بی جے پی کی بھارتی حکومت حق خودارادیت کے حصول کی منصفانہ جدوجہد میں مصروف کشمیریوں کیخلاف کریک ڈائون میں تیزی لانے کیلئے اسرائیل اور جرمنی سے جدید ترین ہتھیار حاصل کرے گا۔
بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر کے پولیس چیف آر آر سوائن نے کٹھوعہ کے علاقے ہیرا نگر میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کشمیری آزادی پسند کارکنوں کا مزید موثر طریقے سے مقابلہ کرنے کے لیے اسرائیل اور جرمنی سے جدید ہتھیار خریدے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور جرمنی سے اسلحے کی نئی خریداری سے عسکریت پسندوں سے بہتر انداز میں نمٹنے میں مدد ملے گی۔
بھارت پہلے ہی مقبوضہ جموں وکشمیر میں اسرائیلی طرز کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور وہ کشمیریوںکو ان کے گھروں ، زمینوں اور دیگر املاک سے محروم کرنے کیلئے وہی ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے جو اسرائیل نے فلسطین میں اپنا رکھے ہیں۔نریندر مودی کی زیر قیادت بی جے پی کی فرقہ پرست بھارتی حکومت نے امر ناتھ یاترا کی حفاظت کے نام پر مقبوضہ جموں وکشمیر میں مزید فورسز اہلکار تعینات کر دیئے ہیں۔ اس اقدام کا اصل مقصد جدوجہد آزادی میں مصروف کشمیریوں میں خوف و ہراس پیدا کرنا ہے‘ مزید فورسز اہلکار یاترا کے دونوں راستوں پر تعینات کیے گئے ہیں۔ 100 سے زائد کمپنیاں پہلگام کے راستے جبکہ 90 کمپنیاں بالٹل کے راستے پر تعینات کی گئی ہیں‘ مقبوضہ علاقے میں پہلے ہی دس لاکھ کے لگ بھگ بھارتی قابض فورسز اہلکار تعینات ہیں اور علاقہ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا فوجی تعیناتی والا خطہ سمجھا جاتا ہے۔مودی حکومت نے کشمیری مسلمانوں کے سیاسی ، معاشرتی ، معاشرتی حتی کہ دینی حقوق بھی سلب کررکھے ہیں، انہیںجمعہ کی نمازوںکی ادائیگی سے روکا جاتا ہے ، اور محرم الحرام کے جلوس نکالنے کی بھی اجازت حاصل نہیں جبکہ امر ناتھ یاتریوں کو تمام سہولیات بہم پہنچائی جاتی ہیں ۔
بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی انتظامیہ نے ضلع اسلام آباد میں ایک مسلمان نائب تحصیلدار کو ہندو امرناتھ یاترا کے دوران ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے پر معطل کر دیا ہے۔ ضلع کے علاقے پہلگام میں تعینات نائب تحصیلدار ہندو یاتریوں کے پہلگام پہنچنے کے وقت چھٹی پر تھے ۔ڈپٹی کمشنر کی طرف سے جاری کردہ معطلی کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ نائب تحصیلدار پہلگام اویس عامرکو بغیر اجازت اسٹیشن سے چلے جانے اور جاری یاترا کو سبوتاژ کرنے پر معطل کیا گیا ۔
بھارت مقبوضہ کشمیر کے عوام پر مظالم کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ تازہ ترین صورتحال میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں محاصرے تلاشی کی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ دارالحکومت سری نگر کے کئی علاقوں کے ہزاروں افراد گزشتہ پانچ ماہ سے موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس سے محروم ہیں۔ انٹرنیٹ سروس کی بندش کے باعث طلباء‘ سرکاری ملازمین شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہے اور ان کو روزمرہ کے کاموں میں سخت مشکلات کا سامناہے۔
بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے بھی مقبوضہ علاقے میںاینمی ایجنٹس آرڈیننس کے نفاذ کے منصوبے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ بھارتی پولیس حکام نے چند روز قبل اعلان کیا کہ وہ کشمیری جو تحریک آزادی کی سرگرمیوں میں ملوث پائے جائیں گے ان کے خلاف اینمی ایجنٹس آرڈیننس کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس قانون کے تحت کسی کی کم از کم سزا پانچ برس قید ہے۔
محبوبہ مفتی نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ عسکریت پسندوں کی مد د کے شبہ میں کسی کے خلاف اینمی آرڈیننس ایکٹ کا نفاذ انتہائی تشویشناک ہے ۔ انہوںنے کہاکہ یہ انصاف و قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے ظالمانہ قوانین کا نفاذ آئین میں درج انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔
بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما رتن لال گپتا نے بھی مقبوضہ علاقے میں جاری بدانتظامی اورناقص حکمرانی پر بھارتیہ جنتاپارٹی کی بھارتی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے ہیرا نگر کٹھوعہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ جموںوکشمیر کا ہر علاقہ اس وقت مسائل و مشکلات کا شکار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوںکو اس وقت کئی چیلنجوں کا سامنا ہے ، پینے کے پانی کی قلت ، بجلی کی عدم فراہمی اور صحت کی دیکھ بال کی ابتر صورتحال نے لوگوں کا جینا مشکل بنا دیا ہے۔