Search
Close this search box.
منگل ,14 جولائی ,2026ء

بلوچستان میں خوارج ، بی ایل اے اور را کا نیٹ ورک بے نقاب

یہ تاثر درست ہے کہ پاکستان کا وجود بھارت کے لئے ایک ناقابل قبول حقیقت ہے۔ چار سو سے زائد نشستیں جیتنے کے لئے مودی سرکار نے پاکستان دشمنی کا کارڈ انتخابی مہم میں کئی مرتبہ کھیلا۔ راج ناتھ سنگھ نے رعونت بھرے انداز میں دشمن ملک یعنی پاکستان کی سرزمین پہ قتل و غارت کی اعترافی دھمکی دی۔ انتخابی مہم میں ووٹرز کو جھانسا دینے کے لئے نریندر مودی پاکستان کے متعلق تضحیک آمیز بیانات داغتے رہے۔ ان اوچھے ہتھکنڈوں کے باوجود چار سو سے زائد نشستیں جیتنے کا خواب چکنا چور ہوا اور بدقت تمام نریندر مودی تیسری بار وزیراعظم بننے میں کامیاب ہوئے۔
اس تمہید کا مقصود بھارت کی داخلی سیاست نہیں بلکہ پاکستان دشمنی کا وہ جذبہ ہے جو ریاستی پالیسی کا لازمی جزو بن چکا ہے۔ یہ مبالغہ نہیں بلکہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ بھارت سرحد پار دہشت گردی کے ذریعے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ اس مذموم مقصد کی تکمیل کیلئے بھارتی ریاستی عناصر تکفیری خوارج اور نام نہاد نسل پرست علیحدگی پسند دہشت گردوں کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ کالعدم ٹی ٹی پی کے گرفتار شدہ کمانڈر نصراللہ عرف مولوی منصور کے حالیہ اعترافی انکشافات نے بھارت کے دجل و فریب کا پردہ چاک کر دیا ہے۔
بلوچستان کے وزیر داخلہ کی پریس کانفرنس کے دوران میڈیا کے سامنے پیش کئے گئے نصراللہ کے اعترافی بیان کا ہر انکشاف چشم کشا ہے۔ ایک مرتبہ پھر ثابت ہوا ہے کہ دہشت گردی کی لہر کے پیچھے بھارتی سرمایہ ، سازشی ذہنیت اور عملی معاونت کار فرما ہے۔ سی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنے کے لئے بلوچستان میں تزویراتی اہداف اور چینی شہریوں پر حملے کروائے گئے ۔ کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مجید بریگیڈ جیسی دہشت گرد تنظیموں کے درمیان فسادی اتحاد قائم کروا کر بلوچستان میں دہشت گردی کا زیر زمین وسیع نیٹ ورک منظم کیا گیا۔ جہاد کے نام پہ فساد اور قوم پرستی کی آڑ میں مجرمانہ سرگرمیوں کو فروغ دیا جا تا رہا۔ دہشت گرد گروہوں کے سرغنہ افغانستان کی سرزمین پہ بھارت کے فراہم کردہ عشرت کدوں میں بیٹھ کر پاکستان دشمن سرگرمیوں کی آگ بھڑکانے میں مصروف ہیں۔ بدنام زمانہ بھارتی ایجنسی را کے اہلکاروں سے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے نام نہاد کمانڈر افغانستان میں مسلسل ملاقاتیں کر کے دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کرتے رہے ہیں۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ افغان طالبان کے بعض با اثر عناصر ان پاکستان دشمن سرگرمیوں میں ہر طرح کی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔
یہ پہلو نہایت غور طلب ہے کہ بظاہر مذہب کا لبادہ اوڑھنے والے ٹی ٹی پی کے خارجی دہشت گرد گروہ کا اتحاد ایسے نام نہاد بلوچ نسل پرست علیحدگی پسند و ں سے قائم تھا جن کے نظریات میں دور دور تک کی مذہب کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ غیر فطری اشتراک عمل درحقیقت اس بات کا ثبوت ہے کہ ان دہشت گرد گروہوں کے سر پرست اور آقا بھارتی ریاستی عناصر ہیں۔ نصراللہ عرف مولوی منصور نے اعتراف کیا کہ بلوچستان میں تمام دہشت گرد سرگرمیوں کا اصل مقصد پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنا تھا۔ یہ انکشاف نہایت حیران کن تھا کہ بی ایل اے کے دہشت گرد اغوا برائے تاوان سمیت بلوچستان میں سنگین جرائم کے ذریعے لوٹ مار میں بھی ملوث ہیں ۔ مغوی بلوچوں سے تاوان وصول کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں لا پتہ افراد کی فہرست میں شامل کر کے ایک جانب تو ریاستی اداروں پہ کیچڑ اچھا لا جاتا ہے اور دوسری جانب مغربی ممالک میں انسانی حقوق کی پامالی کا واویلا مچا کر بھارتی تعاون سے ہمدردیاں بٹورنے کی کو شش کی جاتی ہے۔ گمراہ کن مذہبی تشریحات کے جال میں پھنسنے والے نوجوانوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے یہ انکشاف کافی ہے کہ دہشت گرد کمانڈر نور ولی نہ صرف یہ کہ بھارتی ایجنسیوں سے مال بٹور رہا ہے بلکہ غیر محسود پشتونوں کو خودکش حملوں میں ہلاک کروا کر اپنے بال بچوں اور عزیزوں کے ساتھ بھارتی عشرت کدوں میں محفوظ زندگی گذار رہا ہے۔ نصراللہ نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ بلوچستان میں مجرمانہ اجارہ داری قائم رکھنے کے لئے بی ایل اے کے دہشت گردوں نے مخبری کر کے ٹی ٹی پی کے کمانڈروں اور سر کردہ دہشت گردوں کو گرفتار کروایا۔
پاکستان کے خفیہ ادارے اور انسداد دہشت گردی کے آپریشنز میں حصہ لینے والے افواج پاکستان کے تمام اہلکار خراج تحسین کے مستحق ہیں ۔ کابل سے گوادر تک پھیلے منظم دہشت گرد نیٹ ورکس کو بے نقاب کر کے ایک مرتبہ پھر پاکستانی انٹیلی جنس اداروں نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا لوہا منوا لیا ہے۔ ایک مرتبہ پھر بھارت کی ریاستی دہشت گردی دنیا کے سامنے آشکار ہوئی ہے۔ ایک جانب مودی سرکار نام نہاد سیکولر جمہوریہ کو ہندو راشٹر بنانے کے لئے ہر حربہ استعمال کر رہی ہے۔ تو دوسری جانب پاکستان میں براستہ افغانستان دہشت گردوں کی سر پرستی کرکے پورے خطے کے امن کو برباد کر رہی ہے۔ ایک مرتبہ پھر پاکستانی خفیہ اداروں نے بھارتی پروردہ سانپوں کا سر کچل دیا ہے۔ بلوچستان میں بھارتی سرمایہ کاری ڈوبنے سے دہلی میں صف ماتم بچھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں