معاشی بحالی کے لئے سی پیک جیسے اہم منصوبے کی اہمیت مسلمہ ہے۔ یہ منصوبہ کئی اعتبار سے منفرد خصوصیت کا حامل ہے ۔ دہائیوں پہ محیط مثالی پاک چین سفارتی تعلقات کی ایک جہت اس عظیم منصوبے سے عیاں ہوتی ہے۔ پاکستان کے تشویش ناک معاشی بحران پہ قابو پانے کے لئے برادر ملک چین نے جس انداز میں سی پیک کی صورت دست تعاون دراز کیا اس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ اس کے علاوہ علاقائی سلامتی کی پیچیدہ بساط پہ سی پیک جیسا اہم منصوبہ پاک چین تزویراتی اتحاد و یکسوئی کی مضبوط علامت بن کر ابھرا ہے۔ بدقسمتی سے گذشتہ برسوں کے دوران سیاسی عدم استحکام سے ملکی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ کئی کالمز میں سیاسی قیادت کے ان غیر سنجیدہ اقدامات کی نشاندہی کی جا چکی ہے جن کی بدولت مالیاتی غیر یقینی اور ابہام میں اضافہ ہوا۔ یہ امر نہایت تشویش کا باعث رہا کہ سابق حکمراں جماعت کے دور میں سی پیک جیسے اہم منصوبے پہ خاطر خواہ توجہ نہیں دی جا سکی۔ دوسری جانب پاکستان دشمن قوتوں نے ملک میں عدم استحکام اور معاشی بحران کی آگ بھڑکانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رکھا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ چین اور پاکستان کے درمیان استوار ہونے والے ہمہ جہت تعلقات ازلی دشمن بھارت کی آنکھ میں کانٹا بن کر کھٹکتے ہیں۔ آج سے لگ بھگ دس برس قبل پہلی مودی حکومت کی وزیر خارجہ آنجہانی سشما سوراج نے سی پیک منصوبے کی علی الاعلان مخالفت کرتے ہوئے بھارت کے بے بنیاد تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ یہ من گھڑت تحفظات دراصل بھارت کے فطری خبث باطن اور تخریب کارانہ طرز عمل کا منہ بولتا ثبوت تھے۔
بھارتی وزیر خارجہ نے پارلیمان میں تقریر کے دوران یہ بے بنیاد اعتراض داغا کہ سی پیک اس متنازعہ علاقے سے گزرتا ہے جو دراصل ہندوستان کا حصہ ہے لیکن اس وقت پاکستان کے قبضے میں ہے۔ سفارتی سطح پہ پاکستان اور چین کی جانب سے گاہے بگاہے بھارت کے فسادی موقف کا دو ٹوک جواب دیا جاتا رہا ہے۔ تاہم یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ بھارت سی پیک منصوبے کی تکمیل کی راہ میں مسلسل روڑے اٹکانے میں مصروف ہے۔ ایک جانب اس نے چین سے سرحدی تنازعے کو عسکری جھڑپوں کی سطح تک پہنچا دیا ہے اور خطے میں مہلک ہتھیاروں کی دوڑ میں تشویشناک حد تک تیزی پیدا کر دی ہے ۔ دوسری جانب پاکستان مخالف فسادی مسلح گروہوں کی پشت پناہی کر کے ملک کے طول و عرض میں دہشت گردی کی آگ بھڑکانے کا عمل تیز کر دیا ہے۔ بلوچستان بھارتی دہشت گردی کا اولین ہدف ہے۔ صوبے کے پسماندہ علاقوں میں ترقی کا عمل سبوتاژ کر کے بھارتی پروردہ دہشت گرد انارکی ، بے یقینی اور ریاست کے خلاف نفرت پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سی پیک کی تکمیل دراصل بھارتی منصوبوں کی بربادی ہے۔ اگر بلوچستان میں امن و امان قائم ہو جائے ، روزگار کے وافر مواقع دستیاب ہوں ، نوجوان ہتھیار کے بجائے قلم کتاب تھام لیں اور بنیادی انسانی سہولیات کی فراہمی کے ذریعے عوام کا معیار زندگی بلند ہو جائے تو بھارتی پروردہ دہشت گردوں کے پاس سادہ لوح نوجوانوں کو ریاست کے خلاف اکسانے یا بہکانے کے لئے کوئی جواز میسر نہیں رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت ایڑی چوٹی کا زور لگا کر دہشت گردی کے ذریعے بلوچستان میں سی پیک منصوبے کو سبو تاژ کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ جارحیت پہ مائل بد نیت ہمسائے کی سازشوں سے نبٹنے کے لئے قومی یکجہتی کی اشد ضرورت ہے۔
یہ افسوس ناک امر ہے کہ سیاسی تفریق اہم قومی مفادات کے حصول میں رکاوٹ پیدا کر رہی ہے۔ اسی اہم امر کی جانب چینی وزیر لیو جیان چیائو نے بھی نشاندہی کی ہے۔ سی پیک پہ پاک چین مشاورتی میکانزم کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چینی وزیر نے سیاسی یکجہتی ، قومی اداروں میں اشتراک عمل اور سیکیوریٹی خطرات کے خلاف موثر حکمت عملی کی افادیت پہ زور دیا ۔ صد شکر کے حکومت کے ساتھ حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے اس اہم اجلاس میں مثالی یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شرکت بھی کی اور مثبت خیالات کا اظہار بھی کیا ۔ ماضی میں یکجہتی کے فقدان کی بدولت ملک دشمن عناصر کو تخریب کاری اور پروپیگنڈے کے ذریعے سی پیک منصوبے میں خلل ڈالنے کے مواقع ملتے رہے۔ چند روز قبل وفاقی وزیر احسن اقبال نے سی پیک منصوبے اور پاک چین تعلقات کے خلاف ایک بڑی سیاسی جماعت کی منفی مہم پہ تنقید کی ہے ۔ مغربی میڈیا میں بھی اس حوالے سے حقائق کے برعکس مواد شائع کیا گیا ہے۔ غیر ملکی خصوصی مغربی میڈیا میں چین کے خلاف مخاصمانہ جذبات کا جانبدارانہ اظہار ایک معمول کی بات بن چکا ہے۔ تاہم پاکستان میں کسی سیاسی جماعت کے حامیوں کی جانب سے منفی مہم جوئی ایک قابل مذمت فعل ہے۔ ماضی قریب میں سعودی عرب جیسے اہم ملک کے حوالے سے بھی ایک جماعت کے بڑبولے ترجمان نے نہایت غیر سنجیدہ بیان بازی کے ذریعے سفارتی تعلقات کو دھچکا پہنچایا تھا۔ اس طرز سیاست کو فوری ترک کر تے ہوئے تمام جماعتیں اپنی صفوں کو انتشار پسند عناصر سے پاک کریں ۔ پاک چین مشاورتی اجلاس کے موقع پہ جس سیاسی یکجہتی کا مظاہرہ کیا گیا وہ قابل تحسین ہے۔ امید ہے کہ سیاسی جماعتیں دیگر قومی مسائل پہ بھی مثبت سیاسی طرز عمل اپنا کر کھویا ہوا سیاسی استحکام بحال کرنے میں اپنا کردار ادا کرتی رہیں گی۔