مجید کا ارشاد ہے ’’ومن الناس من یقول اٰمنّا باللہ وبالیوم الاٰخر وما ھم بمؤمنین‘‘ (سورہ البقرہ ۸) بعض لوگ ایمان کا دعوٰی تو کرتے ہیں لیکن وہ مومن نہیں ہیں۔ ’’وما ھم بمؤمنین‘‘ کا فتوٰی آج کے کسی دارالافتاء کا نہیں تھا بلکہ مفتی اعظم اللہ تعالیٰ کا فتویٰ تھا۔ کافروں کی اس قسم کے ساتھ مدنی دور کے دس سال واسطہ رہا، ان کے ساتھ آپؐ کا طرز عمل بالکل مختلف تھا۔ شرارت تو یہ ہر موقع پر کرتے رہے، کیا کیا شرارتیں انہوں نے نہیں کیں۔ احد کے موقع پر بغاوت کی، (مسجد ضرار بنائی، حضورؐ کو قتل کرنے کے لیے گھات لگائی)، اور ام المؤمنین حضرت عائشہؓ پر تہمت سے بڑی کوئی شرارت ہو سکتی ہے؟ لیکن جناب نبی کریمؐ نے برداشت کیا، عبد اللہ بن ابی سامنے بیٹھا تھا۔ حضرت سعد بن معاذ نے کہا یارسول اللہؐ اجازت ہو تو اس کو قتل کر دوں؟ فرمایا، نہیں۔ چنانچہ آپؐ نے منافقین سے محاذ آرائی نہیں کی، لڑائی نہیں کی۔ محارب کفار کے ساتھ دس سالہ مدنی دور میں حضورؐ کی ستائیس جنگیں ہوئی ہیں جو سال کی اوسطًا تین جنگیں بنتی ہیں، ہر چار مہینے بعد لڑائی، لیکن منافقین کے ساتھ ایک جنگ بھی نہیں لڑی۔ یہ گھر میں بیٹھے ہوئے کافر جن کو ’’وما ھم بمؤمنین‘‘ فرمایا گیا اور جن کے متعلق حکم ہوا ’’یا ایھا النبی جاھد الکفار والمنافقین واغلظ علیھم‘‘ (سورہ التوبہ ۷۳) اے نبیؐ! کافروں سے بھی جہاد کرو اور منافقوں سے بھی جہاد کرو، اور ان پر سختی کرو۔ میں یہاں ایک سوال کیا کرتا ہوں کہ کافروں سے تو حضورؐ نے ستائیس جنگیں لڑی ہیں، منافقوں سے کون سی جنگ لڑی ہے؟ کسی ایک منافق کو قتل بھی ہونے دیا ہے؟ حضرت عمرؓ بار بار اجازت مانگتے کہ مجھے اجازت دیں میں اس منافق کی گردن اتار دوں، حضرت خالد بن ولیدؓ نے تلوار نکال کر اجازت مانگی کہ اس منافق کی گردن میں اتارتا ہوں، لیکن آپؐ نے اجازت نہیں دی۔ اس قسم کے کافروں کے ساتھ حضورؐ کا الگ طرز عمل تھا۔ احد کی جنگ میں ایک ہزار میں سے سات سو میدان میں رہے، تین سو منافق غداری کر کے واپس آگئے تھے۔ گویا احد کی جنگ کے موقع پر منافقین اور مومنین کا تناسب تیس اور ستر فیصد تھا۔ بعد میں مسلمانوں کی اس پر آپس میں بحث ہوئی کہ ان منافقوں کے ساتھ لڑنا چاہیے یا نہیں۔ بعض کا کہنا تھا کہ نہیں لڑنا چاہیے، اللہ تعالٰی نے فرمایا ’’فمالکم فی المنافقین فئتین واللہ ارکسھم بما کسبوا‘‘ (سورہ النساء ۸۸) تمہیں ان سے لڑنے کی کیا ضرورت ہے، تم چھوڑو میں خود سنبھال لوں گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ کلمہ گو کافروں کے ساتھ معاملہ الگ ہوتا ہے۔ میں کہا کرتا ہوں کہ جناب نبی کریمؐ نے ان منافقین سے بھی جنگ لڑی ہے لیکن تلوار کی نہیں بلکہ حکمت عملی کی جنگ لڑی ہے۔ حکمت عملی کے ساتھ ان کو بے اثر کر دیا۔ حضورؐ نے ان سے جنگ نہ لڑنے کی وجہ بھی خود بیان فرمائی ہے۔ بخاری کی روایت ہے، حضرت عمرؓ نے کسی موقع پر منافق کی گردن اڑانے کی اجازت چاہی تو حضورؐ نے اجازت نہیں دی اور فرمایا کہ لوگ یہ کہیں گے کہ محمد نے تو اپنے ساتھیوں کو بھی قتل کرنا شروع کر دیا ہے، یہ بات اسلام کی دعوت میں رکاوٹ بنے گی۔ لوگ تو انہیں مسلمان سمجھتے ہیں کہ یہ کلمہ پڑھتے ہیں اور ہمارے ساتھ نماز پڑھتے ہیں۔ حضورؐ نے دس سال میں کسی ایک منافق کو قتل نہیں ہونے دیا لیکن انہیں مورچہ بھی نہیں بنانے دیا، اپنے خلاف محاذ نہیں بنانے دیا۔ منافقین نے مسجد ضرار کی شکل میں خفیہ مورچہ بنانا چاہا جو آپؐ نے نہیں بنانے دیا۔ ’’والذین اتخذوا مسجدًا ضرارًا وکفرًا وتفریقًا بین المؤمنین وارصادًا لمن حارب اللہ ورسولہ من قبل‘‘ (سورہ التوبہ ۱۰۷)۔ آپؐ نے محاذ اور مورچہ بھی منافقین کو نہیں بنانے دیا، محاذ آرائی اور لڑائی بھی نہیں کی، قتل بھی نہیں کرنے دیا۔ تین سو آدمیوں کی میدان جنگ سے غداری برداشت کی، حضرت عائشہؓ پر تہمت جیسی بات بھی برداشت کی، اجتماعی کوئی ایکشن نہیں لیا، مسجد ضرار نہیں بنانے دی بلکہ گرا دی لیکن بنانے والوں کے خلاف ایکشن نہیں لیا، البتہ اپنے ساتھ اعتماد میں بھی نہیں لیا اور ان کو کوئی حیثیت اختیار نہیں کرنے دی۔ یہ بڑی خوفناک سزا ہوتی ہے کہ مقابلے پر بھی نہیں آنے دینا اور ساتھ بھی نہیں ملانا۔ جس کو شاعر نے کہا
ہم تو دشمن کو بھی کچھ ایسی سزا دیتے ہیں
ہاتھ اٹھاتے نہیں، نظروں سے گرا دیتے ہیں
منافقین کے ساتھ حضورؐ کی دس سالہ حکمت علمی کا خلاصہ یہی ہے۔ اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ احد میں ہزار میں سے تین سو تھے یعنی تیس فیصد۔ لیکن جب حضورؐ دنیا سے رخصت ہوئے تو صرف تیرہ چودہ منافق تھے۔ تبوک سے واپسی پر انہوں نے حضورؐ کا راستہ روکا تھا جو چہرے لپیٹے ہوئے تھے، حضورؐ کو شہید کرنا چاہتے تھے، ناکام ہوگئے۔ اس وقت حضورؐ کے ساتھ صرف حضرت حذیفہؓ تھے ان کو حضورؐ نے ان سب کے نام بتائے، اس شرط پر کہ ان کے نام کسی اور کو نہیں بتانے۔ تو اس وقت بظاہر یہ چودہ منافق رہ گئے تھے جن کا علم صرف حضرت حذیفہؓ کو تھا اور کسی کو ان کا پتہ بھی نہیں تھا۔ حضرت عمرؓ نے حذیفہؓ پر بہت زور لگایا کہ مجھے ان کے نام بتائیں۔ کوئی علامت، نشانی، کوئی اشارہ ہی دے دیں۔ حضرت حذیفہؓ نے کہا، رسول اللہ سے وعدہ کیا ہوا ہے، آپ کو کیسے بتا سکتا ہوں۔ حتٰی کہ حضرت عمرؓ کا معمول بن گیا تھا کہ کسی عام آدمی کا جنازہ ہوتا تو جنازہ گاہ میں جاتے، وہاں دیکھتے کہ حضرت حذیفہؓ جنازے میں ہیں یا نہیں، اگر وہ موجود ہوتے تو تسلی سے جنازہ پڑھاتے، ورنہ واپس آجاتے اور جنازہ نہ پڑھاتے، بلکہ کہتے خود ہی پڑھ لو اس لیے کہ مبادا یہ ان چودہ منافقین میں سے نہ ہو۔ یہ تھی آپؐ کی حکمت عملی جس کی بنا پر منافقین کو سوسائٹی میں غیر مؤثر کر کے دھیرے دھیرے سے ایسے غائب کیا کہ نظر بھی نہیں آئے کہ کدھر گئے، اس کو کہتے ہیں ڈپلومیسی اور حکمت عملی کی جنگ۔جناب نبی کریمؐ کو ان تین قسم کے کافروں سے واسطہ رہا۔ محارب کافروں سے حضورؐ نے مقابلہ کیا اور آخر تک شکست دی۔ غیر محارب کافروں سے آپؐ نے معاہدے بھی کیے، صلح بھی کی، اکٹھے بھی رہے۔ جبکہ کلمہ گو کافروں کو نہ محاذ آرائی کرنے دی اور نہ ان کو اپنی صفوں میں جگہ دی، ان کو حکمت عملی کے ساتھ ناکام بنایا۔ چنانچہ خلفاء راشدین کے پورے زمانے میں کسی ایک آدمی کا سراغ بھی نہیں ملتا جسے منافقین میں شمار کیا جائے۔ اس دور میں منافقین کا کوئی واقعہ منقول نہیں ہے۔ آپؐ نے منافقین کو کیسے صاف کیا، اس طرح کہ وہ سارے مسلمان ہو گئے، حضورؐ کے طرز عمل کے باعث اسلام لے آئے۔ حضورؐ نے ایسے حالات پیدا کر دیے کہ وہ سب معاشرے میں تحلیل ہوگئے اور ان کا وجود ختم ہو گیا۔ آج میں نے یہ بیان کیا کہ حضورؐ کو تئیس سالہ دور نبوی میں تین قسم کے کافروں کا سامنا کرنا پڑا اور تینوں قسموں کے ساتھ حضورؐ کا معاملہ الگ الگ تھا۔

یہ بھی پڑھیں