جونہی دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن اقدامات اٹھانے کے لئے حکومت پاکستان نے آپریشن عزم استحکام کا اعلان کیا تونہی بعض عناصر نے روایتی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تنقیدی موقف اپنا لیا ہے۔ یہ امر شک سے بالا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پہ پاکستان دشمن کالعدم دہشت گرد تنظیمیں پوری آزادی سے دندناتی پھر رہی ہیں ۔ حالیہ دہشت گردی کی لہر کا واضح ہدف پاکستان کی داخلی سلامتی ، معاشی استحکام اور عالمی ساکھ ہے ۔ دہشت گردی کے عفریت کا سر کچلے بنا دیرپا امن کی بحالی ممکن نہیں ۔ ماضی میں دہشت گردی کے خلاف اعصاب شکن جنگ میں ریاست پاکستان کا پلہ بھاری رہا ۔ یہ قوم ان عظیم شہداء کی مقروض ہے جن کے مقدس لہو کے بدلے وطن عزیز میں امن کے دیپ روشن ہوئے۔ یہ امر تاحال فہم سے بالا ہے کہ فرار ہونے والے دہشت گردوں کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں کیسے دستیاب ہوئیں ؟ کابل کے حکمران اور نیٹو افواج پاک افغان سرحد سے مفرور دہشت گردوں کی نقل و حرکت کیوں نہ روک پائیں ؟ امریکہ بہادر اور نیٹو افواج کو افغانستان سے رخصت ہوئے ایک مدت گذر چکی ہے ۔ حامد کرزئی اور اشرف غنی جیسے مرغ دست آموز بھی قصہ ماضی بن چکے ہیں ۔ آج افغانستان پہ طالبان راج ہے۔ یہ ایک ایسی حکومت ہے جو کسی انتخابی عمل یا عوامی شورائیت کے نتیجے میں وجود میں نہیں آئی۔ لگ بھگ تین برس قبل اشرف غنی حکومت کا یکلخت دھڑن تختہ ہوا اور طالبان نے نہایت معنی خیز انداز میں کابل سمیت افغانستان پہ اقتدار قائم کر لیا ۔ تاحال دنیا کے کسی ملک نے طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا ۔ پاکستان میں بعض خوش فہم طبقات یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان سے سرحد پار دہشت گردی کا سلسلہ تھم جائے گا ۔ لیکن ہوا اس کے برعکس ۔ آج حالت یہ ہے کہ طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان میں سرحد پار دہشت گرد حملوں میں تیزی پیدا ہو چکی ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا اس دہشت گردی کے اولین ہدف بنے ہوئے ہیں ۔ آئے روز فوج ، ایف سی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پہ دہشت گرد حملے کئے جارہے ہیں ۔ پاکستان نے متعدد مواقع پہ سفارتی ذرائع اور وفود کے ذریعے افغان عبوری حکومت کو اپنے جائز تحفظات سے آگاہ کیا ہے۔ بدقسمتی سے طالبان حکومت پاکستان کی سلامتی کے بجائے کالعدم دہشت گردوں کے تحفظ کی جانب مائل رہی ہے۔ دہشت گردی کے واقعات میں تشویشناک حد تک تیزی آچکی ہے۔ دہشت گرد بار بار تزویراتی اہداف پہ حملہ آور ہو کر پاکستان کی علاقائی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں ۔ ان حملوں کے نتیجے میں بیرونی سرمایہ کاری کا عمل بھی متاثر ہو رہا ہے۔ یہ سب ایک ایسے وقت ہورہا ہے جبکہ پاکستان بدترین سیاسی عدم استحکام کی دلدل سے نکلنے کے لئے معیشت کی بحالی کے لئے سر توڑ کو ششوں میں مصروف ہے۔ پاک چین معاشی تعلقات کو ٹھیس پہنچانے کے لئے چینی اہلکاروں پہ حملے کئے گئے۔ بلوچستان میں لسانی بنیادوں پہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے محنت کش مزدوروں کی ٹارگٹ کلنگ کی گئی۔ ان بہیمانہ اقدامات کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ بلوچستان میں سی پیک منصوبے کو سبوتاژ کر کے ترقی کا راستہ مسدود کیا جاسکے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے وطن کا دفاع کرنے والے کئی شہداء کے جنازے اٹھائے ہیں ۔ حکومتی سطح پہ یہ تاثر درست ہے کہ دہشت گرد نئے سرے سے صف بندی کر کے ریاست کے تارو پود بکھیرنے کے درپے ہیں ۔ ماضی کی طرح دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کی سرکوبی کے لئے بھرپور فیصلہ کن ریاستی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اپیکس کمیٹی کی حالیہ میٹنگ میں آپریشن عزم استحکام پہ اتفاق رائے ہو چکا ہے۔
مقام افسوس ہے کہ سابق حکمراں جماعت انتشار کی سیاست کا دامن چھوڑنے کو تیار نہیں ۔ خیبر پختونخوا میں اس جماعت کا تیسرا دور حکومت جاری ہے ۔ ماضی میں انسداد دہشت گردی جیسے اہم معاملے پہ کوتاہی کے نتیجے میں صوبہ خیبر پختونخوا آج بھی بدترین دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہے۔ شنید ہے کہ متعدد دہشت گرد گروہ صوبے میں اپنی جڑیں مضبوط کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں ۔ بے بنیاد تنقید کے بجائے سیاسی یکجہتی کی فضا بنا کر دہشت گردی کے خلاف عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ مرکز میں حزب اختلاف کا علم تھامنے والی جماعت جس صوبے میں حکمراں ہے وہاں گزشتہ دس برس کے عہد اقتدار میں انسداد دہشت گردی کے معاملے پہ سنگین کوتاہیاں برتی گئیں ۔ حالات کا تقاضا ہے کہ سنجیدگی کی روش اپنا کر ملکی سلامتی کو لاحق خطرات کا موثر تدارک کیا جائے۔ باہمی تفریق ازلی دشمن بھارت اور اس کے پروردہ دہشت گرد گروہوں کو فائدہ پہنچائے گی۔ فوج پہ تنقید کے تیر برسانے والے اس حقیقت کو کیوں نظرانداز کر رہے ہیں کہ صوبائی حکومتوں کے ماتحت پولیس اور دیگر اداروں کی کمزوریوں کے باعث انسداد دہشت گردی کا اضافی بوجھ بھی عساکر پاکستان کے کاندھوں پر ہے۔ عزم استحکام آپریشن کی کامیابی کی ذمہ داری تمام اداروں اور طبقہ ہائے حیات کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔