Search
Close this search box.
منگل ,14 جولائی ,2026ء

سیکورٹی سے متعلق چینی حکام کی تشویش بجاہے

ابھی سی پیک کا دوسرا اہم فیز شروع نہیں ہوا ہے۔ لیکن اس سے متعلق سیکورٹی کے حوالے سے خدشات کااظہار چینی حکام کی جانب سے کیاجارہا ہے۔ جوکہ اپنی جگہ بجاہے۔ ماضی قریب میں جس طرح دہشت گردوں نے ایک منصوبے کے تحت شانگلہ ڈسٹرکٹ میں چینی انجینئرز کوبڑی بے دردی سے قتل کیاہے۔ اس کے اثرات نہ صرف چین کی حکومت نے محسوس کئے ہیں بلکہ پاکستان کے ارباب اختیار بھی ایسا ہی محسوس کررہے ہیں ‘ کیونکہ سی پیک کے سیکنڈ فیز کے ذریعے پاکستان کی معیشت خصوصیت کے ساتھ صنعت‘ زراعت ‘ آئی ٹی اور معدنیات میں غیر معمولی ترقی دیکھنے میں آئے گی۔ ظاہرہے کہ پاکستان دشمن طاقتیں اس فیز کو کامیاب ہوتا ہوا نہیں دیکھناچاہتی ہیں‘ بلکہ اس کی راہ میں ایسے روڑے اٹکائے جارہے ہیں کہ یہ فیز کامیابی سے ہمکنار نہ ہوسکے۔ واضح رہے کہ سی پیک کی حفاظت کی ذمہ داری پاکستان کے عسکری اداروں نے لی ہے۔ بلوچستان سمیت پاکستان کے دیگر علاقوں میں ہونے والی دہشت گردی کا مقابلہ عسکری اداروں نے کیاہے اور پہلے فیز کو کامیابی سے مکمل کرنے میں اپنااہم کردار ادا کیاہے۔ پاکستان کے باشعور افراد اس حقیقت سے واقف ہیں۔ خود چین کے اعلیٰ احکام سی پیک کی کامیابی کو عسکری اداروں کی اعلیٰ کارکردگی سے منسوب کرتے ہیں اور اب جبکہ سیکنڈ فیز شروع ہونے والا ہے‘ چینی حکام کو سیکورٹی کے حوالے سے ایک بار پھر تشویش لاحق ہوگئی ہے۔ جس کااظہار ابھی حال ہی میں چین کی کمیونسٹ پارٹی کے ایک اہم رکن مسٹر لیو نے کیاہے۔ انہوں نے موجودہ حکومت کے ذمہ داروں سے ملاقات کرنے کے علاوہ اعلیٰ عسکری اداروں سے بھی ملاقاتیں کی ہیں اور سیکورٹی کے حوالے سے اپنے خدشات کااظہار کیا ہے۔ چین کی کمیونسٹ پارٹی کو اس بات کااحساس و ادراک ہے کہ کچھ بیرونی اور اندرونی طاقتیں سی پیک کے تمام منصوبے کو دہشت گرد ی اور خوف پھیلاکر ناکام بناناچاہتی ہیں۔ ماضی قریب یاماضی بعید میں جن چینی کارکنوں کوقتل کیا گیاہے وہ اس حقیقت کی غمازی کررہے ہیں کہ سی پیک مخالف طاقتیں اپنے مذموم مقاصد میں فعال ہیں بلکہ ہر طرح سے وہ پاکستان اور چین کے مابین اس اہم اقتصادی منصوبے کو ناکام بناکر پاکستان کی معاشی ‘ معاشرتی اور عسکری طاقت کو کمزور کرکے پاکستان کو اپنے ’’ تحت‘‘ لاناچاہتے ہیں۔
تاہم اس ضمن میں وزیراعظم شہباز شریف کا یہ بیان اپنی جگہ بڑی اہمیت کاحامل ہے کہ ’’ ہم نے (حکومت کرنے والوں نے) ہر قسم کی ذمہ داریاں عسکری اداروں کے کاندھوں پر ڈال دی ہیں۔ حالانکہ ہم سب کو ملکر ان ذمہ داریوں سے نمٹناچاہیے چاہے ان کا تعلق دہشت گردی کے انسداد سے ہو یا پھر معیشت کی ترقی اور یا پھر باہمی اتحاد سے ۔ لیکن میرے خیال کے مطابق ہمارے سیاستداں ملک کی حفاظت کیلئے ملک کی معاشی ترقی کویقینی بنانے اور عوام کو پاکستان کے آئین کے تحت بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں ناکام نظرآرہے ہیں۔ ان کے درمیان شدید اختلافات نے جہاں ملک میں فکری‘ ذہنی وتہذیبی انتشار کو جنم دیاہے‘ وہیں ان اختلافات کی وجہ سے ملک دشمن عناصر کو اپنا کھیل کھیلنے کا پورا موقع فراہم کیاہے۔ سیاستدانوں کے مابین اختلافات کی وجہ سے سیاسی عدم استحکام پیدا ہورہاہے۔ سیاسی عدم استحکام پاکستان کے ایک عام آدمی کو متاثر کررہاہے۔ نیز اس کی وجہ سے معیشت ترقی نہیں ہوپارہی اور نہ ہی عوام کے کھانے پینے اور روزگار سے متعلق مسائل حل ہورہے ہیں بلکہ روز افزوں بڑھ رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے معاشرے میں شدید مایوسی پھیل رہی ہے۔ کیا حکومت وقت عوام میں پائی جانے والی مایوسی اور محرومیوں کاازالہ کرپائے گی؟ دراصل موجودہ حکومت جس طرح اقتدار میں آئی ہے۔ اس سے یہ امید وابستہ کرناکہ وہ عوام کو درپیش معاشی اور سماجی مسائل دیرپا بنیادوں پرحل کرپائے گی؟
یہاں یہ بات بھی لکھنا چاہتاہوں کہ کراچی میں ہماری ملاقات ایڈیٹرز کلب کے توسط سے چینی قونصل جنرل سے ہوتی رہتی ہے‘ ان کی باتوں سے بھی سی پیک کے سیکنڈ فیز کے حوالے سے تشویش ظاہر ہوتی ہے جس کا اظہار مختلف اخبارات میں کالموں کی صورت میں ظاہر ہوتارہتاہے۔ مزید برآں چین کے خفیہ ادارے بھی سی پیک کے حوالے سے باخبر رہتے ہیں۔ تاکہ ان عناصر پر کڑی نگاہ رکھی جاسکے جو نہ صرف اس اہم اقتصادی منصوبے کو ناکام بنانے کی سازشیں کررہے ہیں بلکہ چین اور پاکستان دوستی کو بھی متاثرکرناچاہتے ہیں۔ تاکہ پاکستان کی ترقی کو بریک لگ جائے۔ تاہم میں مسٹر لیو کی اس بات سے مکمل اتفاق کرتاہوں کہ جب تک پاکستان میں سیاسی استحکام معر ض وجود میں نہیں آئے گا اس وقت تک نہ تو غیر ملکی سرمایہ پاکستان آئے گی ااور نہ ہی مقامی سرمایہ دار اپنا سرمایہ لگانے میں پیشرفت کریں گے‘ چنانچہ پاکستان اس وقت دوطرح کے شدید نوعیت کے مسائل سیاسی وسماجی مسائل سے گزر رہاہے۔ پہلا سیاسی عدم استحکام اور دوسرا معاشی عدم استحکام‘ اگر ارباب حل وعقد ان دونوں مسائل کو پرامن طریقے سے حل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو پھر سی پیک کے سکینڈ فیز کی کامیابی یقینی ہے ورنہ آئندہ مشکلات کا عفریت پاکستان کو مزید کمزور کرنے کا باعث بن سکتاہے۔ اس صورتحال کی ذمہ داری ان تمام افراد پر عائد ہوتی ہے جو بلاواسطہ یابل واسطہ حکومت کررہے ہیں۔ ذراسوچیئے!

یہ بھی پڑھیں